نئی حلقہ بندیوں کا کمال۔۔۔ پاکستان کا وہ واحد حلقہ جس کا رقبہ پورے صوبہ خیبرپختونخوا سے بھی زیادہ ہے

اسلام آباد قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے پارلیمانی امور کو پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے بتایا کہ نیو یارک کے روٹ پر پی آئی اے کو ایک ارب 20 کروڑ سالانہ کا خسارہ تھا ،جس کی وجہ سے اس روٹ کو بند کردیا گیا اور طیاروں کو منافع بخش روٹ پر استعمال کیا جارہا ہے۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ نیویارک روٹ کی لیز ختم ہونے پر دوبارہ شروع کیا جائے

اور مسافروں کو بہتر سہولیات فراہم کی جائیں‘ کمیٹی میں انکشاف کیا گیا کہ بلوچستان کا ایک حلقہ اتنا بڑا ہے جو خیبر پی کے کے کل رقبے سے بھی زیادہ ہے جبکہ بٹ گرام کا پونے چھ لاکھ کی آبادی پر اور حافظ آباد میں بارہ لاکھ پر حلقہ بنا دیا گیا ہے۔ پی آئی اے حکام نے کمیٹی کو بتایا پی آئی اے کا نیویارک والا روٹ کافی عرصے سے مسلسل خسارے میں جارہا تھا جو بڑھ کر 1 ارب 20 کروڑ روپے سالانہ ہوگیا تھا۔ ہوا بازی کی صنعت میں نافذ العمل روجحان کے پیش نظر پی آئی اے نے اس روٹ کو بند کرنے کا فیصلہ کیا اور طیاروں کو منافع بخش روٹس پر استعمال کیا جارہا ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ نیویارک کی فلائٹ تو فل رہتی تھی لیکن آپ کہہ رہے ہیں کہ یہ نقصان میں تھا یہ کیسے ہوگیا۔جس پر چیف ایگزیکٹو آفیسر نے کہا کہ ہمارے کرو وہاں جاکر اچھے ہوٹلوں میں رہتے ہیں جس کی وجہ سے خرچہ زیادہ آتا ہے اور فلائٹ کو 2 یا تین مرتبہ لینڈنگ کرنے کی وجہ سے بڑے جہاز پر زیادہ خرچہ آتا ہے جس کی وجہ سے خسارہ بڑھ رہا تھا۔ پی آئی اے کے پاس کل 32 جہاز ہیں 777 بارہ ہیں جن میں آٹھ اپنے اور چار ڈرائی لیز پر ہیں۔ ایڈیشنل سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کمیٹی کو بتایا کہ گزشتہ بدھ کے روز بٹ گرام اور قصور کے حلقہ بندیوں کے حوالے سے آنے والی درخواستوں پر سماعت کی گئی ہے رکن کمیٹی نے کہا کہ ہم نے اپنے گزشتہ پانچ چالوں میں جو کام جس میں ہسپتال اورسکول بنوائے تھے وہ اب حلقہ بندیاں ہونے کی وجہ سے دوسرے حلقوں میں چلے گئے ہیں۔ جس کی وجہ سے ہمیں پریشانی کا سامنا ہے کہ ہم الیکشن میں جاکر کیا کہیں گے کہ ہم نے اس حلقے کیلئے کیا کام کیا ہے۔