mqm

دہشتگردوں کو پروموٹ کرنے میں کون سا نامور سیاستدان ملوث ہے؟ نام جان کر آپ دم بخود رہ جائیں گے

لاہور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کہا ہے کہ نواز شریف دہشتگردی کو پرموٹ کرنیوالوں میں سے ہیں ختم کرنیوالوں میں سے نہیں،آج جو امن نظر آتا ہے اس کا کریڈٹ آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردّ الفساد کو جاتا ہے،نواز شریف نے سوات آپریشن کی بھی

مخالفت کی اور آپریشن ضرب عضب کو بھی ایک سال تک تاخیر کا نشانہ بنایا،نیشنل ایکشن پلان کو بھی انہوں نے ناکام بنایا، آئندہ عام انتخابات میں چاروں صوبوں کے عوام ماڈل ٹائون کے قاتلوں کو مسترد کریں گے،چیف جسٹس کی طرف سے پی آئی اے کی نجکاری کا نوٹس خوش آئند ہے،نجکاری میں ہرج نہیں لیکن اشرافیہ کا ماضی گواہ ہے انہوں نے قومی ادارے اپنے فرنٹ مینوں کو بیچے۔ وہ گذشتہ روز عوامی تحریک کی سنٹرل کور کمیٹی کے ممبران سے ٹیلی فون پر گفتگو کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ میں کل بھی کہتا تھا نواز شریف سیکیورٹی رسک اور غیر ملکی قوتوں کے آلہ کار ہیں،آج بھی ہمارا موقف یہی ہے،نواز شریف اپنے غیر ملکی اثاثوں کو بچانے کے لیے کسی کی خواہش پر فوج اور عدلیہ کو ٹارگٹ کر رہے ہیں،کرپشن ریفرنسز پر فیصلوں کی گھڑی جوں جوں قریب آرہی ہے چیخوں کی شدت میں بھی اضافہ ہورہا ہے،پاکستان کے سب سے بڑے کرپٹ خاندان کو اس بار کوئی ریلیف ملا تو پھر دوبارہ آئینی ادارے کسی بڑے مگر مچھ کے احتساب کی ہمت نہیں کرسکیں گے،اشرافیہ سپریم کورٹ اور فوج کو اپنے راستے کا بھاری پتھر سمجھتی ہے ان کی خواہش ہے کہ،

انہیں آئین مسخ کرنے کا مینڈیٹ ملے اور یہ سپریم کورٹ کو گائوں کی پنچائیت اور فوج کو پنجاب پولیس بنا دیں،لیکن اس بار اللہ نے چاہا تو یہ اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہوسکیں گے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ ابھی سانحہ ماڈل ٹائون کا حساب ہونا باقی ہے، 14شہریوں کی لاشیں انصاف کی منتظر ہیں،شہدائے ماڈل ٹائون کے ورثا انصاف کے لیے عدلیہ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انصاف میں تاخیر کی بڑی وجہ قاتلوں کا اقتدار میں ہونا ہے، ان شاء اللہ تعالی قاتلوں کے اقتدار کا ہمیشہ کے لیے سورج بھی غروب ہوگا اور یہ کٹہرے میں بھی آئیںگے۔انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس پی آئی اے کے معاملات کا باریک بینی سے جائزہ لیں اور یہ بات عوام کے سامنے آنی چاہیے کہ پی آئی اے کے منافع بخش روٹ کس بااثر کی نجی ایئر لائن کو دیئے گئے اور کیوں دیئے گئی انہوں نے کہا کہ ہم باردیگر مطالبہ کرتے ہیں موجودہ حکومت کی پانچ سالہ کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطحی کمیشن بنایا جائے تاکہ قوم کو پتا چلے بھاری قرضے کیوں لیے گئے اور پھر کہاں خرچ کئے گئی۔تاکہ قوم کو پتا چلے بھاری قرضے کیوں لیے گئے اور پھر کہاں خرچ کئے گئی۔