بڑا سیاسی تہلکہ : 3 حکومتی ارکان اسمبلی نے نواز شریف کا ساتھ چھوڑتے ہوئے بڑا اعلان کر دیا، لیگی قیادت کے ہوش اڑا دینے والی خبر آگئی

اسلام آباد:بلوچستان سے تعلق رکھنے والے دو سابق وزرا مملکت سمیت 3حکومتی ارکان قومی اسمبلی ۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے دو سابق وزرا مملکت سمیت 3حکومتی ارکان قومی اسمبلی نے مسلم لیگ ن چھوڑنے کا اعلان کردیا ۔سابق وزیر مملکت برائے پٹرولیم جام کمال،سابق وزیر مملکت برائےسائنس اینڈ ٹیکنالوجی دوستین خان ڈومکی

اور ایم این اے خالد کمال مگسی نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومتی پارٹی کے خلاف شکایات کے انبار لگا دئیے ۔انہوں نے کہا بڑی پارٹیوں میں چھوٹے صو بوں کے ایم این ایز سے زیادتی کی جاتی ہے لیڈرشپ ملاقات کیلئے وقت تک نہیں دیتی ۔بڑی پارٹیوں سے سبق مل گیا،ان میں شمولیت کا سوال ہی نہیں ۔ بلوچستان کے معاملات ایسے ہی چلائے جاتے رہے تو صوبے کی صورتحال نہیں بدلے گی ۔انہوں نے کہا 5سال میں صوبے میں کوئی بڑا منصوبہ شروع نہیں ہوا۔وزیر اعظم نے ڈاکٹر مالک کو 15 ارب روپے دئیے مگر میپ،نیشنل پارٹی اور ن لیگ کے ایک نہ ہونے کی وجہ سے فنڈزواپس چلے گئے ۔انہوں نے کہا بلوچستان کے مفادات کو بڑی پارٹیوں میں تحفظ نہیں دیاجاتا۔ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ بلوچستان عوامی پارٹی ہو یا کوئی اورجلد ہی اس حوالے سیاسی لائحہ عمل کا علان کریں گے ۔ٹی وی رپورٹ کے مطابق مستعفی ارکان نے کہا بلوچستان میں حالیہ تبدیلیوں کی اصل ذمہ دار مسلم لیگ (ن) خود ہے ، اگر کوئی کہتا ہے کہ اشارے پر چلتے ہیں تو سب اشاروں پر ہی چلتے ہیں، ہم اپنے مفادکو دیکھیں گے چاہے وہ فوج سے پورے ہوں یا سیاسی جماعت سے پورے ہوں۔پریس کانفرنس میں سینیٹر انوارالحق کاکڑ بھی موجود تھے ۔

3ارکان مستعفی۔یاد رہے نوازشریف اور مریم نواز کے خلاف توہین عدالت کی درخواستوں پر سماعت کےلیے تشکیل دیا گیا فل بینچ تیسری مرتبہ بھی تحلیل ہوگیا جس پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ایک بار پھر نیا بینچ تشکیل دے دیا۔لاہور ہائیکورٹ میں سابق وزیراعظم نوازشریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سمیت دیگر لیگی رہنماؤں کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے پر تنقید کی بنیاد پر توہین عدالت کی ایک درجن سے زائد درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔لاہور ہائیکورٹ کے دو سنگل بینچوں کے روبرو یہ درخواستیں زیر سماعت تھیں تاہم جسٹس مظاہر نقوی نے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے معاملہ اہم نوعیت کا ہونے کی بناء فل بینچ بنانے کی درخواست کی تھی۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس یاور علی نے درخواستوں کی سماعت کےلیے فل بینچ تشکیل دیا تھا جو 31 مارچ کو بینچ کے ایک رکن جسٹس شاہد حسن بلال کے ملتان تبادلے کے باعث ٹوٹ گیا تھا جس کےبعد چیف جسٹس نے جسٹس شاہد مبین کو بینچ میں شامل کرکے نیا بینچ تشکیل دیا تھا۔بینچ کے ایک رکن جسٹس شاہد حسن بلال کے ملتان تبادلے کے باعث ٹوٹ گیا تھا جس کےبعد چیف جسٹس نے جسٹس شاہد مبین کو بینچ میں شامل کرکے نیا بینچ تشکیل دیا تھا۔