salman khan

کالے ہرن کے شکار سے پہلے کیا ہوا تھا؟ اصل کہانی منظر عام پر آ گئی

ممبئی بالی ووڈ اداکار سلمان خان کو 5 برس جیل کی سزا سنادی گئی، اداکار کو سزا آج جودھ پورکورٹ نے کالے ہرن’چنکارہ‘ نسل کیس میں مجرم قرار دیتے ہوئے سنائی۔کالے ہرن کے شکار کا مقدمہ سلمان خان پر 1998 سے چل رہا تھا، جس میں ان کے ساتھ دیگر ساتھی اداکار بھی شامل تھے۔

اس سے قبل سلمان خان نے ہرن کے شکار سے پہلے ہونے والی ساری داستان ایک بھارتی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں بیان کی تھی۔انٹرویو میں سلمان خان نے بتایا کہ میں اور ساتھی اداکار فلم کی شوٹنگ ختم کرنے کے بعد اپنا سامان باندھ رہے تھے کہ اس دوران میںنےایک کالا ہرن دیکھا، اور سوچا کہ یہ ہرن یہاں کہاں سے آیا ہے۔ایک دن اس طرح شوٹنگ ختم کرنے کے بعدہم سب جانے لگے، تو میرے ساتھ سیف علی خان، تبو، نیلم ، امرتااور سونالی ساتھ تھے، اس دوران ہم نے ایک کالے ہرن کو دیکھا، جو جھاڑیوں میں الجھ گیا تھا۔سلمان خان نے مزید بتایا کہ میں ہرن کی مدد کرنا چاہتا تھا، اس وقت ہرن کا جھنڈ بھی اس کے ہرن کے ساتھ تھا، پھر بھی میں نے گاڑی روکی، تو ہرن پریشان ہوگیا،ہم نے اس ہرن کو جھاڑیوں سے نکالا اور پانی پلایا، وہ ہرن ڈرا ہوا لگ رہا تھا، لیکن کچھ دیر بعد اسے بسکٹ دیے ،تو اس نے کھائے اور پھر واپس اپنے جھنڈ میں بھاگ گیا۔یاد رہے کہ سلمان خان اور ان کے ساتھی اداکار اس وقت جودھ پور کے قریب فلم ہم ساتھ ساتھ ہیں کی شوٹنگ میں مصروف تھے،جہاں یہ کالے ہرن کے شکار کا واقعہ پیش آیا۔

سلمان خان کوکالے ہرن کے شکار میں سزا سنا دی گئی، جبکہ ان کے ساتھی اداکاروں اور ملزمان سیف علی خان، سونالی بیندرے، تبو، نیلم کوتھاری اور علاقے کے مقامی دشیانت سنگھ سمیت شک کی بناء پر رہا کردیا گیا تھا۔دوسری طرف وزیر خارجہ خواجہ آصف نے بالی ووڈ اداکار سلمان خان کو کالے ہرن کیس میں ملنے والی سزا کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سزا سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں کا خون ارزاں ہے۔نجی ٹی وی سے گفتگو میں خواجہ آصف کا سلمان خان کی سزا کے حوالے سے کہنا تھا کہ سلمان خان کو 20 سال بعد ہرن کے شکار سے متعلق کیس میں 5 سال کی سزا دیکر ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا۔خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ سلمان خان کو سزا اس لیے دی گئی کیونکہ ان کا تعلق بھارت کی اقلیت سے ہے۔انہوں نے کہا کہ سلمان خان کو دی جانے والی سزا سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت میں تمام اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کا خون ارزاں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر سلمان خان کا تعلق حکمراں جماعت کے مذہب سے ہوتا تو ہو سکتا ہے کہ انہیں کم سے کم سزا ملتی۔تو ہو سکتا ہے کہ انہیں کم سے کم سزا ملتی۔