sharif family

شریف خاندان کا مکو ٹھپنے کیلئے پانامہ اور اقامہ کے بعد کیاقدم اٹھانے کا فیصلہ کر لیا؟ تازہ ترین خبر آگئی

لاہور ہسپتالوں کی حالت زار، پینے کا صاف پانی ، آشیانہ ہاؤسنگ سکیم اور اسی نوعیت کے دیگر منصوبوں میں پنجاب حکومت کی کارکردگی کو بدترین قرار دیا اور سب سے بڑھ کر سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس میں انصاف کی فراہمی میں تاخیر کا بھی نوٹس لے لیا ۔معروف تجزیہ کار سلمان غنی اپنے تجزیئے میں لکھتے ہیں۔۔۔ کی یہ مہم اس وقت پنجاب کے

محاذ پر کیوں شروع کی گئی ؟ چیف جسٹس حکومتی غیر فعالیت اور نااہلیت کے پے در پے نوٹس کیوں لے رہے ہیں؟ موجودہ احتسابی مہم کا آئندہ الیکشن سے کیا تعلق ہے ؟ان سب باتوں کا ہمیں جواب چاہیے تو پہلے سول ملٹری لڑائی کو ذہن میں رکھنا پڑے گا، پاناما کیس پر حکومت اور اداروں میں کشمکش بڑھی اور نواز شریف اقتدار سے باہر ہوئے اور نئے بیانیہ کے ساتھ عوام میں نکلے جس نے اسٹیبلشمنٹ اور عدالت دونوں کو دفاعی پوزیشن پر لاکھڑا کیا، اس صورت حال میں پریشانی اس وقت پیدا ہوئی جب مسلم لیگ ن میں اندرونی طور پر اور عملاً کوئی رکن اسمبلی منصوبہ سازوں کے ساتھ چلنے پر تیار نہیں تو الجھن اور اضطراب سے نکلنے کے لئے پنجاب کے اندرونی سیاسی معاملات اور انتظامی طور پر بڑے بڑے منصوبوں کی طرف نظر کرم کی گئی اور اس کرپشن مخالف تازہ مہم کے دو اہداف ہیں، پہلا ہدف نواز شریف کی مزاحمتی مہم کے سامنے عدالت کو ایک حفاظتی شیلڈ مہیا کرنا ہے اور جوڈیشل ایکٹوازم کے ذریعے مبینہ طور پر الجھے ترازو سے عدالت کا توازن بحال کیا جا رہا ہے اور نواز شریف کے مقابلے میں چیف جسٹس کو ایک قومی مسیحا کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جبکہ دوسرے ہدف میں سیاسی سمجھ بوجھ رکھنے والے عناصر الزام لگا رہے ہیں کہ

ن لیگ کے سیاسی گڑھ پنجاب میں کرپشن کا شور شرابا اور مبینہ بد انتظامی کے مقدمات اور عدالتی نوٹسز کا اجرا شہباز شریف کی سیاسی ساکھ کو تباہ کرنا ہے کیونکہ اس وقت سیاست کے میدان میں نواز شریف کی سیاسی نمائندگی وزیراعلیٰ شہباز شریف کر رہے ہیں اور یہ ایک بہترین نسخہ ہے کہ شہباز شریف کے گرد بھی کرپشن، بد انتظامی اور اقربا پروری کا جال بن دیا جائے تاکہ شریف خاندان اپنے سیاسی بیانیہ کو چھوڑ کر راہ راست پر آ جائے تاکہ ان کے سیاسی مخالفین کو راہ نجات مل سکے ، کیا موجودہ احتسابی مہم کا تعلق آئندہ انتخابات سے ہے ؟ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لئے ہمیں موجودہ حکومت کے دور میں کراچی اور سندھ میں شروع کی جانے والی احتسابی مہم پر غور کرنا ہو گا، جیسے یہ احتسابی مہم پیپلزپارٹی کے بدعنوان عناصر اور وزرا کے خلاف ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کی گئی تھی کیونکہ سندھ کے حاکم آصف علی زرداری’’اینٹ سے اینٹ بجانے ‘‘کی بات کر رہے تھے اور جواباً سندھ کو کرپشن کا گہوارہ اور پیپلزپارٹی حکومت کو بدعنوانی اور کراچی میں بد امنی کا فریق قرار دیا جارہا تھا، پھر اس کے نتائج نکلے ، آصف زرداری ملک واپس آئے ، ایان علی ، ڈاکٹر عاصم رہا ہوئے ، انور مجید کے اونی گروپ کا ذکر ختم ہو گیا اور شرجیل میمن بھی پس منظر میں چلے گئے ،

اب پنجاب میں بھی ویسا ایک تجربہ کیا جارہا ہے ، نواز شریف مزاحمت کر رہے ہیں اور جواباً پنجاب اپنی گڈ گورننس کے بجائے آئے روز نوٹسز، کرپشن، بد عنوانی اور لوٹ مار کے قصوں کی زد میں آ چکا ہے ،انتخابات سر پر ہیں اور نواز شریف کی ذات کو پاناما اور اقامہ سے جوڑنے کے بعد شہباز شریف اور پنجاب کو کرپشن اور بد عنوانی سے جوڑا جارہا ہے تاکہ الیکشن سے پہلے ن لیگ کو رائے عامہ کے میدان میں ایک کرپٹ جماعت کے طور پر لایا جاسکے اور کرپشن کو زرداری کے بعد اب نواز شریف اور شہباز شریف کا تعارف بنا دیا جائے ،یقیناً عدالت میں زیر بحث بد انتظامی کے معاملات پنجاب کے ہی ہیں اس صوبہ میں بڑے بڑے منصوبے شروع اور مکمل ہوئے ، جہاں گڈ گورننس اور تیز رفتار ترقی کا نعرہ ہے ، وہاں بد انتظامی یا انتظامی خرابی ہو سکتی ہے مگر سیاست میں وقت کی بہت اہمیت ہوتی ہے جس طرح عدالتی کارروائیوں اور جوڈیشل ایکٹوازم کا وقت بڑا نازک ہے اور انتخابات سے پہلے ٹی وی کی خبریں ، ٹکرز اور تجزئیے ان مقدمات کا احاطہ کر رہے ہیں اس سے انتخابی فضا متاثر ہو رہی ہے اور اس کا نقصان ن لیگ کو ہو سکتا ہے ، یقیناً عدالتیں حکومت کے انتظامی معاملات پر احتساب کا فورم بن سکتی ہیں مگر موجودہ صورتحال عدالت سے نہایت ذمہ داری اور قومی کردار اجاگر کر نے کا تقاضا کر رہی ہے ۔