ishaq dar

آمدن سے زائد اثاثے:اسحاق ڈار کے خلاف احتسا ب عدالت سے بڑی کارروائی کی خبر آ گئی

اسلام آباد: سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات سے متعلق ضمنی ریفرنس میں شامل شریک ملزمان پر فرد جرم عائد کردی گئی۔واضح رہے کہ نیب کی جانب سے 26 فروری 2018 کو دائر کیے گئے اثاثہ جات ضمنی ریفرنس میں نیشنل بینک کے سابقصدر سعید احمد، نعیم محمود اور منصور رضا رضوی کو بھی شریک ملزم کے طور پر نامزد کیا گیا تھا۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے آج اسحاق ڈار کے خلاف نیب ضمنی ریفرنس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران ضمنی ریفرنس میں شامل ملزمان نعیم محمود، منصور رضا اور صدر نیشنل بینک سعید احمد احتساب عدالت میں پیش ہوئے، جہاں ان پر فرد جرم عائد کردی گئی، تاہم ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا۔سماعت کے بعد احتساب عدالت نے 11 اپریل کو استغاثہ کے گواہان کو طلب کرلیا۔کیس کا پس منظر۔سپریم کورٹ کے 28 جولائی 2017 کے پاناما کیس فیصلے کی روشنی میں نیب نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا ریفرنس دائر کیا تھا۔سپریم کورٹ کی آبزرویشن کے مطابق اسحاق ڈار اور ان کے اہل خانہ کے 831 ملین روپے کے اثاثے ہیں جو مختصر مدت میں 91 گنا بڑھے۔گذشتہ برس 27 ستمبر کو احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثوں کے نیب ریفرنس میں اسحاق ڈار پر فرد جرم عائد کی تھی تاہم انہوں نے صحت جرم سے انکار کردیا تھا۔اسحاق ڈار 7 مرتبہ احتساب عدالت کے روبرو پیش ہوچکے ہیں۔تاہم بعدازاں مسلسل غیر حاضری پر احتساب عدالت نے 11 دسمبر 2017 کواسحاق ڈار کو اشتہاری ملزم قرار دے دیا تھا۔سابق وزیر خزانہ اِن دنوں علاج کی غرض سے بیرون ملک مقیم ہیں۔

بعدازاں رواں برس 26 فروری کو نیب نے اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا ضمنی ریفرنس بھی احتساب عدالت میں دائر کیا، جس میں نیشنل بینک کے سابق صدر سعید احمد کے علاوہ نعیم محمود اور منصور رضوی کو بھی شریک ملزم کے طور پر نامزد کیا گیا۔احتساب عدالت نے گذشتہ ماہ 5 مارچ کو ہونے والی سماعت کے دوران ضمنی ریفرنس میں نامزد ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے 12 مارچ کی تاریخ مقرر کی تھی۔تاہم ملزمان نعیم محمود اور منصور رضوی نے فرد جرم عائد نہ کرنے کی درخواست کی جبکہ سعید احمد نے عدالت میں ضمنی ریفرنس خارج کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔20 مارچ کو ہونے والی سماعت پر احتساب عدالت نے شریک ملزم سعید احمد کی اثاثہ جات ضمنی ریفرنس خارج کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ملزمان پر فردجرم عائد کرنے کے لیے 27 مارچ کی تاریخ مقرر کی تھی۔27 مارچ کے بعد سے مذکورہ کیس کی متعدد سماعتیں ہوئیں لیکن کسی نہ کسی وجہ کی بناء پر شریک ملزمان پر فرد جرم عائد نہیں ہوسکی تھی۔27 مارچ کے بعد سے مذکورہ کیس کی متعدد سماعتیں ہوئیں لیکن کسی نہ کسی وجہ کی بناء پر شریک ملزمان پر فرد جرم عائد نہیں ہوسکی تھی۔