یہ خاتون گزشتہ 13 برس سے مسلسل اس شیشے کے ڈبے میں بند ہے، لیکن کیوں؟

میڈرڈ ہم انسانوں کی فطرت ہے کہ معمولی سی تکلیف بھی آئے تو قدرت کی سب مہربانیوں بھول جاتے ہیں اور ہماری زباں پر صرف شکوہ شکایت ہوتی ہے۔ کاش ایسے میں ہم ان بدنصیبوں کے حال پر بھی ایک نظر ڈال سکیں جو اس دنیا میں زندہ تو ہیں لیکن ان کی زندگی موت سے بدتر ہے۔ سپین سے تعلق رکھنے والی یہ بدقسمت خاتون بھی ایک ایسی ہی مثال ہے

جو ایسی خطرناک بیماریوں میں مبتلاءہے کہ گزشتہ 13 سال سے شیشے کے ڈبے میں بند ہوکر زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ ہوانا میونز نامی اس خاتون نے گزشتہ 13 سالوں کے دوران اپنے خاوند کو چھوا ہے نہ اپنے بچوں کو گلے لگایا ہے اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ شاید اسے باقی تمام زندگی بھی اسی حال میں گزارنی پڑگے گی۔یہ تقریباً 30 سال قبل کی بات ہے جب ہوانا کے جسم میں بیک وقت چار بیماریوں کی تشخیص ہوئی، جن میں کیمیکل حساسیت، فائبرو مائیلیجیا، دائمی تھکاوٹ کا سنڈروم اور الیکٹرو سنسٹوٹی شامل ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ بیماریاں آلوﺅں پر موجود زہریلی گرد کی وجہ سے ہوانا کے جسم میں منتقل ہوئیں اور وقت گزرنے کے ساتھ شدید ہوتی گئیں۔بدقسمت خاتون نے بتایا کہ تین دہائیاں قبل ایک رو زوہ کھانا پکانے کے لئے آلو صاف کررہی تھیں کہ ان کی بائیں آنکھ میں خارش محسوس ہوئی۔ جب انہوں نے اپنے ہاتھ سے آنکھ کو رگڑا تو ناصرف آنکھ میں تیز چبھن محسوس ہونے لگی بلکہ کچھ دیر بعد ان کی ناک میں بھی شدید جلن ہونے لگی اور زبان بھی سوجنا شروع ہوگئی۔ اگلے دن تک حالت اتنی خراب ہوچکی تھی کہ انہیں انتہائی نگہداشت وارڈ میں داخل کروانا پڑا۔کئی سال تک وہ شدید تکلیف میں مبتلاءرہیں اور پھر ڈاکٹروں نے فیصلہ کیا کہ

انہیں زندہ رکھنے کے لئے شیشے کے ڈبے میں بند کرنا پڑے گا تا کہ وہ بیرونی ماحول سے مکمل طور پر محفوظ رہیں۔ انہیں شیشے کے ڈبے میں ہی آکسیجن فراہم کی جاتی ہے جبکہ ایک مائیکروفون اور سپیکر کے ذریعے وہ اپنے پیاروں سے بات چیت کرتی ہیں۔ امریکی شہر ڈلاس کے ایک ہسپتال کے ڈاکٹر ایک خصوصی آرگینک ماسک تیار کر رہے ہیں جو ہوانا کے لئے مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹروں کو توقع ہے کہ چند ہفتے تک یہ ماسک تیار ہوجائے گا اور ہوانا اسے پہن کر پہلی بار شیشے کے ڈبے سے باہر نکلنے کی کوشش کریں گی۔