”اپنے والد، شوہر، بھائی اور بیٹے کو خود ہی کھانا گرم کر کے دوں گی کیونکہ۔۔۔“ معروف صحافی جویریہ صدیق نے ” خود کھانا گرم کر لو“ کا منہ توڑ جواب دیدیا، ایسی بات کہہ دی کہ ہر پاکستانی تعریف کرنے پر مجبور ہو گیا

لاہور:” خود کھانا گرم کر لو“ یہ جملہ آپ نے کافی دنوں سے سوشل میڈیا پر دیکھ رہے ہیں اور اس کے پیچھے موجودہ وجہ سے بھی آپ بخوبی واقف ہوں گے۔ پاکستان میں اس مہم کی حمایت کرنے والوں کی کمی تو نہیں لیکن ایسے لوگوں کی اکثریت بھی موجود ہے جو اس کی بھرپور مخالفت کر رہے ہیں۔زیادہ تر مخالفین تو مرد حضرات ہی ہیں

لیکن اب خواتین کی جانب سے بھی خواتین ہی کی اس مہم کی مخالفت شروع ہو چکی ہے اور اس کیلئے بھرپور دلائل بھی پیش کئے جا رہے ہیں۔ معروف صحافی جویریہ صدیق نے بھی ”خود کھانا گرم کر لو“ مہم کی مخالفت میں آواز بلند کی ہے اور ساتھ ہی ایسی بات بھی کہہ دی ہے کہ ہر پاکستانی تعریف کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔ جویریہ صدیقی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک تصویر شیئر کی جس میں مرد کو کہتے دکھایا گیا ہے کہ ’کماﺅں گا میں‘ اور عورت کو کہتے دکھایا گیا ہے کہ ’پکاﺅں گی میں‘ اور ساتھ ہی لکھا ہے کہ ’گرم تو کوئی بھی کر لے گا‘۔ اور ساتھ ہی یہ لکھا کہ ”جو مرد میرا خیال کرتا ہے میں بھی اس کا خیال کروں گی۔ تو یہ سستا فیمنزم بند ہو کہ کھانا خود گرم کرلو۔ورکنگ ویمن ہونے کے باوجود اپنے والد، شوہر، بھائی، بیٹے کو میں خود ہی کھانا گرم کرکے دوں گی۔ ان کی بدولت ہم کتنی گرم ہواﺅں سے دور ہیں۔ اللہ ان سب پیارے رشتوں کا سایہ ہم پر سلامت رکھے۔“

ان کا یہ بیان سامنے آتے ہی صارفین کی بڑی تعداد ان کی حمایت کرتی نظر آئی اور انتہائی دلچسپ کمنٹس بھی کئے جنہیں دیکھ کر یقینا آپ بھی لطف اندوز ہوں گے۔

قرة العین نامی صارف نے لکھا ”درست بات ہے۔۔۔ ویسے بھی بھائی کے کچن میں جانے کے بعد کچن کا جو حشر ہو گا اس سے بہتر ہے میں خود ہی پکا لوں، خود ہی کھانا گرم کر لوں۔۔۔“

محمود نے ایک تصویر شیئر کی جس میں ”کھانا خود گرم کر لو“ کا جواب لکھا تھا کہ ”دہی خود لے آﺅ۔۔۔ دوپٹہ خود پیکو کروا

اعوان نوید نے لکھا ”ماشاءاللہ، سبحان اللہ، جزاک اللہ، اچھا آئیڈیا ہے“

چوہدری افنان منور نے لکھا ”ہمارے معاشرے میں گھر کی خاتون سب سے زیادہ طاقت ور ہیں۔ اگر ماں، بڑی بہن، چاچی، پھوپھو، دادی کوئی حکم دیدیں تو گھر کے مرد کی ہمت نہیں ہوتی انکار کرنے کی۔ پھر بھی پتہ نہیں یہ کون خواتین ہیں جو کہتی ہیں کہ کھانا خود گرم کر لو؟ وقت کے ساتھ ساتھ ہماری تہذیب بھی کہیں کھو چلی ہے“

آئرن شیخ نے لکھا ”ہاں! بڑی یادیں یاد کروا دیں۔ جب نانی کے حکم پر دالان میں کھڑے رہ گئے کہ نانا آئیں تو ہم ساتھ اندر جائیں۔ تائی کا خوف اماں سے زیادہ تھا، ہاں! ہم نے یہ سب کچھ کھو دیا“

سیما حیدر نے لکھا ”پہلے بتا دوں میں ’فیمنسٹ‘ نہیں ہوں۔ آپ کی لسٹ میں بیوی نہیں ہے، کیوں نہیں ہے؟ کیونکہ زن مریدی کا طعنہ مل جاتا ہے؟ جب ایسا کرو گے تو پھر بیوی کی طرف سے بھی جواب ہی آئے گا ۔ ’کھانا خود گرم کر و‘ سلوگن والی زیادہ تر ستائی ہوئی بیویاں ہوتی ہیں، جن کی خدمات کی قدر نہیں بے عزتی کرنا فخر سمجھا جاتا ہے“

عینی اعظم نے لکھا ”بالکل ٹھیک۔۔۔ ویسے بھی کچن کا ستیاناس نہیں کروانا

سیدہ بشریٰ عامر نے لکھا ”ہمارے دن نے ہم کو زندگی گزارنے کا طریقہ بتلا دیا ہے اس میں کسی قسم کا جبر یا سختی نہیں ہے، بہت لچک موجود ہے۔ گھر کے مرد بھی کام کر سکتے ہیں اس میں کوئی شرم کی بات نہیں، وہ کریں گے تو سنت نبوی ﷺ بھی پوری ہو جائے گی اور گھر میں خوشگوار ماحول بھی پیدا ہو گا۔ مل کر چلنے سے ہی گھر جنت بنتا ہے“

حرا بخاری نے لکھا ”بالکل ٹھیک کہا۔۔۔ کچھ مرد حضرات تو ایسے ہوتے ہیں کہ اگر عورت کپڑے دھو رہی ہے تو پانی بھی اسی کو لا کر دینے کو کہتے ہیں۔ میں نہیں مانتی کہ ہمارے ہاں کی عورت مرد کو عزت نہ دے۔ اگر مرد تھکا ہارا آئے تو عورت اس کے سامنے ہر چیز لا کے رکھ دیتی ہے، مگر مردوں کو بھی خیال کرنا چاہئے“