ٹال مٹول چھوڑو،یہ بات تمہیں ماننی پڑے گی۔۔۔مولوی خادم رضوی ڈٹ گئے،حکومت کو صاف صاف کہہ دیا

لاہورتحریک لبیک یا رسول اللہ کے رہنما مولانا خادم حسین رضوی نے کہا ہے ختم نبوت معاہدے کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ،عملدرآمد کیا جائے ۔داتا دربار سے ملحقہ سڑکوں پر نظام زندگی مفلوج ہو گیا ۔تحریک لبیک کے کارکنوں کا دھرنا ساتویں روز بھی جاری رہا ،ان کا مطالبہ ہے دوسری جابن خبر کے مطابق تحریک لبیک یا رسول اللہ کے

رہنما خادم حسین رضوی نے ایک بار پھر حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ، بہت بڑے دھرنے کا اشارہ دے دیا۔خادم حسین رضوی کا کہنا تھا کہ حکومت معاہدے پر عمل نہیں کر رہی،یکم اپریل تک معاہدے پر عمل نہ ہوا تو حکمران پہلے سے بڑی تحریک کیلئے تیار ہو جائیں۔تفصیلات کے مطابق فیض آباد دھرنے کو ختم کروانے کے لیے حکومت کی جانب سے مظاہرین سے ایک معاہدہ کیا گیا تھا جس میں فوج کو ثالث بنایا گیا تھا۔اس معاہدے میں شریعت کے نفاذ، راجہ ظفر الحق رپورٹ کو منظر عام پر لانے سمیت بہت سے مطالبات شامل تھے۔ معاہدہ ختم ہونے کے بعد سے اب تک متعدد بار تحریک لبیک کے قائدین کی جانب سے معاہدے پر عمل درآمد نہ ہونے کا شکوہ کیا جا چکا ہے۔اسی سلسلے میں خادم رضوی نے ایک بار پھر حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ، بہت بڑے دھرنے کا اشارہ دے دیا۔خادم رضوی کا کہنا تھا کہ یکم اپریل 2018ءتک معاہدہ فیض آباد من عن پورا کیا جائے بصورت دیگر تمام حالات کے ذمہ دار حکمران ہوں گے۔ اور پہلے سے کئی گنا بڑی تحریک ختم نبوت کے لئے تیار ہو جائیں کیونکہ نہ ہم بکنے والے نہ بھکنے والے ختم نبوت پر مرمٹنے والے ہیں۔ کیونکہ نہ ہم بکنے والے نہ بھکنے والے ختم نبوت پر مرمٹنے والے ہیں۔