google

گوگل اب امریکی فوج کے ساتھ مل کر کیا کام کرے گا؟ صارفین پر بجلیاں گرا دینے والی خبر آ گئی

کیلی فورنیا دنیا بھر کو معلومات فراہم کرنے والا گوگل اب امریکی فوج کی مدد کرے گا۔ گوگل نے تصاویر شناخت کرنے کی ٹیکنالوجی امریکی فوج کو فراہم کرنے کا معاہدہ کر لیا۔ فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ہزاروں کمپنی ملازمین اور سینئر انجینئرز نے پینٹاگون پروگرام میں شامل ہونے پر احتجاجی خط لکھا ہے۔ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے

تصدیق کی ہے کہ وہ پینٹاگون کو ایک فوجی پراجیکٹ کے حصے کے طور پر تصاویر شناخت کرنے والی کچھ ٹیکنالوجیز کے استعمال کی اجازت دے رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی ڈرون سے بنائی گئی فوٹیج کی جانچ پڑتال کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ انسانی تجزیوں اور غیر جنگی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کے فوجی استعمال پر خدشات سر اٹھانے لگے۔خود گوگل کے ہزاروں ملازمین اور سینئر انجینئرز نے پینٹاگون پروگرام میں شامل ہونے پراحتجاج کیا ہے۔ماضی میں گوگل امریکی فوج کے ساتھ تعلق پر محتاط رہی ہے یہاں تک کہ پینٹاگون کے زیراہتمام ایک روبوٹس کے مقابلے میںگوگل نے دستبرداری اختیار کر لی تھی جبکہ توقع تھی کہ وہ یہ مقابلہ جیت سکتا ہے اس کی وجہ بھی ایسے ہی خدشات تھے۔یاد رہے ویڈیو شیئرنگ سائٹ یوٹیوب کے ہیڈکوارٹر میں خاتون ملازمہ نے فائرنگ کرنے کے بعد خودکشی کرلی جب کہ فائرنگ سے دیگر 4 افراد بھی زخمی ہوئے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کیلی فورنیا میں یوٹیوب ہیڈ کوارٹر میں 36 سالہ خاتون ملازمہ نے دفتر میں پہلے فائرنگ کی جس کے بعد خود کو گولی مار کر اپنی جان کا خاتمہ کردیا جب کہ خاتون کی فائرنگ سے دیگر 4 ملازمین بھی زخمی ہوئے جن میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔ف

ائرنگ کے بعد یوٹیوب ہیڈکوارٹر میں بھگدڑ مچ گئی جب کہ سیکیورٹی الارم بجنے کے بعد پولیس نے فوری طور پر موقع پر پہنچنے کے بعد ملازمین کو عمارت سے باہر نکال دیا جب کہ زخمی افراد کو اسپتال منتقل کردیا گیا۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق پولیس نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ 36 سالہ خاتون نے پہلے فائرنگ کی جس کے بعد خودکشی کرلی تاہم پولیس نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے شواہد اکٹھے کرنا شروع کردیے۔دوسری جانب فائرنگ کے واقعے کے بعد بعض ملازمین کی جانب سے ٹوئٹر پر واقعے کی تصاویر اور ویڈیوز بھی شیئر کی گئ ہیں۔ٹوئٹر پر یوٹیوب کے ملازم ویڈم لاروسیک لکھتے ہیں کہ یوٹیوب ہیڈکوارٹر میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا جس کی آواز سننے کے بعد لوگوں کو بھاگتے ہوئے دیکھا۔یوٹیوب کی سی ای او سوسان ووجکیک نے لکھا کہ ‘آج دفتر میں ہونے والی فائرنگ کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا، ہماری تمام تر ہمدردیاں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور خاص طور پر سب سے پہلے ایکشن لینے والوں کے ساتھ ہیں’۔انہوں نے کہا کہ ہماری ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں جو فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہوئے اور ایک مرتبہ پھر ہم دوبارہ ایک فیملی کی طرح ایک ساتھ ہوں گے۔ ان کے ساتھ ہیں جو فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہوئے اور ایک مرتبہ پھر ہم دوبارہ ایک فیملی کی طرح ایک ساتھ ہوں گے۔