Ch nisar

بڑا سیاسی تہلکہ ۔۔۔۔۔ چوہدری نثار بالکل اکیلے ہو گئے ، اہم ترین اور دست و بازو سمجھے جانیوالے ساتھیوں کی تحریک انصاف میں شمولیت کی خبر آ گئی

لاہو:چوہدری نثار کا ہر اول دستہ آہستہ آہستہ تحریک انصاف میں جانے لگا۔ چیف جسٹس کے اقدامات بہترین ، سعد رفیق مقدمات میں پھنسے تو ریلوے پھر تباہی کی لائن پر چل پڑے گی۔ نظریہ ، بیانیہ ، اصولوں کی سیاست۔۔۔ یہ الفاظ اب پرانے بلکہ متروک ہو چکے ۔

قائد اعظم ، ذولفقار علی بھٹو اور بے نظیر جیسے لوگ اللہ کو پیارے ہوگئے۔ پہلے پارٹیاں تبدیل کرنے والے کو لوٹا کہتے تھے اب ” الیکٹ ایبل” کہا جاتا ہے۔ پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا اور جمہوریت کے سیلاب میں بڑے بڑے الیکٹ ایبلز بہہ کرپی ٹی آئی اور پی پی پی میں آنے والے ہیں، چوہدری نثار علی خان دھیرے دھیرے چلنے والے آ دمی ہیں، ن لیگ سے اختلاف شو کرا کے پکا بیانیہ بتانے رہے ، اب ان کا ہر اول دستہ آہستہ آہستہ تحریک انصاف میں جانے لگا ہے۔ اس کے بعد میمنہ و میسرہ اور پھر قلب لشکر کے ساتھ چوہدری نثار خود بھی جا سکتے ہیں اور اگر شہباز شریف کی کوئی بڑی کوشش کامیاب ہو گئی تو ” جی کا جانا” ٹھر بھی سکتا ہے ۔ عمران خان نے تسلیم کر لیا کہ آصف زرداری نے سینیٹ الیکشن میں خرچہ کیا لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ عام انتخابات میں یہ سب کچھ نہیں چلے گا۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو لیکن نظر آ رہا ہے کہ امیر لوگ جیت کر سمبلیوں میں آ جائیں گے ۔ بس فرق صرف یہ ہو گا کہ ماضی بعید میں سائیکلاور ماضی قریب میں شیر کے نشان پر الیکشن لڑنے والے اب بلے اور تیر پر لڑیں گے اور

“نواز شریف ساڈا شیر اے باقی ہیر پھیر اے” والے مصرعے میں صرف نام کی تبدیلی کرنا پڑے گی۔ بہرحال وزیر اعظم کے اعلان کئ مطابق جولائی میں الیکشن ہونگے ، مہم تو پہلے ہی زور و شور سے چل رہی ہے۔” مجھے کیوں نکالا ” اگر ” ہمیں کیوں نکالا” میں تبدیل ہو گیا تب بھی کوئی فر پڑنے والا نہیں۔ محترم چیف جسٹس ثاقب نثار انتخابات سے پہلے گند صاف کرنے کا کام احسن طریقے سے سر انجام دے رہے ہیں۔ لیکن گیہوں کیساتھ گھن پسنے کا خدشہ بھی موجود ہے ۔ یہ علیحدہ بحث ہے کہ خواجہ سعد رفیق نے کرپشن کی ہے یہ نہیں کی ۔۔۔ لیکن سابقہ دو چار وزراء کے مقابلے میں ریلوے کی حالت بہت بہتر کر دی ہے، غلام احمد بلور کے دور میں تو ٹرین کا سفر ایک بھیانک خواب لگتا تھا لیکن اب ریلوے سٹیشنوں اور ٹرینوں کی رونقیں بحال ہو چکی ہیں ۔ معزز عدالتیں کرپشن کا فیصلہ ضرور کریں لیکن اس کا بھی دھیان رکھنا چاہیے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ سعد رفیق مقدمات کے چکر میں پھنس کر ریلوے پر توجہ نہ دے سکیں اور پھر سے ٹراانسپورٹر کی ملی بھگت سے ٹرینوں کے ٹائم فکس ہونے لگیں۔