نواز شریف کو اگر سزا ہوئی تو وہ خوشی خوشی جیل چلا جائے گا کیونکہ۔۔۔۔۔ نامور پاکستانی قانون دان نے بڑے پتے کی بات کہہ ڈالی

لاہور:پیپلزپارٹی کے رہنماء اعتزازاحسن نے کہا ہے کہ واجد ضیاء جتنا بھی نوازشریف کوبچا لیں لیکن نیب سے نوازشریف کا بچنا مشکل ہے، نوازشریف عوامی کال لندن یا اڈیالہ جیل سے دیں گے، نوازشریف کو اگر یقین ہوا کہ 10 یا 12روز میں ضمانت ہوجائیگی توپھرجیل جانا پسند کریں گے۔انہوں نےآج یہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ نیب کافیصلہ ہرصورت نوازشریف کیخلاف ہی ہوگا۔

انہوں نے کہاکہ واجد ضیاء جتنا بھی نوازشریف کوبچا لیں لیکن نیب سے نوازشریف کا بچنا مشکل ہے۔اگرواجد ضیاء کہتے ہیں کہ جائیداد بچوں کے نام پرہے توبھی نوازشریف کوسزایقینی ہے۔انہوں نے کہاکہ نوازشریف عوامی کال لندن یا اڈیالہ جیل سے دیں گے۔انہوں نے کہاکہ نوازشریف کواگریقین ہوا کہ دس یا 12روز میں ضمانت ہوجاء ے گی توپھرجیل جانا پسند کریں گے۔اگرنوازشریف کوزیادہ روز جیل میں رہنے کاخدشہ ہوا توپھرعوامی کال لندن سے دیں گے۔اعتزاز احسن نے کہا کہ شہباز شریف تومنت سماجت پراترآئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ نگران سیٹ اپ حکومت اور اپوزیشن کااتفاق ہونا مشکل ہے۔میرے خیال میں معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس جائے گا۔ واضح رہے کہ اس سےقبل شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس میں نیب کے گواہ اور جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء نے جرح کے دوران کہا کہ گلف اسٹیل کے 75 فیصد حصص کی فروخت سے متعلق تفتیش نہیں کی۔اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کی۔سابق وزیراعظم نواز شریف آج 50ویں مرتبہ احتساب عدالت کےروبرو پیش ہوئے

جب کہ خواجہ حارث نے مسلسل چوتھی سماعت پر جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء پر جرح جاریرکھیسماعتکےآغازپرنواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے واجد ضیاء سے سوال کیا کہ ‘1978 میں گلف اسٹیل کے 75 فیصد شیئرز فروخت ہوئے اور گلف اسٹیل کا نام فروخت کے بعد آہلی اسٹیل مل ہوا، کیا آپ نے اپنی تفتیش میں ان معاملات کی تصدیق کی’۔واجد ضیاء نے بتایا کہ سپریم کورٹ میں اس کا جواب دے دیا تھا، جے آئی ٹی رپورٹ کا والیم یاد نہیں لیکن اس کا جواب درج تھا۔جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ میرا سوال ابھی بھی وہی ہے کیا آپ نے معاہدے کے مندرجات کی تصدیق کی تھی یا نہیں جس پر واجد ضیاء نے کہا ‘جو دستاویزات دی گئیں اس کے علاوہ جے آئی ٹی کی تفتیش میں اس کی تصدیق نہیں کی’۔خواجہ حارث نے سوال کیا کہ ‘کیا آپ نے تفتیش کی کہ گلف اسٹیل مل قائم بھی ہوئی تھی یا نہیں’ جس پر فاضل جج نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ یہ سوال پوچھا جاچکا ہے۔واجد ضیاء نے کہا کہ دستاویزات کے مطابق گلف اسٹیل ملز کی فروخت کے بعد نیا نام آہلی سٹیل ملز رکھا گیا جس پر خواجہ حارث نے کہا ‘دستاویزات کو چھوڑیں، یہ بتائیں کہ آپ کی تفتیش کیا کہتی ہے، جے آئی ٹی تحقیقات کے لیے بنی تھی،

آخر آپ نے بھی تو کچھ کیا ہو گا’۔جس پر واجد ضیاء نے کہا کہ ہم نے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی دستاویزات پر انحصار کیا اور انہیں درست تسلیم کیا۔خواجہ حارث نے ایک اور سوال کیا ‘کیا آپ نے تفتیش کی تھی کہ 1978 تا 1980 گلف اسٹیل مل کی بزنس ٹرانزیکشن ہوئی’ جس پر واجد ضیاء نے کہا ‘ہم نے طارق شفیع سے پوچھا تھا لیکن کوئی ایسی چیز سامنے نہیں آئی’۔واجد ضیاء نے مزید بتایا کہ ہم نے دبئی اتھارٹیز کو ایم ایل اے کے تحت لکھا کہ گلف اسٹیل مل کی تفصیلات دیں لیکن جواب نہیں آیا۔خواجہ حارث نے سوال کیا کہ ‘کیا آپ نے گلف اسٹیل مل بنانے والے کسی شراکت دار یا فروخت کنندہ سے رابطہ کیا جس پر واجد ضیاء نے کہا ‘ہم نے شہباز شریف اور طارق شفیع سے پوچھ گچھ کے لیے رابطہ کیا تھا اور ان کے سوا کسی سے رابطہ نہیں کیا’۔نواز شریف کے وکیل نے کیس کی تمام کارروائی ریکارڈ کرنے کی استدعا کی اور کہا کہ کیس ایسے نہیں چلتا، پہلے واجد ضیاء کچھ کہتے ہیں اور بعد میں تبدیلیاں کر دیتے ہیں۔فاضل جج نے ریمارکس دیے کہ خواجہ حارث ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ خواجہ حارث نے سوال کیا‘کیا نواز شریف نے کبھی کہا 75 فیصد حصص کی فروخت کی رقم وصول کی اور کیا کسی گواہ نے ایسا کہا جس پر واجد ضیاء

نے کہا کہ نہ تو انہوں نے ایسا کہا اور نہ ہی کسی گواہ نے ایسا کہا۔اس موقع پر پراسیکیوٹر نیب سردار مظفر نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ آپ صبح سے ایک ہی سوال کو گھما رہے ہیں جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ قانون پراسیکیوشن کے لئے مشکل کام ہے پہلے قانون سیکھ لیں۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ آپ سے سیکھ رہے ہیں لیکن آپ اپنی مرضی کا جواب چاہتے ہیں جس پر خواجہ حارث نے شکوہ کیا کہ ‘میں جو سوال پوچھتا ہوں، گواہ اس کے بجائے اپنی مرضی کا جواب دے دیتا ہے، پھر جرح کو چھوڑ کر ان کا بیان ہی دوبارہ ریکارڈ کر لیتے ہیں’۔احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس کی مزید سماعت کل صبح 9 بجے تک کے لئے ملتوی کردی جب کہ نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کل مسلسل پانچویں روز واجد ضیاء پر جرح کا عمل جاری رکھیں گے۔یاد رہے کہ خواجہ حارث کی جرح مکمل ہونے کے بعد مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کے وکیل واجد ضیاء پر جرح کریں گے، اس سے قبل ایون فیلڈ ریفرنس میں واجد ضیاء نے 6 روز کے دوران اپنا بیان ریکارڈ کرایا تھا۔بعد مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کے وکیل واجد ضیاء پر جرح کریں گے، اس سے قبل ایون فیلڈ ریفرنس میں واجد ضیاء نے 6 روز کے دوران اپنا بیان ریکارڈ کرایا تھا۔