نواز شریف کا جیل جانا یقینی، الیکشن سے قبل (ن) لیگ کون سی بڑی مشکل کا شکار ہونے والی ہے؟ خبر آگئی

اسلام آباد:سابق وزیر اعظم نوازشریف اور ان کے مخالفین ایک پیج پر ہیں کہ احتساب عدالت کے فیصلے میں نوازشریف کو سزا ہوگی ،دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ نواز کے صد ر شہباز شریف کی ایسی صورتحال میں ذمہ داری مزید بڑھ جائیگی،مخالفین کویقین ہے کہ ایک بار نوازشریف جیل جاتے ہیں تو پارٹی ٹوٹ جائیگی اور ان کے آئندہ انتخابات میں جیت کی راہ ہموا رہوجائے گی ۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم نوازشریف اور ان کے سیاسی مخالفین احتساب عدالت سے ریفرنسسز میں ممکنہ انوکھے نتیجے پر ایک پیج پر ہیں جس میں ان پر فرد جرم عائد کی جائیگی ،یہ نہیں معلوم اور نہ اس کا پتہ ہے کہ جسٹس محمد بشیر ٹرائل کے کیا نتیجہ سنائیں گےلیکن دونوں سیاسی اطراف سے ’’یقینی ‘‘یہی کہا جارہا ہے کہ نوازشریف کو جیل کی سزا ہوسکتی ہے،بلاشبہ ان کا یقین ہر طرف پھیلے 28 جولائی کے سپریم کورٹ کے گزشتہ برس کے فیصلے کے بعد تاثر کی بنیادوں پر ہی ہے۔یہ علیحدہ علیحدہ عام طور پر ہی گونج رہا ہے کہ نوازشریف کو نہیں چھوڑا جائے گا ،ان کے اپنے سیاسی مقاصد اور محرکات ہیں ،یقینی طور پر یہ کہا جارہا ہے کہ سابق وزیر اعظم کو ہر قیمت پر سزا ہوجائے گی ۔نوازشریف کے مخالفین کو یقین ہے کہ ایک بار وہ جیل جائینگے تو پاکستان مسلم لیگ (ن)ٹوٹ جائے گی اور لنگڑی ہوجائے گی او ر پھر ان کیلئے آنے والے انتخابات میں جیت کیلئے راہ ہموار ہوجائے گی ،دوسری طرف یہ بہت مشکل تھا کہ ان کی نااہلی سے ان کی پارٹی متاثر ہوئی ہے،وہ تو مسلسل مضبوط اور متحد قوت ہوتی گئی اور بالخصوص پنجاب میں کوئی انتخابی چیلنج کا سامنا نہیں کرنا پڑا
ادھر سابق وزیر اعظم پر اگر فردجرم عائد کی جاتی ہے تو اسے ہٹانے کا آپشن نہیں ہے

لیکن یہ محسوس کیا جاتا ہے کہ اس سے ان کی مشہور ہونے والی اپیل میں مسلسل ہونےو الا اضافہ اور بڑھے گا ۔ریفرنسز کے آنے کے نتیجے میں ان کی یقینی اسیری سے متعلق نوازشریف نے اتوار کو سوات کے عوامی جلسے اپنے حامیوں پر زور دیا تھا کہ وہ ان کی آواز پر عمل کریں چاہیں وہ اس کیلئے ہدایات یا رہنمائی دیں۔انہوں نے اس کے اثرات پر سوال عوام کے سامنے پیش کیا اور اس کا انہیں مثبت جواب ملا ،انہو ںنے اپنی حراست پر کوئی شبہ نہیں چھوڑا ،ان کی معزولی سے لے کر وہ اپنے ساتھیوں اور معاونین کو بتارہے ہیں کہ وہ جیل جانے سے خوفزدہ نہیں ہیں اور وہ خراب صورتحال کیلئے بھی تیار ہیں ۔احتساب عدالت کے باہر بھی انہوں نے اس بات کو دہرایا تھا کہ جب ان کیخلاف کیسوں میں کچھ بھی نہ ملا تو اسٹار پراسیکیو شن گواہ پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاکی شہادت کو دوبارہ مضبوط کیا گیا ،یہ انہیں سزا دلانے اور سیاست سے نکالنے کیلئے جنونی کوشش کی گئی ہے اور اس کا مقصد آنے والے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ کو ہرانا بھی ہے۔’’دیکھا جائے تو چند لوگوں کا یہی مقصد ہے ‘‘ناصرف تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بلکہ ان کی پارٹی میں بڑی تعدا د میں رہنمائوں کوبھی یقین ہے کہ نوازشریف کو احتساب عدالت سے سزا ہوجائے گی ،پیپلز پارٹی رہنما اعتزاز احسن نے اپنے پروجوش لہجے میں کہا ہے کہ آنے والا نتیجہ نوازشریف کیخلاف ہوسکتا ہے ،یہ ناممکن ہے کہ وہ بچ جائیں اوروہ اپنے کارکنان کو اگلی کال اڈیالہ جیل سےیا پھر جلا وطن ہوکر دینگے ۔