کون سی قوم پیشاب کو دانت چمکانے کے لیے استعمال کرتی تھی؟ ماضی کی اس قوم کے بارے دلچسپ حقائق آپ کو حیرت میں مبتلا کر دیں گے

قاہرہ رومن سلطنت اور اس کی فوجی، دفاعی سطوت، فتووحات، تہذیب وتمدن کی ترقی اور فن تعمیر کے حوالے سے چرچے کتابوں میں عام ملتے ہیں مگر اس عظیم الشان سلطنت کا ایک پہلو ایسا بھی ہے جو انتہائی حیران کن اور چونکا دینے والا ہے۔عرب خبر رساں ادارے کے مطابق قدیم رومن سلطنت

میں پیشاب کی تجارت ایک پسندیدہ اور مقبول پیشہ تھا۔ پیشاب کو اس دور کے حکماء دواؤں کی تیاری کے ساتھ ساتھ عوام و خواص کے دانتوں کو صاف اور سفید کرنے کے بھی استعمال کرتے تھے۔رومن ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ انسانی پیشاب میں پوٹائیشیم اور فاسفورس جیسے معدنیات کی وافر مقدار پائی جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ پرانے دور میں رومی دانتوں کی حفاظت کی خاطر انہیں صاف کرنے کے لیے پیشاب کا استعمال کرتے تھے۔ پیشاب سے دانتوں کی صفائی سے مسوڑوں کو بھی تحفظ ملتا۔ لوگ پشاب کو مسام دار چٹانی پتھر کے ساتھ ملا کر ایک پیسٹ [معجون] تیار کرتے جسے دانتوں کی صفائی کے لیے استعمال میں لایا جاتا تھا۔پیشاب کو نہ صرف دانتوں کی صفائی اور مسوڑوں کی حفاظت کے لیے استعمال کیا جاتا بلکہ لوگ پیشاب سے کپڑے دھونے کو ترجیح دیتے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیشاب میں کلورائیڈ کی مقدار بہت کم پائی جاتی ہے جو کپڑوں کی صفائی میں معاون ہے۔چونکہ رومن ایمپائر میں پیشاب کی طلب اور کھپت بہت زیادہ تھی، اس لیے جزیرہ نما لائبیریہ سے بھی پیشاب منگوایا جاتا۔ لائبیریا کا پیشاب دوسرے علاقے

کے لوگوں کے پیشاب سے زیادہ معیاری سمجھا جاتا تھا۔ لائبیریا میں بڑی تعداد میں لوگ پیشاب اکٹھا کرتے اور اسے فروخت کرتے۔ اس طرح پیشاب کی خریدو فروخت ایک مقبول اور تیزی سے پھیلنے والا کاروبار بن گیا تھا۔ یہاں تک کہ پیشاب کا کاروبار کرنے والوں کو حکومت کو ٹیکس بھی ادا کرنا پڑتا تھا۔ رومن بادشا فسپازیان [سنہ 69ء تا 79ء‘ عیسوی میں پیشاب کے کاروبار پر ٹیکس میں متعدد بار اضافہ کیا گیا۔ اس دوران پشیاب کی طلب اور اس کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا۔ پیشاب جمع کرنے کے لیے ملک کے طول وعرض میں کھلے مقامات پر ٹوائلٹ بنائے جاتے جہاں لوگ پیشاب کرتے اور ان کا جمع کردہ پیشاب آگے فروخت کیا جاتا۔