nawaz sharif

وزیر اعظم کی ایمنسٹی سکیم کے پیچھے بھی نواز شریف کا ہاتھ نکلا۔۔۔خبر کی تفصیلات آپ کو حیران کر ڈالیں گی

لاہور اپنے پیشرو اور رہنما نواز شریف کےپوراناہونے والے2017کے وعدےکو پورا کرنے کی کوشش میں پاکستانی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ٹیکس نادہندگان کوایک موقع دیا ہے، اسے غیر اعلانیہ ،مقامی اور غیرملکی اثاثہ جات کیلئے ایک نرم ایمنسٹی سکیم کہا جاسکتاہے۔ تاہم پی ٹی آئی کی زیرقیادت اپوزیشننے اسے واضح طور پر مجرموں کی بحالی کی اسکیم قراردیاہے،

انھوں نےاسے سیاہ دھن کو سفید کرنے کیلئے امیروں کی مدد قراردیاہے اور بدلے میں ایک محفوظ راستے کا موقع دیاہے۔ ’’جنگ گروپ اور جیو ٹیلی ویژن نیٹورک‘‘ کی جانب سے کی گئی تحقیق سے ظاہرہوتا ہے کہ نااہل وزیراعظم نواز شریف نے جنوری 2017میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تحت منعقدہ ایک تقریب میں نئی ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے متعلق اشارے دیےگئے تھے۔ اس حوالے سے تجویز نامور بزنس مین ستارہ کیمیکلزفیصل آباد کےسی ای او میاں ادریس نےنومبر2016 میں آگےپہنچائی تھی، اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے بہت سے صنعتوں کے مالکان کو کراچی میں یقین دلایاتھا کہ اپنے وزیرخزانہ اسحاق ڈار سے ایک ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے حوالے سے بات کریں گے۔ تاہم قسمت کے باعث سپریم کورٹ نے ایک ماہ کی سماعت کے بعدنواز شریف کو 28جولائی 2017کو نااہل کردیا۔ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ نومبر2016میں فیڈرل بورڈ آر ریوینیوکی شدید مخالفت کے باوجود نیشنل ایمنسٹی پینل رئیل سٹیٹ کے7کھرب روپے کے کالے دھن کو سفید کرنے کیلئےایک ٹیکس ایمنسٹی سکیم کی منظوری دے چکاتھا۔ اگرچہ اس سکیم کو وزارتِ خزانہ کی شکست سمجھاگیاتھا جس کے ذریعے لوگوں کو پراپرٹی ٹرانزیکشن کے ذریعے

فئیرمارکیٹ ویلیوپرٹیکس ادا کرنے کیلئے مجبور کرنے کا عہد کیاگیاتھا، یکم دسمبر 2016کو قومی اسمبلی نے اس بڑی ٹیکس ایمنسٹی سکیم کی منظوری دے دی۔ پارلیمنٹ کے نچلے ایوان نے ٹیکس وصولی کی بجائے صرف تین فیصد ٹیکس دے کر کالے دھن کو سفید کرنے کی منظوری دی، اسے واضح طورپر ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کالے دھن کو پیداواری مقاصد کیلئے استعمال کرنے کا ذریعہ ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا اقدام بالکل بھی برا نہیں ہے۔ صرف12لاکھ فائلرز کے ذریعے ملک چلانا جن میں صرف7لاکھ لوگ ہیں جو حقیقت میں ٹیکس ادا کررہے ہیں، درحقیقت پاکستانی وزیراعظم نےاُن پاکستانی شہریوں کومصالحت کی پیش کش کی ہے جو اب تک اثاثے ظاہر کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ بہت سے ممالک نے کالے دھن کو سفید کرنے کی اس طرح کی اسکیمیں شروع کی تھیں اور اس کا کافی فائدہ ہوا۔ یہاں کچھ مثالیں پیش ہیں۔ اکتوبر2016 میں بھارتی ٹیکس ایمنسٹی میں اثاثے ظاہر کرنے سے 980کروڑ ڈالرز کافائدہ ہوا۔ 2اکتوبر 2016کے’’فنانش ٹائمز‘‘ انڈیا نے کہا:’’ حکومت نے کہاکہبھارت میں ٹیکس نادہندگان کیلئے ایک چارماہ کی ایمنسٹی کے نتیجے میں 10ارب ڈالر مالیت کے اثاثے ظاہر کیے گئے، کیونکہ حکومت ایک الیکشن

مہم میں غیرقانونی دھن کوپکڑنےکا وعدہ پورا کرناچاہتی تھی۔انکم ڈیکلریشن سکیم جو جون سے ستمبر تک چلی، اس نے شہریوں کو کسی بھی سزا کے بغیرچھپائے گئے اثاثے ظاہر کرنے کی اجازت دی۔ سکیم کے تحت ظاہر کیے گئے اثاثوں پر 45فیصد چارج عائد کیاگیا۔‘‘ وزیرِ خزانہ ارن جیٹلی نے رپورٹرز کو بتایا کہ 652ارب50کروڑ روپے کے اثاثے اس سکیم کے تحت ظاہر کیے گئے ہیں جس سے حکومت کو 294ارب روپے کی آمدنی ہوئی ۔ ایمنسٹی میں 64275 اثاثے ظاہر کیے گئےجس کی اوسطً مالیت ایک کروڑ2لاکھ روپے تھی۔ اسی طرح کی سکیم 1997میں شروع کی گئی تھی جس سے 97ارب6کروڑ روپے کی آمدنی ہوئی تھی، لیکن ارن جیٹلی نے کہاکہ حالیہ اقدام ٹیکس نادہندگان کیلئے سخت تھا، انھوں نے دلیل دی کہ گزشتہ کاوش ان کے اثاثے کی قیمت میں نامناسب کمی واقع ہوئی تھی۔ ’’فنانشل ٹائمز‘‘نے مزید کہا: ایک پراپرٹی ریسرچ کمپنی لیسز فوراز نے اندازہ لگایاکہ 2014 میں بھارت میں رئیل اسٹیٹ میں 30سے 40 فیصد ٹرانزیکشنزمیں غیرقانونی رقم شامل ہوتی ہے۔ ٹیکس چوری میں کمی کرنے سے مودی کی حکومت کی ساکھ بہترہوگی۔ یہ ہی 2014میں ان کا الیکشن کا منشور تھا۔

امریکی ریاستوں میں بھی کافی ٹیکس ایمنسٹی سکیمیں شروع کی گئیں۔ مثال کے طور پر، لاس اینجلس انتظامیہ نے2009 میں ٹیکس ایمنسٹی پروگرام سے 186لاکھ ڈالرز جمع کیے یہ رقم امید سےبھی زیادہ تھی اور اس سے کاروباروں کوسزاوں کی مدمیں 67لاکھ ڈالربچانے میں مدد ملی۔ ریاست لوئزانا نے 2009میں ٹیکس ایمنسٹی پروگرام سے 45کروڑ ڈالرجمع کیے ، یہ امید سے تین گنا زیادہ تھے۔ 26جون 2012میں یونائٹڈسٹیٹس انٹرنل ریوینیو سروس نے کہاتھاکہ ان کے غیرملکی اثاثوں کے رضاکارانہ اعلان سےٹیکس واپسی کی مد میں 5ارب ڈالر سےزائدرقم جمع ہوئی، سود اور پنلٹیز کےذریعے33ہزار رضاکارانہ اثاثے ظاہر کرنےسے پہلے دو اقدامات کیے گئے۔ رائیٹرزکی رپورٹ کے مطابق فنانشل ٹائمز، دی نیویارک ٹائمز، کینیڈین ٹیکس ایمنسٹی سروس اور وال سٹریٹ جنرل وغیرہ کے مطابق 2014 کے دوران آسٹریلیا میں ایک ایمنسٹی سکیم متعارف کرائی گئی تھی تاکہ ہزاروں امیر آسٹریلوی شہری اثاثے ظاہر کریں۔ رضا کارانہ طور پر آمدنی اور شیئرز کے اثاثے ظاہر کردیے گئے تھے۔ کینیڈامیں ’’وولنٹری ڈسکلویر پروگرام‘‘ پہلے سے موجود ہے۔ کینیڈا ریوینیو ایجنسی نے یہ ریلیف دس سال کے لیے دیا ہے۔

ٹیکس ادا کرنے والے اہل افراد کو مکمل ریلیف دیا جاتاےہے اور ہر ممکنہ ٹیکس چوری سے روکا جاتاہے۔ بیلجئیم میں 2004کے دوران ملک کی قانون ساز اسمبلی نے شہریوں کو چھپائے گئے ایسے اثاثے ظاہرکرنے کیلئے ایک قانون بنایاجو ان کے پاس یکم جون 2003سے پہلے سےتھے۔ سب سے بڑے مسلم ملک انڈونیشیا نے مارچ 2017میں اسی طرح کے اقدام سے 961کروڑ ڈالر جمع کیے تھے۔ دوہزار بارہ میں ہسپانوی حکومت نے ایک غیراعلانیہ اثاثوں سے ٹیکس چوری کیلئے ایک ایمنسٹی سکیم کا اعلان کیا، جس کے تحت صرف 10فیصد ٹیکس ادا کرنا تھا۔ اٹلی نے سب سے پہلے 2001میں ایمنسٹی سکیم کااعلان کیا۔ 2009میں اطالوی ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے 80ارب یورومالیت کے اثاثے ظاہر کیے گئے، جن سے 4ارب یورو کا ٹیکس ریوینیوجمع ہوا۔ بینک آف اٹلی نے اندازہ لگایا کہ اطالوی شہریوں کے پاس ملک سے باہر چھپائے گئے اثاثوں کی مد میں 500ارب یورو کے اثاثے ہیں۔ تاہم روسی پروگرام پہلے سے ٹیکس چوروں کیلئے نہیں تھا۔ 30 ستمبر 2010 کو یونان کی حکومت نے 55فیصد قرضہ دےکریونانی شہریوں کیلئے ٹیکس ایمنسٹی کا اعلان کیاتھا۔تاہم روسی پروگرام پہلے سے ٹیکس چوروں کیلئے نہیں تھا۔ 30 ستمبر 2010 کو یونان کی حکومت نے 55فیصد قرضہ دےکریونانی شہریوں کیلئے ٹیکس ایمنسٹی کا اعلان کیاتھا۔