asad umar

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی جانب سے متعارف کرائی جانے والی ایمنیسٹی اسکیم ۔۔۔پی ٹی آئی رہنما اسد عمر نے اصل سازش بے نقاب کر دی

:اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اسد عمر نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی جانب سے متعارف کروائی جانے والی ایمنیسٹی اسکیم سے متعلق کہا کہ اس ایمنیسٹی اسکیم کا سب سے زیادہ فائدہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور ان کے خاندان،
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری

اور شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو ہوگا کیونکہ یہ پبلک آفس ہولڈر نہیں اور اس اسکیم کے مطابق یہ تمام اشخاص اہل ہیں۔ڈان نیوز کے پرگرام ‘نیوز آئی’ میں گفتگوں کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے کہا کہ ‘اسٹیٹ بینک اور اسحٰق ڈار کے مطابق اربوں ڈالر کی ملکی رقم چوری کے ذریعے ملک سے باہر رکھی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ چونکہ اب عالمی قانون کے مطابق پاکستانیوں کی ملک سے باہر رکھی گئی رقم کی تمام معلومات حکومتِ پاکستان کے ساتھ شیئر کی جائیں گی جس سے چوری کی دولت پکڑی جاسکتی ہے، لیکن ایسے موقع پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی جانب سے ایمنیسٹی اسکیم متعارف کروادی جاتی ہے تاکہ 2 فیصد ٹیکس دو اور اپنی تمام غیر ملکی دولت حلال کرلو، اس عمل کا کیا جواز بنتا ہے؟انہوں نے کہا کہ ‘اب ہر سال اس طرح کی ایمنیسٹی اسکیم متعارف کروادی جاتی ہیں۔ پچھلی رئیل اسٹیٹ ایمنیسٹی اسکیم میں 297 ارب روپے کا کالا پیسہ سفید کیا گیا اور اس سے پاکستان کے ریونیو میں صرف 800 ملین روپے کا اضافہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ آپ چوروں اور لٹیروں کو مواقع کیوں فراہمکرتے ہیں کہ وہ اپنا کالا دھن با آسانی سفید کرسکیں، اصل مسئلہ ہی یہ ہے کے جنہوں نے ملک کو لوٹا وہی لوگ پالیسی بنا رہے ہیں۔

پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ اس کا بہتر حل یہ ہونا چاہیے کہ عالمی قوانین کو استعمال کرتے ہوئے 100 بڑے چور، جنہوں نے اپنا پیسہ اور جائیدادیں ملک سے باہر چھپائی ہوئی ہیں انہیں گرفتار کریں اور پھر ایمنیسٹی اسکیم رعایتی ریٹس پر نہیں بلکہ پورے پورے ریٹ کے ساتھ متعارف کروائیں، کیونکہ اس سے قومی خزانے کو فائدہ ہوگا۔واضح رہے کہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا تھا کہ حکومت نے انکم ٹیکس کے حوالے سے پیکیج جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملک میں اس وقت صرف 7 لاکھ افراد انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں، ٹیکس دہندہ گان کی محدود تعداد معاشی مسائل پیدا کر رہی ہے اور ٹیکس ادا نہ کرنے سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے، تاہم مذکورہ پیکج سے انکم ٹیکس کے دائرہ کار میں اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ’ملک میں 12 کروڑ افراد قومی شناختی کارڈ رکھتے ہیں، شناختی کارڈ نمبر کو انکم ٹیکس نمبر بنادیا گیا ہے اور اس پیکج کے ذریعے کوئی بھی شہری ایک آسان فارم بھر کر انکم ٹیکس دہندہ بن سکتا ہے۔وزیراعظم نے 5 نکاتی ٹیکس اصلاحات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’جو لوگ ٹیکس ادا نہیں کرتے اور جن کے بیرون ملک اثاثے موجود ہیں وہ 2 فیصد جرمانہ ادا کر کے ٹیکس ایمنسٹی حاصل کر سکتے ہیں۔‘