بائے بائے امریکہ ۔۔۔پاکستان نے کس اہم ملک سے دوستی کی پینگیں بڑھانا شروع کر دیں؟ناقابل یقین خبر آ گئی

کراچی:پاکستان روس سے فضائی دفاعی نظام ، جنگی طیارے ایس یو35،ٹی 90ٹینک اور دیگر فوجی ساز و سامان کی خریداری میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اس سلسلے میں ماسکو اور اسلام آباد کے مذاکرات جاری ہیں جیسے ہی مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچیں گے اس کاباضابطہ اعلانکیاجائے گا، اس بات کی تصدیق پاکستان کے وزیر دفاع خرم دستگیر خان نے روسی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان روس سے فوجی ہتھیاروں کے حصول میںدلچسپی رکھتا ہے، انہوں نے کہا کہ فضائی دفاعی نظام ایک مختلف قسم کا ہتھیار ہے جس میںہماری دلچسپی ہے۔ ہم وسیع رینج کے روسی ہتھیار وںکی ٹیکنالوجی میں دلچسپی رکھتے ہیں، ہم ائیر ڈیفنس سسٹم پر مذاکرات کررہے ہیں ،مذاکرات کے کسی حتمی نتیجے کے بعد اس کے اعلان کے قابل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان صرف ایک خریداری کی بجائے طویل مدتی عزم کے ساتھ روسی ساختہ ٹی 90ٹینکس حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ روس سے جنگی طیارے ایس یو 35جیٹ کی خریداری کے سلسلے میں آئندہ چند برسوں میں ماسکو اور اسلام آباد جلد کسی معاہدے پر پہنچ جائیں گے ،اس حوالے سے بات چیت ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔گزشتہ فروری میں پاکستان کے اعلیٰ فوجی حکام نے روسی خبر رساں ادارے کو بتایا تھا کہ اسلام آباد کاروس سے ایس یو 35لڑاکا طیارے لینے کا کوئی پروگرام نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد، روس کے ساتھ فوجی تربیت، دفاعی سازوسامان اور انٹیلی جنس کے اشتراک سمیت تمام دفاعیامور میں تعاون کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔ 2014 میں پاکستان روس کے درمیان غیر معمولی تاریخی دفاعی معاہدے پر دستخط ہوئے

جس کے نتیجے میں دونوں ممالک مشترکہ مشقیں کرنے میں کامیاب رہے ہیں، پاکستان نے روس سے ایم آئی 35 ہیلی کاپٹر خریدے ، اور اب دونوں ممالک دفاعی تعاون میں اضافہ دیکھ رہے ہیں، تربیت کے لحاظ سے پاکستانی فوجی افسران روس پہنچ رہے ہیں اور روسی افسران پاکستان میں ٹریننگ کے لئے جا رہے ہیں ۔ دوسری طرف امریکی نشریاتی ادارے سی این بی سی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ٹرمپ کی طرف سے سلامتی کے مشیر جان بولٹن کا انتخاب پاکستان کو روس چین اور ایران کے قریب کردے گا، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر جان بولٹن نے اسلام آباد کے حوالے سخت پالیسی اختیار کی تو اس سے وہ بیجنگ،ماسکو اور تہران کے قریب ہوجائے گا جو واشنگٹن کیلئے ناپسندیدہ منظرنامہ ہوگا۔ جان بولٹن کے بارے توقع کی جارہی ہے کہ وہ پاکستان،شمالی کوریا اور ایران کے متعلق سخت پالیسی اپنائیں گے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ماسکو اور اسلام آباد نے ملٹری اور انرجی سیکٹر میں تعاون کو فروغ دیا ہے،اس کے ساتھ پاکستان کے دنیا کی دوسری معاشی طاقت چین کے ساتھ اسٹریجیک تعلقات مضبوط ہیں۔بولٹن پاکستان امریکا تعلقات میں مزیدتناؤ لائیں گے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ ماسکو اور اسلام آباد نے ملٹری اور انرجی سیکٹر میں تعاون کو فروغ دیا ہے،اس کے ساتھ پاکستان کے دنیا کی دوسری معاشی طاقت چین کے ساتھ اسٹریجیک تعلقات مضبوط ہیں۔بولٹن پاکستان امریکا تعلقات میں مزیدتناؤ لائیں گے۔