girl

پولیس گردی کا دل دہلا دینے والا واقعہ ۔۔۔ ڈیڑھ سالہ بیٹی کے سر پر بندوق رکھ کر تھانیدار ماں سے کیا کام کرواتا رہا ؟ عدالت عظمیٰ میں ہونے والے انکشاف نے انسانیت کو شرما کر رکھ دیا

کراچی سندھ ہائی کورٹ نے خاتون کو برہنہ کرنے والے تھانیدار کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دے دیا۔اورنگی کی رہائشی درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ پولیس اہلکاروں نے منشیات فروشی کا الزام لگا کر اسے برہنہ کردیا جبکہ پولیس نے اپنی رپورٹ میں موقف اختیار کیا کہ منشیات فروشی کی اطلاع پر چھاپہ مارا گیا۔عدالت نے پولیس رپورٹ

پر عدم اطمینان کا اظہار کردیا اور حکم کے باوجود پیش نہ ہونے پر ایس ایس پی ویسٹ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں شوکاز نوٹس جاری کردیا۔سندھ ہائیکورٹ نے خاتون کو برہنہ کرنے کی تحقیقات ڈی آئی جی کے سپرد کردیں اور 15 روز میں تحقیقاتی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے واقعہ میں ملوث ایس ایچ او اقبال مارکیٹ کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ تحقیقات مکمل ہونے تک ایس ایچ او کو فیلڈ پوسٹنگ نا دی جائے۔ درخواست گزار خاتون نے کہا کہ گزشتہ ماہ 24 مارچ کو 17 پولیس اہلکار ان کے گھر میں گھسے، بوڑھی والدہ کو علیحدہ کمرے میں بند کیا، پھر ان کی ڈیڑھ سال بیٹی پر بندوق تان کر انہیں برہنہ ہونے پر مجبور کیا گیا۔درخواست گزار خاتون کے مطابق پولیس والے 3 روز تک ان کے گھر میں رہے، ساس کی جانب سے اعلیٰ حکام کو شکایت کی گئی تب جاکر انہیں رہائی ملی، ایس ایچ او اقبال مارکیٹ منہ بند رکھنے کے لیے بھی انہیں دھمکاتے رہے۔دوسری طرف آ ج فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ میں حوّا کی ایک اور بیٹی درندگی کی بھینٹ چڑھ گئی۔ 7 سالہ طالبہ کو مبینہ زیادتی کے بعد قتل کر کے لاش کھیتوں میں پھینک دی گئی۔فیصل آباد میں سٹی جڑانوالہ کے علاقہ گلشن عزیز کی رہائشی 7 سالہ طالبہ

مبشرہ گھر سے کھیلنے کیلئے باہر نکلی تو درندہ صفت افراد کا شکار بن گئی۔ نامعلوم درندوں نے کمسن طالبہ کو مبینہ زیادتی کے بعد قتل کر کے لاش کھیتوں میں پھینک دی مگر پنجاب حکومت اور پولیس خواب خرگوشی کے مزے لینے میں مصروف رہی۔حکومت اور پولیس کی غفلت کے باعث جڑانوالہ میں صرف 10 دن کے مختصر ترین عرصہ میں درندگی کے ایسے دل دہلا دینے والے تین بڑے واقعات سامنے آئے مگر پولیس کے کان پر جُوں تک نہ رینگی اور نہ ہی ملزمان کی گرفتاری عمل میں آسکی۔کمسن مقتولہ کے ورثاء نے مطالبہ کیا کہ کمسن مبشرہ کے قاتلوں کو سرعام پھانسی دینے کیلئے اگر عدلیہ کو قوانین میں ترامیم بھی کرنا پڑتی ہیں تو ترامیم کی جائیں اور ملزمان کو عبرت کا نشان بنایا جائے۔