waseem akram

ہائے اللہ آپ کتنے ہینڈ سم ہیں، میں تو صرف آپ سے شادی کروں گی۔۔۔۔ وسیم اکرم کے کیرئیر کے ابتدائی دنوں میں ایک امیر زادی انکے راستے میں آکھڑی ہوئی تھی، یہ لڑکی دراصل کون تھی؟ یہ سچا واقعہ آپ کو ناقابل یقین لگے گا

لاہور:وسیم اکرم لڑکی کے لباس اور گفتگو سے اس کے امیرانہ ٹھاٹ باٹ کا اندازہ کر چکا تھا۔ لہٰذا اس نے پوچھا:فرمایئے!میرا انتظار کیوں کررہی تھیں‘‘؟لڑکی نے جھٹ سے اپنے پرس سے ہیرے کی ایک انگوٹھی نکالی اور بے باکی کے ساتھ بولی۔’’میں آپ کو یہ انگوٹھی پہنانے آئی ہوں‘‘۔مگر کیوں‘‘وسیم اکرمشاہدنذیرچودھری اپنی تحریر میں لکھتے ہیں حیران ہی رہ گیا۔

اسی لمحہ اس کی والدہ اور گھر کے دوسرے افراد بھی پورچ میں آگئے۔میں آپ سے شادی کرنا چاہتی ہوں اور یہ انگوٹھی منگنی کے لئے آپ کو پہنانے آئی ہوں‘‘۔وسیم اکرم لڑکی کی بات سن کر تپ اٹھا۔’’آپ کا دماغ تو ٹھیک ہے‘‘۔مگر لڑکی اس کے غصے کو خاطر میں لائے بغیر بولی:وسیم!میں آپ کو پسند کرتی ہوں۔میری ممی اور میرے ڈیڈی نے مجھے خود بھیجا ہے کہ آپ کو پروپوز کرنے کے بعد یہ انگوٹھی پہنا دوں‘‘۔وسیم اکر نے لڑکی کی اس جسارت پر بے نقط سنا ڈالیں مگر وہ بھی اپنی ضد کی پکی تھی۔بالآخر وسیم نے اپنے غصہ پر قابو پاتے ہوئے اسے معقول انداز میں کہا:اس وقت آپ اپنے گھر جائیے اور ا پنا ٹیلی فون نمبر مجھے دے جائیں۔میں آپ کے ممی ڈیڈی سے خود بات کروں گا۔اگر انہوں نے کوئی اعتراض نہ کیا تو میں اس بارے میں سوچوں گا‘‘۔بالآخر ایک گھنٹے کی بحث اور منت سماجت کے بعد لڑکی چلی گئی۔اس رات صوفیہ،ندیم اور نعیم نے وسیم اکرم کو خوب تنگ کیا اور بنار بار یہی پوچھتے رہے کہ اب وہ کیا کرے گا۔ رات کو وسیم نے لڑکی کے باپ کو فون کیا۔ اس کے والد ملک کے ایک بڑے صنعتکار تھےانہوں نے وسیم اکرم کی زبانی اپنی بیٹی کا قصہ سنا تو وہ بیچارے بلک پرے اور کہنے لگےوسیم بیٹے!ہماری ایک ہی بیٹی ہے،ہمارے لاڈ پیار نے اسے بگاڑ کے رکھ دیا ہے۔

تم سے بے حد پیار کرتی ہے۔یہ دیوانی ہو گئی ہے۔اس نے اپنا کمرہ تمہاری تصویروں سے بھر رکھا ہے اور ہر وقت تمہارے ہی بارے میں باتیں کرتی رہتی ہے۔میں خود تم لوگوں سے ملنے والا تھا مگر اس دیوانی نے ہمیں موقع ہی نہیں دیا اور خود ہی آپ لوگوں کے گھر پہنچ گئی۔ میں بہت شرمندہ ہوں۔مگر تم سے درخواست ہے کہ اس بارے میں غور ضرور کرو‘‘۔لڑکی کے والد نے وسیم اکرم کو اپنی دولت اور جاہ چشمت کے بارے میں آگاہ کیا اور کہا:’’وسیم بیٹے!میری بیٹی ہی میری کل کائنات ہے۔میرا سب کچھ اس کے لئے ہے۔اگر تم اس سے شادی کرلو تو یہ سب کچھ تمہارا ہی ہو گا‘‘۔مگر وسیم اکرم نے ان سے معذرت کرلی۔وسیم اکرم کو یہ معلوم تھا کہ بعض بڑے گھرانوں کی لڑکیاں نوجوان کرکٹرز اور اداکاروں کے پیچھے پڑ جاتی ہیں۔انہیں اپنی دولت سے مرعوب کرتی ہیں،بہت سوں کو تو و دام فریب میں پھانس بھی لیتی ہیں مگر بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو ان سے بچ نکلتے ہیں۔وسیم اکرم کی خوش قسمتی تھی کہ وہ زندگی کے پہلے ہی اسکینڈل سے اپنا پہلو بچا کر نکل گیا تھا۔تقدیر نے خود ہی اس کے بچاؤ کا ایک راستہ کھول دیا تھا۔ اگلے چند ہفتوں بعد وہ مکمل طور پر صحت یاب ہو چکا تھا لہٰذا وہ انگلینڈ چلا گیا اور لنکا شائر کی جانب سے کاؤنٹی سیزن کھیلنے لگ پڑا۔

مہربان ہمالنکا شائر میں وسیم اکرم ایک ایسا معجزاتی کھلاڑی مشہور ہو چکا تھا جو ہمیشہ اس وتق کھیل کا پانسہ پلٹ دیتا تھا جب ٹیم شدید دباؤ سے دو چار ہو چکی ہوتی تھی ۔لنکا شائر تو ویسے بھی اس کی مرہون منت تھی کیونکہ اس کی شمولیت کے باعث ہی تو اس نے انیس سال بعد پہلی مرتبہ سنڈے لیگ کا ٹائٹل جیتا تھا۔ وسیم اکرم نے چیمپئن شپ کے گیارہ میچوں میں پچاس سے زیادہ وکٹیں حاصل کرکے میلکم مارشل اور ایلن ڈونالڈ کو مات دے دی۔لنکا شائر نے اپنی جیت کی خوشی میں لندن کے ایک بڑے ہوٹل میں عشائیہ دیا تھا۔ ہوٹل کا ہال مہمانوں سے بھرا ہوا تھا مگر وسیم اکرم خالصتاً انگریزی ماحول کی اس کاک ٹیل تقریب سے لاتعلق ہو کر ایک طرف بیٹھ گیا تھا۔ اس کی کاؤنٹی کے ساتھی بخوبی جانتے تھے کہوسیم اکرم اس موقع پر ان کا ساتھ نہیں دے سکتا۔ اس زمانے میں وہ شراب پینے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا لہٰذا اس نے تقریب میں رسمی طور پر شامل رہنے کے لئے جوس کا گلاس منگوایا اور چسکیاں لے کر پینے لگا۔ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں کچھ باتوں پر غور کررہا تھا جب ایک لڑکی اس کے قریب آئی اور اردو میں اس سے مخاطب ہوئی۔کیا میں کچھ دیر کے لئے آپ کے پاس بیٹھ سکتی ہوں‘‘۔ایک تو دیار غیر اور اوپر سے ایک ایسی کاک ٹیک پارٹی میں اردو سپیکنگ۔

وسیم اکرم نے بے یقینی کے عالم میں لڑکی کی طرف دیکھا۔ دبلی پتلی، دراز قامت، چمکتی اور پراعتماد آنکھوں والی لڑکی نے ہاتھ میں جوس کا گلاس تھامرکھاتھا۔وسیم اکرم بے ساختہ اٹھ کھڑا ہواآئیے بیٹھئے‘‘۔میرا نام ہما ہے۔۔۔میں یونیورسٹی کالج آف لندن میں پڑھتی ہوں‘‘۔اس نے بڑے اعتماد کے ساتھ اپنا تعارف کرایا اور پھر چند ہی لمحے بعد ہما نے اپنی گفتگو کے سحر سے وسیم اکرم کو گویا ہپناٹائز کرلیا۔ وسیم اکرم کی کو کئی سالوں کے بعد انگلستان کی سرزمین پر ایک مہربان سائبان مل گیا تھا۔اسے یوں لگا جیسے ہما سے ملانے کے لئے ہی تقدیر نے اسے یہاں بھیجا تھا۔ ہما نے پاکستان میں نفسیات ،انگلش لٹریچر اور یورپی تاریخ میںتعلیم حاصل کی تھی اور ان دنوں نفسیات کے شعبہ میں اعلیٰ مہارت حاصل کرن کے لئے یہاں تعلیم حاصل کرنے آئی تھی۔ اس کا طرز گفتگو اس کے ماہر نفسیات ہونے کی تصدیق کر رہا تھا۔ وسیم اکرم ایک ایسے ہی پر اعتماد جیون ساتھی کی تلاش میں تھا۔ لہٰذا جب تک وہ لندن میں رہا،ہما اور اس کی ملاقاتوں میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔کاؤنٹی سیزن کے بعد جب وہ پاکستان آیا تو اس نے آتے ہی اپنی لاڈلی بہن صوفیہ کو ہما کے بارے میں بتایا تو وہ خوشی سے پاگل ہو گئی اس نے یہ بات اپنی دیدی اور بھائیوں کو بتا دی کہ بھائی کو لڑکی پسند آگئی ہے۔

جونہی ہما پاکستان آئے گی گھر والے اسے دیکھنے کے لئے کراچی جائیں گے۔دنیائے کرکٹ میں تہلکہ مچانے والے بائیں بازو کے باؤلروسیم اکرم نے تاریخ ساز کرکٹ کھیل کر اسے خیرباد کہا مگرکرکٹ کے میدان سے اپنی وابستگی پھریوں برقرار رکھی کہ آج وہ ٹی وی سکرین اور مائیک کے شہہ سوار ہیں۔وسیم اکرم نے سٹریٹ فائٹر کی حیثیت میں لاہور کی ایک گلی سے کرکٹ کا آغاز کیا تو یہ ان کی غربت کا زمانہ تھا ۔انہوں نے اپنے جنون کی طاقت سے کرکٹ میں اپنا لوہا منوایااور اپنے ماضی کو کہیں بہت دور چھوڑ آئے۔انہوں نے کرکٹ میں عزت بھی کمائی اور بدنامی بھی لیکن دنیائے کرکٹ میں انکی تابناکی کا ستارہ تاحال جلوہ گر ہے۔روزنامہ پاکستان اس فسوں کار کرکٹر کی ابتدائی اور مشقت آمیز زندگی کی ان کہی داستان کو یہاں پیش کررہا ہےجاری ہے۔