بریکنگ نیوز: سانحہ ماڈل ٹاؤن کے اہم کردار کو عدالت کے حکم پر بری کر دیا گیا

لاہور:سانحہ ماڈل ٹاﺅن کیس میں نامزد سابق ایس ایچ او تھانہ نشتر کالونی کو عدالت کے حکم پر بری کر دیا گیا۔تفصیلات کے مطابق انسداد دہشتگردی کی عدالت میں سانحہ ماڈل ٹاون کیس کی سماعت ہوئی، تو سابق ایس ایچ او تھانہ نشتر کالونی کے وکیل برہان معظم ملک ایڈووکیٹ نے معززعدالت کو بتایا کہ ان کے موکل بے گنا ہیں اور ان کو بلا وجہ کیس میں نامزد کیا گیا ہے۔

جس پر عدالت میں ادارہ منہاج القران کے وکلاء کا کہنا تھا کہ ایس ایچ او نشتر کالونی مجید موقعے پر موجود تھا، تاہم وکلاء کی بحث کے بعد عدالت نے سابق ایس ایچ او احمد عثمان مجید کو بری کرتے ہوئے سماعت 12 اپریل تک ملتوی کر دی۔ واضح رہے کہ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے منگل کی شام ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ عدالت نے یہ رپورٹ 30 دنوں میں جاری کرنے کا حکم دیا تھا لیکن عدالتی فیصلے کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر اس رپورٹ کو نظامت اعلیٰ تعلقات عامہ پنجاب کی ویب سائیٹ پر جاری کر دیا گیا ہے۔رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ جسٹس باقر نجفی پر مشتمل ایک رکنی کمیشن کی یہ رپورٹ نقائص سے بھرپور، نامکمل ، یک طرفہ، بے نتیجہ اور یک طرفہ شواہد پر مبنی ہے۔ ان کے بقول اس رپورٹ کا ماڈل ٹاون کیس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ اس رپورٹ میں شہباز شریف سمیت کسی حکومتی شخصیت کو سانحہ ماڈل ٹاون کے حوالے سے براہ راست مورد الزام نہیں ٹھہرایا گیا۔ وزیر قانون کے بقول جسٹس باقر نجفی ایک قابل احترام جج ہیںلیکن ان کی رپورٹ ایک انتظامی فیصلہ ہے، اس میں موجود قانونی نقائص پر بات کی جا سکتی ہےرانا ثناء اللہ کا مزید کہنا تھا کہ رپورٹ میں کہا گیا ہے ۔

کہ رپورٹ پڑھنے والا خود ذمہ دار کا تعین کر سکتا ہے، ’’اس طرح میری نظر میں ذمہ دار کوئی اور، دوسرے کی نظر میں ذمہ دار کوئی اور ہو سکتا ہے۔‘‘وزیر قانون پنجاب کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں لکھا ہے کہ قاری خود سانحے کے ذمے دار کا فیصلہ کرے، ’’بہت سے قاری تو علامہ صاحب آپ کو بھی ذمہ دار ٹھہرا سکتے ہیں۔‘‘ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے اس رپورٹ کو سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس خلیل الرحمان خان کو ان کی رائے کے حصول کے لیے بھجوایا تھا۔انہوں نے اس رپورٹ میں موجود نقائص کی نشاندہی کرتے ہوئے اس کو تسلیم نہ کرنے کی سفارش کے ساتھ اسے عوام کے لیے جاری نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا کہ اس رپورٹ کا اجرا ہمارے لیے نہیں بلکہ کسی اور کے لیے مشکلات کا باعث بنے گا۔ماڈل ٹاؤن سانحے کی انکوائری رپورٹ ایک ایسے مرحلے پر سامنے آئی ہے، جب پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے خلاف حدیبیہ کیس دوبارہ کھل چکا ہے، ان کے بڑے بھائی نواز شریف کو وزارت عظمیٰ سے ہٹایا جا چکا ہے اور ملک میں مارچ سےپہلے حکومت کے خاتمے کی افواہیں گردش کر رہی ہیں۔لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ نے سانحہ ماڈل ٹاون کے حوالے سے ایک رکنی بنچ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اپنے

فیصلے میں کہا تھا کہ ماڈل ٹاون واقعے کی انکوائری رپورٹ 30 دنوں میں شائع کر دی جائے اور فریقین کو انکوائری رپورٹ کی نقول بھی فراہم کی جائیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا تھا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کا ٹرائل غیر جانبدارانہ اور شفاف کیا جائے۔لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد اور رانا ثناء اللہ کی پریس کانفرنس سے پہلے پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ 17 جون 2014ء کو ماڈل ٹاون میں پولیس کے حملے میں 14 افراد ہلاک اور 90 زخمی ہو گئے تھے، ’’ اس سانحے کے حوالے سے حکومت نے خود اپنی طرف سے جو کمیشن بنایا اس نے اپنی رپورٹ میں قرار دیا کہ اس سانحے کی ذمہ دار پنجاب حکومت ہے کہ اس نے جو احکامات جاری کیے اس کی تعمیل میں ہی پولیس نے کارروائی کی۔ سانحہ ماڈل ٹاون میں ملوث افراد کی نشاندہی ہونے پر حکومت نے ماڈل ٹاون انکوائری رپورٹ دبا لی تھی۔‘‘انہوں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح طور پر ماڈل ٹاون انکوائری رپورٹ کی کاپی فریقین کو فوری طور پر دینے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج منگل کے روز انکوائری رپورٹ نہ ملنے کی صورت میں سانحہ ماڈل ٹاون میں ہلاک و زخمی ہونے والوں کے رشتہ دار اور ہمدرد اکٹھے ہو کر بڑی تعداد میں پنجاب سول سیکرٹیریٹ رپورٹ لینے جائیں گے اور رپورٹ نہ ملنے کی صورت میں سیکرٹیریٹ کے باہر دھرنا دیں گے۔