برطانیہ میں ’پیار‘ بیچنے والے پاکستانی کو گرفتار کرلیا گیا، یہ کیسے کرتا تھا؟ انتہائی شرمناک حقیقت سامنے آگئی

لندن :برطانیہ میں ’پیار‘ کا کاروبار کرنے والے ایک پاکستانی شخص اور اس کی یورپی بیوی کو عدالت نے قید کی سزا سنا دی ہے۔ اس جوڑے نے ایسا مکروہ دھندا شروع کر رکھا تھا کہ جان کر پاکستانیوں کا سر شرم سے جھک جائے گا۔ میل آن لائن کے مطابق 32سالہ پاکستانی شخص ایاز خان اور اس کی 25سالہ یورپی بیوی جرگیٹا پیولووسکیت ، جو لتھوانیا کی شہری ہے،

پیسوں کے عوض جنوبی ایشیائی ممالک کے مردوں کی یورپی لڑکیوں سے شادیاں کرواتے تھے تاکہ ان مردوں کو یورپی ممالک کی شہریت مل سکے۔انہوں نے ایک باقاعدہ گینگ بنا رکھا تھا اور اب تک وہ اس مکروہ دھندے سے 5لاکھ پاﺅنڈ (تقریباً 8کروڑ 13لاکھ روپے) کما چکے تھے۔ ان کے گینگ میں 32سالہ پاکستانی محمد ثقلین اور لتھوانیا ہی کی 26سالہ ڈیانا ستانکیویک سمیت کئی دیگر ملزمان بھی شامل تھے۔پراسیکیوٹرز نے لندن کی اولڈ بیلے عدالت میں بتایا کہ ”ایاز خان اور محمد ثقلین پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش سے یورپ آنے کے خواہشمند مردوں کو تلاش کرتے تھے جبکہ جرگیٹا اور ڈیانا یورپی ممالک سے ایسی لڑکیاں تلاش کرتی تھیں جو پیسوں کے عوض جعلی شادی کرنے پر رضامند ہوں۔ یہ لوگ ایشیائی مردوں سے بھاری رقوم لے کر یورپی لڑکیوں سے جعلی شادیاں کرواتے اور دیگر جعلی کاغذات بنوا کر ان مردوں کو یورپی ممالک کی امیگریشن دلواتے تھے۔“ پراسیکیوٹرز کے مطابق انہوں نے ایسے کئی جوڑوں سے تفتیش کی جن کی انہوں نے شادیاں کروائی تھیں۔ ان میں سے اکثر میاں بیوی ایک دوسرے کے متعلق کچھ نہیں جانتے تھے، حتیٰ کہ وہ آپس میں معمولی گفتگو کے لیے بھی گوگل ٹرانسلیٹر سے کام لیتے تھے۔ دوران تفتیش بعض بیویاں تو اپنے شوہروں کے نام ٹھیک سے نہیں بتا پائیں۔اولڈ بیلے کورٹ نے گینگ کے ملزمان کو مجموعی طور پر20سال قید کی سزا سنا دی ہے، جس میں گینگ کے سرغنہ جوڑے ایاز خان کو 6اور جرگیٹا کو 5سال قید کی سزا دی گئی۔