نہ زمین پھٹی نہ آسمان ۔۔۔قصور کے بعد جڑانوالہ میں ایسی ہولناک داستان رقم ہو گئی کہ سن کر آپ بھی دلبرداشتہ ہو جائیں گے

فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ میں حوّا کی ایک اور بیٹی درندگی کی بھینٹ چڑھ گئی۔ 7 سالہ طالبہ کو مبینہ زیادتی کے بعد قتل کر کے لاش کھیتوں میں پھینک دی گئی۔فیصل آباد میں سٹی جڑانوالہ کے علاقہ گلشن عزیز کی رہائشی 7 سالہ طالبہ مبشرہ گھرسے کھیلنے کیلئے باہر نکلیتودرندہ صفت افراد کا شکار بن گئی۔ نامعلوم درندوں نے کمسن طالبہ کو مبینہ زیادتی

کے بعد قتل کر کے لاش کھیتوں میں پھینک دی مگر پنجاب حکومت اور پولیس خواب خرگوشی کے مزے لینے میں مصروف رہی۔حکومت اور پولیس کی غفلت کے باعث جڑانوالہ میں صرف 10 دن کے مختصر ترین عرصہ میں درندگی کے ایسے دل دہلا دینے والے تین بڑے واقعات سامنے آئے مگر پولیس کے کان پر جُوں تک نہ رینگی اور نہ ہی ملزمان کی گرفتاری عمل میں آسکی۔کمسن مقتولہ کے ورثاء نے مطالبہ کیا کہ کمسن مبشرہ کے قاتلوں کو سرعام پھانسی دینے کیلئے اگر عدلیہ کو قوانین میں ترامیم بھی کرنا پڑتی ہیں تو ترامیم کی جائیں اور ملزمان کو عبرت کا نشان بنایا جائے۔یاد رہے کہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے قصور کی 7 سالہ زینب سے زیادتی و قتل کے مجرم عمران کو 4 بار سزائے موت سنادی۔انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج سجاد احمد نے زینب زیادتی و قتل کیس کا فیصلہ سنایا، جسے ملکی تاریخ کا تیز ترین ٹرائل قرار دیا جارہا ہے۔سماعت کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے پراسیکیوٹر جنرل احتشام قادر نے بتایا کہ مجرم عمران کو کُل 6 الزامات کے تحت سزائیں سنائی گئیں۔انہوں نے بتایا کہ مجرم عمران کو ننھی زینب کے اغوا، زیادتی اور قتل کے ساتھ ساتھ 7 اے ٹی اے کے تحت 4،4 مرتبہ سزائے موت سنائی گئی۔

دوسری جانب عمران کو زینب سے بدفعلی پر عمرقید اور 10 لاکھ روپے جرمانے جبکہ لاش کو گندگی کے ڈھیر پر پھینکنے پر7سال قید اور 10 لاکھ جرمانےکی سزا بھی سنائی گئی۔پراسیکیوٹر جنرل نے بتایا کہ ٹرائل کورٹ سزائے موت کی توثیق کے لیے ریکارڈ ہائیکورٹ کو منتقل کرے گی، جہاں 2 رکنی بنچ مجرم عمران کی اپیل سنے گا۔انہوں نے بتایا کہ ہائیکورٹ آرڈر بھی مثبت آیا تو عمران سپریم کورٹ میں اپیل کر سکتا ہے۔پراسیکیوٹر جنرل کے مطابق مجرم کے پاس اپیل کرنےکے لیے 15 دن ہیں جبکہ اس کے پاس صدر مملکت سے رحم کی اپیل کا حق بھی ہے۔انہوں نے بتایا کہ تمام قانونی مراحل طے ہونے کے بعد عمران کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا جائے گا۔پراسیکیوٹر جنرل نے مزید بتایا کہ عمران کے خلاف دس پندرہ دن میں دیگر واقعات کے ٹرائل مکمل ہوجائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ عمران سے عدالت نے آخری وقت تک پوچھا تو اس نے خدا کو حاضر ناظر جان کر اعتراف جرم کیا۔پراسیکیوٹر جنرل احتشام قادر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ ایسا ہوا ہےکہ سائنٹیفک تحقیق کی بنیاد پر مجرم کو سزا دی جارہی ہے اور ہم اُن ممالک میں شامل ہوگئے ہیں جہاں سائنسی بنیادوں پر ثبوتوں پر سزا دی جاسکتی ہے۔

مجرم کی سرعام پھانسی کا مطالبہقصور میں اغوا اور زیادتی کے بعد قتل ہونے والی زینب کے والدین نے مجرم عمران کو 4 بار سزائے موت کے عدالتی فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔عدالتی فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے زینب کے والدین کا کہنا تھا کہ وہ ایسا فیصلہ چاہتے تھے کہ جسے پوری دنیا یاد رکھے۔اس موقع پر زینب کی والدہ کا کہنا تھا کہ ان کا اب بھی مطالبہ ہے کہ جس مقام پر زینب کو اغواء کیا گیا مجرم کو اسی جگہ پر سر عام سزا دی جائے۔دوسری جانب زینب کے چچا نے بھی عدالتی فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا۔زینب کے بھائی کا کہنا تھا کہ ‘مجھے خوشی ہے کہ میری بہن کے قاتل کو سزا دی گئی جب کہ اب بھی مطالبہ سرعام پھانسی دینے کا ہے’۔دوسری جانب قصور میں قتل ہونے والی بچیوں ایمان فاطمہ اور عائشہ کے والدین نے بھی میڈیا سے گفتگو کی اور کہا کہ ‘یہ فیصلہ زینب کا ہے باقی سات بچیوں کا نہیں’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم بھی یہی چاہتے ہیں کے مجرم عمران کو سر عام پھانسی دی جائے’۔: