chief justice saqib nisar

مجرموں کےگرد گھیرا تنگ ،مبشرہ قتل کیس میں چیف جسٹس آف پاکستان نے بڑا حکم نامہ جاری کر دیا

لاہور:چیف جسٹس پاکستان نے زیادتی کے بعد قتل کی جانے والی 7 سالہ مبشرہ کی قبر کشائی اور لاش کا دوبارہ پوسٹ مارٹم کا حکم دے دیا۔یکم اپریل کو فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ میں کھیتوں سے 7 سالہ لڑکی کی لاش برآمد ہوئی تھی جس کی شناخت مبشرہکے نام سے ہوئی جسے زیادتی کےبعد قتل کیا گیا۔بچی کے قتل پر جڑانوالہ میں شدید احتجاج کیا گیا

جس کے بعد چیف جسٹس پاکستان نے واقعے کا از خودنوٹس لیا تھا۔کیس کی سماعت۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جڑانوالہ میں 7سالہ بچی مبشرہ سے زیادتی و قتل کیس کی سماعت ہوئی۔کیس کے سلسلے میں آئی جی پنجاب عارف نواز عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ کیس کی تمام زاویوں سے تفتیش کررہے ہیں۔اس پر چیف جسٹس نے کیس میں پیشرفت نہ ہونے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اطمینان عدالت اور ریاست کا ہونا چاہیے، درخواست گزار کا نہیں۔سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے مقتولہ بچی کی قبر کشائی اور ایم ایس الائیڈ اسپتال فیصل آباد کو بچی کادوبارہ پوسٹ مارٹم کرنے کا حکم دیا۔عدالت نے آئندہ سماعت پر مقتولہ کے نمونوں کی فرانزک رپورٹ طلب کرتے ہوئے پراسیکیوٹر جنرل کو بھی آئندہ سماعت تفتیش کی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔واضح رہے جڑانوالہ میں قتل کی جانے والی 6 سالہ مبشرہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بچی سے زیادتی کی تصدیق ہو گئی ہے۔اتوار کے روز فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ میں کھیتوں سے 6 سالہ لڑکی کی لاشبرآمد ہوئی تھی جس کی شناخت مبشرہ کے نام سے ہوئی جب کہ بچی سے زیادتی کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا۔

نجی نیوز کے مطابق 6 سالہ مقتولہ مبشرہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ موصول ہوگئی ہے جس میں بچی سے زیادتی کی تصدیق کی گئی ہے۔پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق بچی کے جسم پر زخموں کے 21 نشانات بھی پائے گئے ہیں۔چیف جسٹس آف پاکستان کا واقعے کا از خود نوٹس.چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے 6 سالہ مبشرہ سے زیادتی اور قتل کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے 48 گھنٹوں میں رپورٹ طلب کرلی۔واقعے کے خلاف احتجاج۔دوسری جانب تحصیل جڑانوالہ میں اس واقعے کے بعد سے احتجاج جاری ہے اور آج بھی ہڑتال کی جارہی ہے جس کے باعث کاروباری مراکز مکمل بند ہیں۔واقعے کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین نے مختلف مقامات پر ٹائر جلاکر سڑکوں کو بلا کردیا اور ملزمان کو گرفتار کرکے سرعام سزا دینےکا مطالبہ کیا گیا ہے۔یاد رہے صوبہ پنجاب کے ضلع فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ میں ایک 6 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے واقعے کے خلاف شہریوں نے احتجاج کرکے کاروباری مراکز بند کرا دیئے۔پولیس کے مطابق گذشتہ روز جڑانوالہ میں تھانہ سٹی کی حدود میں کھیتوں سے ایک 6 سالہ بچی کی لاش ملی تھی۔بچی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق اسے مبینہ طور پر زیادتی کے بعد گلا دبا کر قتل کیا گیا۔

بچی سے زیادتی اور قتل کا مقدمہ تھانہ سٹی جڑانوالہ میں بچی کے والد کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کرلیا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق ایک نامعلوم شخص نے بچی کو زیادتی کا نشانہ بنا کر گلا دبا کر قتل کیا۔بعدازاں بچی کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے بعد ورثا کے حوالے کردیا گیا۔بچی سے زیادتی اور قتل کے واقعے کے خلاف جڑانوالہ میں شہریوں نے احتجاج کرتے ہوئے زبردستی کاروباری علاقے بند کرا دیئے جبکہ روڈ پر ٹائر جلا کر ٹریفک معطل کردیا۔ مظاہرین نے پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے بچی کے قاتل کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔وزیراعلیٰ اور آئی جی پنجاب نے نوٹس لے لیا۔دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب عارف نواز نے جڑانوالہ میں 6 سالہ بچی کی لاش ملنے کا نوٹس لیتے ہوئے سی پی او فیصل آباد سے فوری رپورٹ طلب کرلی۔آئی جی عارف نواز کا کہنا تھا کہ بچی کے قاتل کو گرفتار کرکے قانون کے تحت کارروائی کی جائے۔جڑانوالہ میں 6 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کا یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب رواں برس جنوری میں پنجاب کے ضلع قصور میں بھی ایک 7 سالہ بچی زینب کی لاش کچرہ کنڈی سے برآمد ہوئی تھی، جسے اغواء اور زیادتی کے بعد بے دردی سے قتل کردیا گیا تھا۔