لاہور کی تاریخ میں پہلا مگر انوکھا فیصلہ۔۔۔سرعام نازیبا حرکات کرنے والے جوڑے کو ناقابل یقین سزا سنا دی گئی

لاہور:ماڈل ٹاون کچہری کی عدالت نے تاریخ کے پہلے کیس کا فیصلہ سنا دیا۔ عدالت نے عوامی مقامات پر نازیبا حرکات کرنے والے جوڑے کو جرمانے کی سزا سنا دی۔جوڈیشل مجسٹریٹ نوید اشرف اعوان نے ملزمہ رخسانہ بی بی اور ملزم رمضان کو 2 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی ۔ پریمی جوڑے کے خلاف تھانہ فیکٹری ایریا میں عوامی مقامات پر نازیبا حرکات کرنے کا مقدمہ درج تھا ۔

ایف آئی آر کے مطابق ملزمان شارع عام پر فحش حرکات کر رہے تھے ۔ جبکہ دوسری جانب سپریم کورٹ نے سمبڑیال میں صحافی ذیشان بٹ کے قاتلوں کی گرفتاری کے لئے آئی جی پنجاب کو 4 روز کی مہلت دیدی،کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب سے استفسار کیا کہ ملزم ابھی تک گرفتار کیوں نہیں ہوئے ؟آسمان نگل گیا یا زمین کھا گئی، بتائیں ملزموں کا تعلق کس پارٹی ہے ؟ جس پر آئی جی نے بتایا چاروں ملزموں کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے ،چیف جسٹس نے آئی جی سے پوچھا ملزموں کو کس کی مدد حاصل ہے ؟ جس پر آئی جی نے بتایا کوئی مدد نہیں کر رہا ،چیف جسٹس نے کہا ملزموں کا تعلق حکمران جماعت سے ہے کیا یہ کم ہے ،جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا ملزموں کے نام ای سی ایل میں ڈالے گئے ؟ جس پر آئی جی نے بتایا کہ نام ای سی ایل میں ڈال دئیے گئے ہیں،اے این این کے مطابق چیف جسٹس نے آئی جی سے کہا صحافی کی آڈیو سنی آپ نے ؟ اس کی چیخیں سن کر ہمیں تکلیف ہوئی، آپ کو بھی ہونی چاہیے تھی، جس پر آئی جی نے کہا جی مجھے بھی تکلیف ہوئی ،جس پر چیف جسٹس نے کہا آپ کو تکلیف ہوئی ہے تو پھرملزم گرفتار کیوں نہیں ہوئے ؟جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا یہ قتل کی لرزہ خیز واردات کہاں ہوئی آئی جی نے بتایا یونین کونسل کے دفتر میں صحافی کو فائرنگ کرکے قتل کیا گیا ،چیف جسٹس نے کہا اس جرم پر تو انسداد دہشت گردی کی دفعات لگتی ہیں، جس پر آئی جی نے بتایا انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات شامل کی گئی ہیں،چیف جسٹس نے کہا آئندہ ہفتے کے روز میں نے کراچی بیٹھنا تھا لیکن اب صرف اس کیس کیلئے لاہور میں بیٹھوں گا ۔