ایک آدمی جس کی بیوی کی وفات ہوگئی ،،معاشرہ اور فیملی کے پریشر میں اُس نے دوسرا نکاح نہیں کیا ،،اُس نے علماءدین سے پوچھا مشت زنی کرنا حلال ہے یا حرام ،، جواب آپ کو بھی چونکا دیں گا

سوال: میں نے علماء کرام سے یہ سنا ہے کہ دین کے کسی بھی مسئلہ کو سمجھنے کے لئے انسان کو شرم محسوس نہیں کرنی چاہیے، میں آپ کی خدمت میں کچھ ایسا ہی مسئلہ پیش کر رہا ہوں. مسئلہ کچھ یوں ہے کہ میں شادی شدہ ہوں بال بچے دار ہوں مگر میری اہلیہ چند سال پہلے فوت ہو چکی ہے، میں عقد ثانی کرنا چاہتا ہوں

مگر میری اس جائز خواہش میں کچھ معاشرتی مسائل حائل ہیں۔ہماری برادری میں دوسری شادی کو اچھا نہیں سمجھا جاتا اسی لئے ہمارے خاندان میں بہت سی جوان لڑکیاں اور عورتیں جو بیوہ ہو چکی ہیں اور مرد جو رنڈوے ہو چکے ہیں وہ دوسری شادی کرنے کی ہمت نہیں کرتےاور اپنی بقیہ زندگی اسی طرح گزار دیتے ہیں۔، اس کے علاوہ میرے بچے بھی یہ بات برداشت کرنے کو تیار نہیں ہیں کہ کوئی دوسری عورت ان کی ماں کی جگہ لے، اس صورت حال میں ،میں کشمکش میں مبتلا ہوں اور میں نے اپنی فطری خواہش کو دبا رکھا ہے، لیکن کب تک؟!مجھے اندیشہ ہے کہ مجھ سے کہیں کوئی گناہ نہ سرزد ہو جائے. میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ! کیا میں اپنی اس فطری خواہش کو مصنوعی طریقہ (خودلذتی) سے پورا کرسکتا ہوں؟کیا یہ عمل کرنے سے کوئی گناہ تو نہیں ہوگا؟ اگر ہو گا تو کیا یہ گناہ صغیرہ ہوگا یا گناہ کبیرہ؟ اور اگر یہ کسی بھی طرح کا گناہ ہے تو کیوں؟ جبکہ اس میں کسی کی عزت کو پامال نہیں کیا جاتا. جواب: اگر زنا میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو تو نکاح کرنا فرض ہے۔لہٰذا آپ فوراً نکاح کر لیں لوگوں کو نہ دیکھیں ، کیونکہ اگر آپ سے گناہ ہو گیا تو اس کی جواب طلبی آپ سے ہونی ہے نہ کہ لوگون سے یا

آپ کے خاندان والوں سےاور اس کی سزا بھی آپ ہی کو بھگتنا ہوگی نہ کہ آپ کے بچوں اور معاشرہ کے افراد کو.جہاں تک سوال رہا خودلذتی یعنی مشت زنی کا تو یہ ایک گناہ کبیرہ ہے، تاہم اگر کسی کو زنا کا اندیشہ ہو تو بعض آئمہ کے ہاں اس کی بقدر ضرورت گنجائش ہے مگر اس کو مستقل ذریعہ تسکین نہ بنایا جائے، کیونکہ حدیث شریف میں ہے کہ جو لوگ مشت زنی کرتے ہیں کل قیامت کے دن ان کے ہاتھ حاملہ ہوں گے. (بحوالہ: ختم نبوتﷺ) اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں صغیرہ و کبیرہ گناہوں سے بچنے کی ہمت و توفیق عطا فرمائے اور انجانے میں یا جان بوجھ کر جو گناہ اور غلطیاں ہم سے سرزد ہو گئی ہیں اللہ پاک اپنی رحمت سے ان کو معاف فرمائے.(آمین. یا رب العالٰمین)