imran khan dr yasmin rashid

بنی گالہ کیس: تمام تدبیریں الٹی پڑ گئیں ، عدالت سے عمران خان کے چہرے کا رنگ اڑا دینے والی خبر آگئی

اسلام آباد:سپریم کورٹ کی جانب سے اسلام آباد کے علاقے بنی گالا میں غیر قانونی قبضوں، انکروچمنٹ اور بے ضابطگیوں کا نوٹس لیے جانے کی وجہ سے ایک امید پیدا ہوئی ہے کہ راول جھیل کی اہم ریاستی زمین واگزار کرائے جانے کے بعد ماحولیاتی صورتحال بہتر ہوگی۔ لیکن لگتا ہے کہبابوئوں کا منصوبہ کچھ اور ہے۔

بنی گالا زمین کیس کی سماعت کے دوران، یہ دلیل دی گئی تھی کہ علاقے کی آبادی لاکھوں افراد پر مشتمل ہے اور اسلئے یہ ممکن نہیں کہ پورا علاقہ خالی کرا لیا جائے۔ تاہم، اس دلیل کی آڑ میں، کچھ بابو (بیوروکریٹس) سماعت کے دوران اس مقبوضہ سرکاری زمین کو ریگولرائز کرانا چاہتے ہیں لیکن سپریم کورٹ عوام کو فائدہ پہنچانا چاہتی ہے۔ چند بااثر اور طاقتور قبضہ خوروں کی جانب سے راول جھیل کے کنارے پر غیر قانونی تعمیرات کی وجہ سے وفاقی حکومت کی آبادی اور ماحولیات کی حفاظت پر مامور ایجنسیوں اور اداروں کو سنگین خدشات لاحق ہوگئے ہیں۔ تاہم، نہ صرف بنی گالا کے اطراف غیر قانونی تعمیرات کی اجازت دی گئی بلکہ راول جھیل کے اطراف سرکاری زمین پر لینڈ مافیا کے لوگوں نے قبضہ کر لیا جنہوں نے یہاں بڑی عمارتیں، شادی ہالز حتیٰ کہ بنی گالا کے علاقے لکھوال ولیج میں گھر تک تعمیر کر لیے۔ متعلقہ حکام بڑی آسانی سے خاموش رہے۔ مختلف عدالتوں کی جانب سے بنی گالا میں سرکاری زمین پر قبضے کو غیر قانونی قرار دیا لیکن زمین واگزار کرانے کیلئے کسی بھی موقع پر کوئی آپریشن شروع نہیں کیا گیا۔ راول جھیل پر راول ڈیم کے نام سے ایک چھوٹا ڈیم تعمیر کیا گیا ہے جو آبادی کے بڑے حصے کو پانی فراہم کرتا ہے۔

چھوٹے ڈیموں کی تنظیم ’’سمال ڈیمز آرگنائزیشن‘‘ اسلام آباد ( راول لیک) کے پروجیکٹ ڈائریکٹر نے کئی مرتبہ حکام کو خط لکھ کر آپریشن کے ذریعے غیر قانونی تعمیرات گرانے کی درخواست کی ہے تاکہ قیمتی سرکاری زمین خالی کرائی جا سکے، لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ غیر قانونی تعمیرات کی وجہ سے ماحول کو زبردست نقصان ہو رہا ہے۔ مختلف عدالتوں، بشمول اسلام آباد ہائی کورٹ نے بنی گالا میں راول جھیل کے اطراف مین سرکاری زمین پر تعمیرات کو غیر قانونی قرار دیا ہے لیکن متعلقہ حکام کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ سمال ڈیمز آرگنائزیشن اسلام آباد نے 7؍ مارچ 2018ء کو اسلام آباد انتظامیہ اور پولیس کو خط (PD/SDO/2018-1585-87 RWD) نمبر لکھا تھا جس کا متن ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے: ’’18؍ جنوری 2018ء کو لکھے گئے آفس لیٹر اور 13؍ فروری 2018ء کو لکھے گئے خط کے تسلسل میں ایگزیکٹو انجینئر سمال ڈیمز ڈویژن اسلام آباد نے یکم مارچ 2018ء کو اپنے خط میں آگاہ کیا ہے کہ انکروچمنٹ کرنے والے افراد کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں 2؍ فروری 2018ء کے فیصلے کیخلاف سول نظرثانی درخواست دائر کی گئی، یہ فیصلہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج اسلام آباد نے سنایا تھا

لیکن فاضل اسلام آباد ہائی کورٹ نے میرٹ پر نہ ہونے کی وجہ سےاس فیصلے کو منسوخ کر دیا۔ لہٰذا، انتظامی لحاظ سے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی) کی زیر اختیار راول جھیل کے ساتھ حال ہی میں غیر قانونی طور پر ریاستی زمین پر تعمیر کیے جانے والے دو رہائشی عمارتوں کو منہدم کرکے سرکاری زمین واگزار کرانے کیلئے فوری طور پر آپریشن کی منصوبہ بندی کی جائے۔ مذکورہ بالا صورتحال کی روشنی میں درخواست ہے کہ حال ہی میں تعمیر کی جانے والی دو عمارتیں، جو ویسے تو حکومتِ پنجاب کی زمین پر تعمیر کی گئی ہیں لیکن یہ زمین انتظامی لحاظ سے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی) کے پاس ہے، کو فوری طور پر منہدم کرایا جائے اور اس میں متعلہ محکموں / حکام سے مشاورت اور رابطہ کیا جائے تاکہ ریاستی زمین جلد از جلد واگزار کرائی جا سکے۔‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عدالتی احکامات اور یہی کیس سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہونے کے باوجود، متعلقہ حکام کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی کہ وہ سرکاری زمین واگزار کرائیں۔ اب بڑے پیمانے پر آبادی کی موجودگی کا بہانہ بنا کر اور معمولی بے ضابطگیوں کو درست کرانے کی بجائے بابو لوگ سپریم کورٹ کو موجودہ کیس کی سماعت کے دوران گمراہ کرکے قبضہ کی سرکاری زمین کو ریگولرائز کرانا چاہتے ہیں۔