lion

جنگل میں گھس کر چھری سے شیر مارنے والے وہ ناتواں بزرگ جنہوں عہد کیا تھا کہ ۔۔۔

اسلام آباد : جو لوگ فنا فی اللہ ہوجاتے ہٰن اللہ انہیں غیر معمولی قوت اسرار جہاں عطا فرمادیتے ہیں ،ان کے خوارق سے ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جنہیں جان کر لوگ ان کیبے پناہ عزت کرتے ہیں .حضرت شیخ عبدالوہاب متقی قادری شاذلی ؒ کے ایک مرید حضرت شیخ حسین قادری چشتی قدس سرہ کو اللہ نے ایسی تاثیرعطا فرمائی تھی کہ

انسان تو کجا جانور بھی ان کے سامنے دم نہیں مارتے تھے۔اولیائے کرام کے حالات واقعات پر مستند کتاب ’’اخبار الاخیار‘‘ میں لکھا ہے کہ آپؒ عجیب و غریب حالت و ہمت رکھتے تھے. ایک دفعہ کشتی میں دریا اسے گزر رہے تھے کہ بتایا گیا کہ دریا کے ایک کنارے جنگل میں شیر رہتا ہے. کوئی شخص خوف کے مارے اس طرف سے نہیں گزرتا. لوگوں نے کہا ’’آپ عبادت میں مصروف رہتے ہیں۔اللہ کی مخلوق کا بھی خیال کریں اور ان کی جان و مال کو اس موذی شیر بچائیں کیونکہ کوئی اسکو ہلاک کرنے کی طاقت نہیں رکھتا ‘‘ آپؒ فاقہ و زہد کی وجہ سے ناتواں تھے ،لوگوں نے آپؒ کو کھانا دینا چاہاتو لوگوں کو اس تکلیف و خوف سے بچانے کے لئے عہد کیا کہ جب تک اس شیر کو ہلاک نہیں کردیتا ،تب تک ایک لقمہ بھی نہیں کھاوں گا. آپؒ کشتی سے اس کنارے پر اترے. ایک چھری لی اور جنگل میں جا کر شیر کو للکارا،خونخوار شیر سامنے آیا اور آپؒ پر جھپٹا تو آپ ؒ نے اللہ اکبر کہہ کر چھوٹی سی چھری تلوار کی ماند لہرائی اور شیر کے دوٹکڑے کردئیے۔