imran khan

عمران خان کا نواز شریف کے بعد زرداری کے قلعے میں وار ۔۔۔جلد کیاہونے والاہے؟تہلکہ خیز خبر آ گئی

لاہور:سینیٹ انتخابات میں غیر فطری اٹھادی بالاآخر ایک دوسرے کے ساتھ سامنے آ گیا۔ عمران خان کا نواز شریف کے بعد اب زرداری کے قلعے پر وار جاری ہے۔خان ڈرائی کلینر ایک بار پھر سیاستدانوں کی دھلائی کے لیے تیار ہو گئی ہے۔ ملک میں امن و امان کی صورتحال نارمل ہو یا ابتر، عوام کو کچھ ملے یا نہ ملے ہر دکان اور ہر چوپال پر ایک ہی

بات زیر بحث ہت کہ نواز شریف کے ساتھ کیاہونے والاہے ؟ کیا جنرل الیکشن ہونے والے ہیں یا نگران سیٹ اپ ہی حکومت سنبھالے گا؟کیا نیب اور سپریم کورٹ چھترول ململ لیگ ن کی ہی کرے گی یا پھر باقی سیاسی جماعتوں کی باری بھی آئے گی؟ ایسے مسائل نے ملک کے اصل مسائل کو پش پشت ڈال دیا ہے۔ ادروں کے ٹکراؤ کے باعث عوام کا معیار زندگی بہتر ہونے کے بجائے مزید خراب ہو گیا ہے۔ احتساب کے نام پر پہلے پیپلز پارٹی کو نشایا بنایا جبکہ اب مسلم لیگ ن کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ جبکہ کچھ صدائیں آ رہی ہیں کہ زرداری ایک بار پھر نشانے پر آنے والے ہیں۔ ایسے مین تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کا آغیر فطری اتحاد بھی ریت کی دیوار ثابت ہوا ۔اور چئیرمین سینیٹ کے انتخاب پر ملنے والے یہ سوتیلے کزنز بھی جدا ہو گئے۔ عمران خان کا جنوبی پنجاب کے بعد سندھ میں طوفانی دورہ اور سخت الفاظ میں تنقید نےسیاسی اتحاد کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ اگر نگران حکومت کے لیے ن لیگ کا پیپلز پارٹی سے معاملات طے ہوئے تو نقصان پھر بھی عمران خان کا ہو گا۔ ماضی میان انتخابات سے قبل سیاسی جو ڑتوڑ ہوتی رہی ہے۔ سیاستدان وہی پرنے نعرے لے کر عوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں ۔ جبکہ 29 اپریل کو عمران خان بڑے بڑے برج گرانے کا مظاہرہ کریں گے۔ مگر اس سب سے باوجود عوام نے فیصلہ کرنا ہے کہ انہوں نے کس جمہوریت کا قبول کرنا ہے۔ کیا وہ کنٹرول جمہوریت کے حامی ہیں یا وہ ووٹ کی پرچی سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں گے ۔یہ بات تو طے ہے کہ ملکی سیاستدانوں ے اپنی مرضی کے فیصلوں کے لیے تیسری قوت کا ساتھ ملا لیا ہے۔