نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء پر حاوی ، احتساب عدالت سے ناقابل یقین خبرآ گئی

اسلام آباد: احتساب عدالت میں ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس کی سماعت کے دوران نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث اور نیب پراسیکیوٹر کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، نیب پراسکیوٹر نے کہا کہ تین دن سے خواجہ حارث ایک ہی سوال کر رہے ہیں جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ جب گواہ جھوٹ بولےگاتوسچ اگلوانےکیلئےسوال کرناپڑیں گے۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کر رہے ہیں،نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیا کے بیان پرجرح کر رہے ہیں۔سماعت کے آغاز پرخواجہ حارث نے واجد ضیاء پر جرح کے دوران جے آئی ٹی رپورٹ کے والیم ٹین سے متعلق استفسار کیا کہ آپ مکمل والیم 10 نہیں،باہمی مشاورت قانون کےتحت لکھے7خطوط لائےہیں۔واجد ضیاء نے کہا کہ جی، باہمی مشاورت قانون کےتحت لکھے7خطوط لایا ہوں۔خواجہ حارث نے کہا کہ آرڈرمیں واضح کردیں کہ مکمل والیم 10پیش نہیں کیاگیا۔اس پر واجد ضیاء نے کہا کہ مجھےمکمل بات کرنےدیں۔خواجہ حارث نے کہامیں فارسی یاعربی میں نہیں،اردومیں پوچھ رہاہوں۔اس پر نیب پراسیکیوٹر نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ گواہ سےبراہ راست بات نہ کریں۔واجدضیاء نے کہا کہ باہمی مشاورت قانون کےتحت 7خطوط میں1980 کےمعاہدےکاریفرنس دیاہے۔خواجہ حارث نے کہا کہ واجد صاحب آپ موقف بدل رہے ہیں۔اس پر واجد ضیاء نے جواب دیا کہ میں موقف نہیں بدل رہا۔خواجہ حارث نے کہا کہ آپ اپنا موقف بدلیں گے انشاءاللہ اور حقیقت کی طرف آئیں گے۔نیب پراسکیوٹر نے پھر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ تین دن سے خواجہ حارث ایک ہی سوال کر رہے ہیں۔

اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ انہیں اعتراض ہےتوالگ بات ہے،میں سوال ضرورکروں گا۔نیب پراسکیوٹر نے کہا یہ سارے سوال دہرا رہے ہیں۔خواجہ حارث نے کہا کہ جب گواہ جھوٹ بولےگاتوسچ اگلوانےکیلئےسوال کرناپڑیں گے،جرح میں سچ اگلوانےکیلئےمختلف زاویوں سےسوال پوچھےجاتےہیں ، میں سوال پوچھوں گا۔نیب پراسکیوٹر نے کہا کہ سوال قانون شہادت کیخلاف جائے گا تو میں ضرور ٹوکوں گا،گواہ کو ایسے نہ کہیں کہ اس نے دھوکا دیا ہے،گواہ قابل احترام شخصیت ہے اس کی ذات پر بات نہ کی جائے، عدالت فیصلہ کرے گی کہ کس نے دھوکا دیا ۔خواجہ حارث نے کہا کہ میں نے واجد ضیاء کو دھوکے باز نہیں کہا۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ آپ ایسے تبصرے سے اجتناب کریں۔خواجہ حارث نے کہا کہ انہیں کوئی دیانت داری کا سرٹیفکیٹ دینا ہے تو دے لیں۔جج محمد بشیر نے معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ کس نے ایسا کہا ہے؟خواجہ حارث نے کہا کہ ہمیں اپناموقف سامنےلاناہےاس میں کوئی چیزذاتی نہیں،باہمی مشاورت قانون کےتحت کونسےخطوط میں قانونی سوال پوچھےگئے،کون سےخطوط انٹرنیشنل کارپوریشن ڈیپارٹمنٹ کولکھےگئے۔واجدضیا نے کہا کہ باہمی مشاورت قانون کےتحت 4خطوط میں قانونی سوال پوچھےگئے،

چاروں خطوط 15جون 2017 کولکھے گئے، چاروں خطوط کےساتھ 1980کےمعاہدےکی کاپیاں نہیں لگائی گئیں،12 جون 2017 کو سینٹرل اتھارٹی کوایک ایم ایل اےبھجوائی گئی، اس ایم ایل اےکےساتھ متعدددستاویزات بھی بھجوائی گئیں،دستاویزات میں 1978 کا معاہدہ بھجوایا تھا۔خواجہ حارث نے کہا کہ آپ نےاس ایم ایل اےمیں 1980کامعاہدہ نہیں بھجوایا۔واجد ضیا نے کہا کہ حیران ہوں آپکووالیم ٹین کی مجھ سے زیادہ معلومات کیسے ہیں،یہ درست ہےاس ایم ایل اےکےساتھ 1980 کامعاہدہ نہیں لگایاگیا۔خواجہ حارث نے کہا کہ مجھے سپریم کورٹ میں والیم ٹین دکھایاگیاتھا۔واجدضیا نے کہا کہ نوٹری پبلک سےبراہ راست 1980 کےمعاہدےکی تردیدہونےکاجواب نہیں آیا،جسٹس ڈیپارٹمنٹ سےجواب آگیاتھا۔خواجہ حارث نے کہا کہ نوٹری پبلک کےجواب میں آپ کےایم ایل اےکاذکرتھا؟واجدضیا نے جواب دیا کہ جواب میں ہمارے ایم ایل اےکاذکرنہیں تھا،دو اتھارٹیز سےایم ایل اےکابراہ راست جواب نہیں آیا۔