(ن) لیگ کو چھوڑنے کی سب سے بڑی وجہ کیا ہے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنے والے رمیش کمار نے حیران کن انکشاف کر دیا

اسلام آباد:رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار نے کہا کہ جب پارٹی میں بات نہیں سنی جاتی تھی تو اخبار میں کالم لکھ کر اپنے خیالات کا اظہار کرتا تھا۔مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی رمیش کمار پی ٹی آئی میں شامل ہوگے۔ اسلام آباد میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے رمیش کمار نے خان صاحب اور پی ٹی آئی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا

کہ انسانی حقوق کے مسائل پر ہمیشہ آواز اٹھائی۔ جب ن لیگ میں تھا تب بھی اصولوں کی سیاست کی، تحفظات کو ہمیشہ پارٹی میں اٹھایا۔انہوں نے مزید کہا کہ پی آئی اے نجکاری کے خلاف بھی آواز اٹھائی، نیب کو غیر فعال کرنے کے بیان سے دکھ ہوا۔ عدالت کے خلاف ایسی زبان استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ آج بھی چوہدری نثار کی قدر کرتا ہوں، وہ بھی کہتے تھے کہ میرے جیسے شخص کی پارٹی میں قدر نہیں۔ ماضی کو بھلا کر آگے بڑھنا چاہتا ہوں۔ یہ قائد کا پاکستان نہیں۔جبکہ دوسری جانب پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ اقلیتوں کا اس ملک پر برابر کا حق ہے، وہ بھی یکساں پاکستانی شہری ہیں.ان خیالات کا اظہار انھوں نے ن لیگ کے سابق رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر رامیش کمار کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا.عمران خان نے کہا کہ ہم ڈاکٹررمیش کمار کو پی ٹی آئی میں شمولیت پرخوش آمدید کہتے ہیں، قائداعظم کے وژن کو آگے لے کر چلنا چاہتے ہیں، پی ٹی آئی اقلیتوں کے ساتھ رہے گی. پاکستان میں اصل مسئلہ قانون کا ہے.شریف خاندان کی کوشش ہے کہ عدلیہ اور نیب کو بدنام کیا جائے، نوازشریف پہلے کہتے تھے کہ بیٹے سے تنخواہ نہیں لی، مگر نوازشریف کا اب پتا چلا ہے کہ انھوں نے بیٹے سے تنخواہ بھی لی ہے

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ قائداعظم نے مسلمانوں کو حقوق دلوانے کے لئے بنایا تھا، وہ چاہتے تھے کہ قانون کا یکساں اطلاق ہو، تاکہ کوئی جرم کا سوچ بھی نہ سکے گا.عمران خان نے کہا کہ 2013 کے الیکشن میں تمام پارٹیوں نے کہا کہ دھاندلی ہوئی ہے، پنجاب میں ن لیگ کےعلاوہ سب نے کہا کہ یہ آر او الیکشن تھا، اس میں کوئی شک نہیں کہ آر او نے مل کرمیچ فکس کیا تھا.عمران خان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی اب نئی لیڈرشپ ہے، جس پرسب کواعتماد ہے، اداروں پر اب عوام کا اعتماد بڑھا ہے، شاہد خاقان عباسی کو بتانا چاہیے کہ سینیٹ میں پیسہ کس نے چلایا، پی ٹی آئی کے پاس تو پیسہ ہے نہیں، پیسہ کس نے لگایا پتا چلنا چاہیے، نوازشریف کے پاس منی ٹریل سے متعلق کوئی جواب نہیں ہے.انھوں‌ نے کہا کہ شریف خاندان کی کوشش ہے کہ عدلیہ اور نیب کو بدنام کیا جائے، نوازشریف پہلے کہتے تھے کہ بیٹے سے تنخواہ نہیں لی، مگر نوازشریف کو اب پتا چلا گیا ہے کہ انھوں نے بیٹے سے تنخواہ لی ہے، واجد ضیا کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے، کرپشن کو بچانے کے لئے ایک میڈیا ہاؤس شرمناک کردار ادا کررہا ہے.انھوں‌ نے کہا کہ گذشتہ انتخابات میں‌ زرداری اور نوازشریف نے مک مکا کرکے اپنے امپائر کھڑے کئے تھے، ان اس بار الیکشن میں پنکچر لگانے والے امپائر قبول نہیں کریں گے۔