سی ایس ایس کے مطلب سے بھی ناواقف ایک پاکستانی لڑکی مقابلے کا امتحان پاس کرکے اسسٹنٹ کمشنر بن گئی ۔۔۔ عزم و ہمت کے ساتھ کامیابیاں سمیٹنے والی اس لڑکی کا مختصر تعارف اس خبر میں ملاحظہ کریں

کوئٹہ: صبح سویرے جب میں بلوچستان کی پہلی فیلڈ اسسٹنٹ کمشنر بتول اسدی سے ملنے کے لیے نکل رہی تھی تو کوئٹہ میں ہمارے ہوٹل کی لابی میں لگے ٹیلی ویژن کی سکرین بریکنگ نیوز سے سرخ ہو گئی۔ شہر کے مشہور سریاب روڈ پر چار پولیس اہلکار قتل کر دیے گئے تھے۔کوئٹہ میں گذشتہ کئی برسوں سے تشدد کا سلسلہ جاری ہے جو اکثر سریاب روڈ یا اس کے اردگرد کے علاقوں میں پھوٹ پڑتا ہے۔

میرے دماغ میں گھنٹیاں بجنے لگیں لیکن مجھے اپنا کام تو کرنا ہی تھا۔ اور میں اس بہادر خاتون سے ملاقات کا موقع گنوانا نہیں چاہتی تھی جن کے بارے میں میں نے بہت کچھ سن رکھا تھا۔ بتول اسدی نے میرا استقبال بڑے سکون سے کیا۔ ان کا سر سفید دوپٹے سے ڈھکا تھا۔ وہ کوئٹہ کی شیعہ ہزارہ برادری کی رکن ہیں۔ ہزارہ ہندوستان کی تقسیم سے قبل تعصب سے بچنے کی خاطر افغانستان سے ہجرت کر کے پاکستان آ بسے تھے۔ لیکن انھیں گذشتہ عشرے کے درمیان کوئٹہ میں بھی اپنی بقا کی جنگ درپیش ہے۔ اس برادری کے ہزاروں ارکان کو ہدف بنا کر قتل کیا گیا ہے۔ ان کے چہروں کے وسطیٰ ایشیائی نقوش انھیں عام آبادی کے درمیان نشان زد کر دیتے ہیں اور انھیں نشانہ بنانا آسان ہو جاتا ہے۔ بتول باورچی خانے میں ناشتہ بنا رہی تھیں۔ یہ منظر دل کو چھو لینے والا تھا۔ انھوں نے شیلف سے پیالیاں اٹھاتے ہوئے مجھے بتایا: ‘عورتیں اپنے خاندان کی مدد کے بغیر اپنا کریئر جاری نہیں رکھ سکتیں۔ میں اس سلسلے میں بہت خوش نصیب ہوں۔’بتول ایک مقامی کالج میں انگریزی کی لیکچرر تھیں۔ شادی کے بعد ان کے خاوند نے، جو خود بھی سول سرونٹ ہیں، انھیں سی ایس ایس کا امتحان دینے پر مائل کیا۔ بتول نے کہا: ‘مجھے کچھ پتہ نہیں تھا کہ سی ایس ایس کیا ہوتا ہے،

لیکن میرے خاوند نے مجھے قسمت آزمانے کو کہا اور میں اچھے نمبروں سے کامیاب ہو گئی۔ بتول نے کہا: ‘فیلڈ ورک بہت مشکل ہوتا ہے، اور اس شعبے میں کام کرنے والی عورتیں کو مردوں سے زیادہ اپنے آپ کو منوانا پڑتا ہے۔ عام تاثر ہے کہ خواتین افسر اچھا کام نہیں کر سکتیں، اس لیے اس خیال کو توڑنے کے لیے مجھے اور بھی زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔ بطور فیلڈ اسسٹنٹ کمشنر بتول کی ذمہ داریوں میں بازار میں اشیا کی قیمتوں کے کنٹرول سے لے ناجائز تجاوزات رکوانے تک اور عمارتی قواعد و ضوابط پر عمل درآمد سے لے کر شہر میں سرکاری کاموں کی نگرانی شامل ہیں۔ میں ان کے ساتھ دفتر گئی۔ وہاں راہداری میں ایک درجن کے لگ بھگ مرد ان کے منتظر تھے۔ اگلے آدھے گھنٹے تک وہ ملاقاتیوں سے ملنے، فائلوں پر دستخط کرنے، حکم جاری کرنے اور لوگوں کی رہنمائی میں مصروف رہیں۔ انھوں نے کہا:‘یہ ضروری ہے کہ آپ کام کے دوران رکھ رکھاؤ کا خیال رکھیں۔ یہ مشکل کام ہے اور ہر روز نئی ذمہ داریاں سامنے آ جاتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ مختلف حالات کے مقابلے کے لیے ذہنی طور پر تیار رہتی ہیں اور انھیں یاد نہیں ہے جب انھیں کام کے دوران کوئی ایسا موقع آیا ہو جب انھیں کسی خاص پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہو۔

مسئلہ یہ ہے کہ ہماری عورتوں کو الگ ڈبے کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہم عام ڈبے میں کیوں سفر نہیں کر سکتیں تاکہ تمام دوسری عورتوں کے لیے ماحول محفوظ تر ہو جائے؟ وہ سمجھتی ہیں کہ عورتوں کو اپنی سوچ میں بھی تبدیلی لانی ہو گی۔ میں یہاں اپنی مرضی سے آتی ہوں، کام کے سلسلے میں مجھے سارا دن مردوں سے لین دین کرنا پڑتا ہے، اور یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ ایسا کوئی ایک لمحہ بھی نہیں آیا جب میں نے محسوس کیا ہو کہ میں ‘ٹوٹ’ گئی ہوں یا مجھے ‘دھچکہ’ لگا ہو۔ کوئٹہ میں کام کرنا آسان نہیں ہے۔ بتول کی برداری نشانے پر ہے اور ان کا کام انھیں بےحد نمایاں کر دیتا ہے۔ ممکنہ طور پر وہ ہدف بن سکتی ہیں،لیکن بتول نے یہ فیصلہ سمجھ کر کیا ہے۔ بلوچستان کے بارے میں اچھی بات یہ ہے کہ یہاں عورتوں کی بہت عزت کی جاتی ہے۔ میں اسی عزت کا فائدہ اٹھاتی ہوں اور مجھے کسی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ بلکہ بطور افسر یہ میری طاقت بن جاتی ہے،کیوں کہ لوگ عورت ہونے کے ناطے مجھے جگہ دیتے ہیں اور میرے ساتھ بحث نہیں کرتے۔ میں بتول کے ساتھ کوئی کے مصروف اور معروف میزان چوک میں ناجائز تجاوزات دیکھنے گئی۔ انھیں بتایا گیا کہ سریاب روڈ پر فائرنگ کے واقعے کے بعد شہر بھر میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے،

اور بعض پولیس دستے پولیو ٹیموں کے ساتھ تعینات کر دیے گئے ہیں، اس لیے بتول کو اضافی سکیورٹی نہیں مل سکے گی۔ تاہم انھوں نے منصوبے کے مطابق کام جاری رکھا۔ چھاپے کے دوران ان کا رویہ سخت اور تحکمانہ تھا۔ درجنوں مردوں کے درمیان وہ اطمینان اور خوش اسلوبی سے چل پھر رہی تھیں۔ بلوچستان کے نیم قبائلی اور قدامت پرست معاشرے میں بتول اسدی تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند ہیں۔ وہ اپنے علاقے کے لوگوں کی خدمت کے لیے پرعزم دکھائی دیتی ہیں۔ انھیں پنجاب میں کام کرنے کی بھی پیشکش ہوئی تھی جو زیادہ ترقی یافتہ اور محفوظ علاقہ ہے، لیکن بتول نے کوئٹہ میں کام کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہمارے کام میں آخرکار آپ کی نیت ہی فیصلہ کن ثابت ہوتی ہے۔ اس کا اثر آپ کے ہر کام پر پڑتا ہے، اور میری سوچ بالکل واضح ہے کہ میں یہاں اپنے لوگوں کی خدمت کے لیے ہوں۔ سرکاری نوکری کا دارومدار اعتماد پر ہے۔: