بانجھ خاتون کی 5 برس تک حاملہ ہونے کی کوشش، مسلسل ناکامی، پھر بالآخر انڈے کی زردی سے یہ کام کیا تو اکٹھے 3 بچے پیداہوگئے

نیویارک اولاد دنیا کی حسین ترین نعمت ہے جس کی خواہش ہر ماں باپ کو ہوتی ہے اور اس کے حصول میں کوئی طبی مسئلہ درپیش ہو تو اس کے مہنگے ترین علاج کرائے جاتے ہیں تاہم بسااوقات کسی طرح کا علاج بارآور نہیں ہوتا۔ امریکہ میں بھی بے اولادی کا شکار ایک جوڑا 5سال تک علاج کرانے کے بعد مایوس ہو چکا تھا

لیکن پھر ایک ایسے طریقہ ¿ علاج سے ان کی مراد برآئی کہ سن کر ہر بے اولاد جوڑے کو امید کی کرن نظر آنے لگے گی۔ میل آن لائن کے مطابق سارا اور مائیکل ویئرڈ کی شادی ہوئی تو انہیں بھی دیگر ماں باپ کی طرح اولاد کو گود میں اٹھانے کا ارمان تھا لیکن طبی مسائل کے باعث ان کی یہ ارمان دل میں ہی رہ گیا۔ اگلے پانچ سال تک انہوں نے ہر طرح کا علاج کرایا لیکن سب بیکار گیا۔ وہ مایوسی کے کنارے پر ہی تھے کہ انہیں بے اولادی کے ایک متنازعہ ترین طریقہ علاج کے بارے میں معلوم ہوا، جس میں خاتون کے جسم میں مرغی کے انڈے کی زردی ٹیکے کے ذریعے داخل کی جاتی ہے۔ سارا ہر صورت ماں بننا چاہتی تھی چنانچہ وہ اس علاج کے لیے بھی تیار ہو گئی۔یہ طریقہ¿ علاج سارا اور مائیکل کے لیے نعمت ثابت ہوا۔اس علاج کے بعد ان کی گود بیک وقت تین بیٹیوں سے بھر گئی۔ مائیکل اور سارا نے اپنی بیٹیوں کے نام شارلٹ، ایملی اور الزبتھ رکھے۔تینوں صحت مند پیدا ہوئیں اور اب ان کی عمر 3سال ہو چکی ہے۔ چھیالیس سالہ سارا اور51سالہ مائیکل کا کہنا ہے کہ ”ایک وقت تھا کہ ہم مایوس ہو چکے تھے۔ ہمیں لگا کہ اب ہم کبھی ماں باپ نہیں بن سکیں گے۔ ہم نے آئی وی ایف کے ذریعے بھی اولاد حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن ہر بار ناکامی ہوئی۔

ہم نے کبھی سنا بھی نہیں تھا کہ انڈے کی زردی کے ذریعے بھی اس کا علاج ہوتا ہے، ہم چونکہ ہر حربہ آزمانے کو تیار تھے لہٰذا جیسے ہی ہمیں اس کا علم ہوا ہم فوری طور پر اس کے لیے تیار ہو گئے۔اس علاج کے بعد آئی وی ایف کے ذریعے میرے جسم میں ایمبریو رکھا گیا لیکن چند ہفتے بعد یہ حمل بھی ضائع ہو گیا۔ ہم نے ہمت نہیں ہاری اور ایک بار پھر انڈے کی زردی کے ساتھ ڈاکٹروں نے میرے جسم میں تین ایمبریو رکھے۔ اس بار حمل کی مدت صحت مندی سے مکمل ہو گئی اور ہمارے آنگن میں بیک وقت تین پھول کھل اٹھے۔“رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر انڈے کی زردی کے ذریعے بے اولادی کے علاج کی مخالفت کرتے ہیں۔ برٹش فرٹیلٹی سوسائٹی بھی اس کے استعمال سے ممانعت کرتی ہے اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدان بھی تحقیق میں بتا چکے ہیں کہ طریقہ¿ علاج سے اولاد کے حصول میں کوئی مدد نہیں ملتی۔ تاہم اس طریقہ علاج کے پیچھے تھیوری یہ ہے کہ مرغی کے انڈے کی زردی میں موجود ’فیٹی ایسڈز‘ (Fatty Acids)ماں کے خون میں شامل ہو کر اس کے مدافعتی نظام میں موجود ’قاتل خلیوں‘ (Killer Cells)کی تعداد کم کر دیتے ہیں۔ یہی وہ خلیے ہیں جو حمل کے ضائع ہونے کا سبب بنتے ہیں۔واضح رہے کہ اس طریقہ¿ علاج کے تحت ڈاکٹروں نے سارا کے جسم میں سویا بین کے تیل، انڈے کی زردی، گلیسرین اور پانی کا آمیزہ داخل کیا تھا جس پر 250پاﺅنڈ(تقریباً40ہزار روپے) لاگت آئی تھی۔