ترک صدر کی اسرائیلی فوج کے ’’ غیر انسانی حملے ‘‘ کی مذمت پرنیتن یاہو نے طیب اردوان کو ایسی بات کہہ دی کہ جان کر آپ کے بھی تن بدن میں آگ لگ جائے گی

تل ابیب اسرائیل کے انتہا پسند وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے صہیونی فوج کی فلسطینیوں کے خلاف حالیہ سفاکیت کی مذمت میں سخت بیان پر چیخ اٹھے ہیں۔انھوں نے ترک صدر کے لتے لینے شروع کردیے ہیں ۔اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں جمعہ کو ہزاروں فلسطینی مظاہرین پر

اندھا دھند فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں 16 فلسطینی شہید اور 1400 سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔ترک صدر نے اس ’’غیر انسانی حملے‘‘ کی استنبول میں ایک تقریر کے دوران میں شدید الفاظ میں مذمت کی تھی اور اس پر خاموشی اختیار کرنے والے مغربی لیڈروں کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔اس کے ردعمل میں نیتن یاہو نے اتوار کو ٹویٹر پر ترک صدر کا نام لیے بغیر لکھا ہے:’’ دنیا میں سب سے زیادہ اخلاقی فوج کو کسی ایسے شخص کی جانب سے اخلاقیات پر درس کی ضرورت نہیں جو خود گذشتہ کئی برسوں سے شہریوں پر بلا امتیاز بمباری کررہا ہے‘‘۔انھوں نے اپریل فول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’ ظاہر ہے ، وہ یکم اپریل کو انقرہ میں اسی طرح مناتے ہیں ‘‘۔نیتن یاہو ماضی میں صدر ایردوآن کو ’’کرد دیہاتیوں پر بمباری‘‘ کرنے والا بھی قرار دے چکے ہیں ۔اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کے خلاف اپنے فوجیوں کی اس جارحیت کا حسب روایت دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ انھوں نے سرحدی باڑ کے نزدیک آنے پر ہی فلسطینی مظاہرین پر گولیاں چلائی تھیں ۔نیز مظاہرین صہیونی فوجیوں کی جانب پتھراؤ کررہے تھے

اوران پر ٹائر پھینک رہے تھے۔اسرائیلی فوج نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ مظاہرین نے باڑ کو نقصان پہنچانے اور اسرائیلی علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔ انھوں نے سرحد پر تعینّات فوجیوں پر حملے کی بھی کوشش کی تھی لیکن ماضی میں پیش آنے والے ایسے واقعات کی طرح اس واقعے میں بھی کوئی صہیونی فوجی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا تھا اور یوں دنیا کی اس اخلاقی فوج کی حقیقت بیانی کا تمام پول ایک مرتبہ پھر کھل گیا ہے۔فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے طاقت کا وحشیانہ اور غیر متناسب استعمال کیا ہے اور فوجیوں نے ان مظاہرین کو گولیوں کا نشانہ بنایا ہے جو ان کے لیے کسی قسم کے خطرے کا سبب نہیں تھے۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے اسرائیلی فوج کی جانب سے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کے حوالے سے سوال اٹھائے ہیں ۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا مغرینی دونوں نے فلسطینیوں کے خلاف تشدد کے اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے لیکن اسرائیل نے ان کے اس مطالبے کو یکسر مسترد کردیا ہے۔