watching

خبردار ہوشیار : مرمت کے لیے بازاروں میں پہنچنے والے خواتین کے لیپ ٹاپس اور موبائلز کے ساتھ کیا شرمناک کارروائی ڈال دی جاتی ہے ؟ لاہور سے ایک اور اسکینڈل کی خبر آ گئی

لاہور پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں خواتین کو جنسی ہراساں کرنے کے واقعات میں اضافہ ۔ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ لاہور کو صرف 3 ماہ کے عرصہ میں 2ہزار 7سو 53درخواستیں موصول ہوئیں جن میں سے ایک ہزار 2سو 57جنسی طور پر ہراساں کرنے کے ساتھ ساتھ بلیک میل کرتے ہوئے

لاکھوں روپے وصول کرنے کی درخواستیں شامل تھیں۔ تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ اکثر لوگ جب لیپ ٹاپ اور موبائل فونز فروخت یا ٹھیک ہونے کے لیے دیتے ہیں تو ٹھیک کرنے والے ان تصاویر اور ویڈیوز کا ڈیٹا چوری کرکے لڑکیوں کو بلیک میل کرتے ہیں۔ جبکہ ایک ڈی آئی جی رینک کے آفیسر نے دوسری شادی کی خاطر اپنی پہلی بیوی کی تصاویر اور ویڈیوز بھی اپ لوڈ کیں۔ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ لاہور خالد انیس کے مطابق روزانہ درجنوں درخواستیں موصول ہورہی ہیں۔ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق جڑانوالہ معصوم بچوں کو جنسی سکینڈل میں گزشتہ روز بلا ڈون کی پیشی کے بعد بڑی پیش رفت ہوئی، پولیس تھانہ صدر نے جنسی زیادتی سکینڈل کے مقدمہ میں ملوث 3ملزمان عاقب پٹھان‘ فرحان اور نواز کو حراست میں لے کر جسمانی ریمانڈ کے لئے عدالت پیش کردیا ۔ جوڈیشل مجسٹریٹ نے ملزمان کا 14روزہ جسمانی ریمانڈ جاری کر دیا ہے۔ پکڑے گئے دیگر ملزمان سے تفتیش جاری مزید انکشافات و ویڈیوز منظر عام آنے کی توقع ہے۔ جنسی سیکنڈل میں ملوث ملزمان کے خلاف اب تک 8 مقدمات درج کیے جا چکے ہیں اور ان سے درجنوں ویڈیو ملی ہیں مزیدانکشافات متوقع ہیں اور مزید ملزمان کے خلاف بھی مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔

دریں اثناء سا بقہ وفاقی وزیر قانون و انصاف چودھری وصی ظفر نے کہا کہ جنسی سکینڈل میں پولیس نے مقدمات میں الیکٹرانک ٹرانزیکشن ایکٹ 2002ء کی دفعات شامل نہیں کیں ، قانون موجود ہونے کے باوجود پولیس نے ان دفعات کا شامل نہ کرنا تشویس کی بات ہے۔ کیونکہ مذکورہ ایکٹ کسی کی فحش فلم بنانے کے خلاف درج کیا جاتا ہے اور جس کی سز ا 10سال ہے۔ 6روزگزر جانے کے باوجود بھی پولیس تھانہ سٹی اغوا کے بعد قتل ہونے والی 7سالہ مبشرہ کے قاتلوں کا تاحال سراغ نہ لگا سکی۔ بار ایسوسی ایشن جڑانوالہ و کلرک بار ایسوسی ایشن کا احتجاج ، عدالتی کام نہ ہونے سے سائلین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ صدر رانا انیس الرحمن ، جنرل سیکرٹری رمضان خان نیاز ی و کلرک ایسوسی ایشن جڑانوالہ سیشن کورٹ کے سامنے شدید احتجا ج کیا اور آئی جی پنجاب پولیس سے مطالبہ کیا کہ 2روز قبل آئی جی پنجاب پولیس جڑانوالہ آئے تھے جنہوں نے یقین دلایا تھا کہ پولیس قاتلوں کا جلد سراغ لگا لے گی کلرک ایسوسی ایشن قاتلوں کی گرفتاری تک اپنا احتجاج جار ی رکھے گی۔ جنہوں نے یقین دلایا تھا کہ پولیس قاتلوں کا جلد سراغ لگا لے گی کلرک ایسوسی ایشن قاتلوں کی گرفتاری تک اپنا احتجاج جار ی رکھے گی۔