پاکستان کے اہم ترین صوبے کا وزیر غنڈہ بن گیا، نجی ٹی وی چینل کے صحافی پر بہمانہ تشدد کی اطلاعات

کوئٹہ بلوچستان کے ضلع ژوب میں صحافی اسد خان بتینی پر تشدد کے بعد انہیں علاج معالجے کے لیے سول ہسپتال منتقل کردیا گیا۔صحافی اسد خان کی جانب سے الزام لگایا گیا کہ انہیں صوبائی وزیر زراعت جعفر خان مندوخیل کے کہنے پر ایک گروپ کی جانب سے تشددکیا
نشانہ بنایا گیا کیونکہ انہوں نے ان کی کرپشن کے خلاف لکھنے کو ختم کرنے سے منع کردیا تھا۔

نجی ٹیلی ویژن سے تعلق رکھنے والے صحافی کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئی ماہ سے انہیں دھمکیاں مل رہی تھیں لیکن انہوں نے کرپشن کے خلاف لکھنا بند نہیں کیا تھا۔اسد خان نے کہا کہ انہیں ضلع ژوب کے ہسپتال میں ابتدائی طبی امداد دی گئی جبکہ بعد ازاں انہیں کوئٹہ کے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔دوسری جانب صوبائی وزیر زراعت جعفر خان مندوخیل نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ڈان کو بتایا کہ ’ صحافی کی جانب سے ان کے اوپر لگائے گئے تمام الزامات غلط اور بے بنیاد ہیں‘۔انہوں نے کہا کہ وہ 2 دہائیوں سے سیاست میں سرگرم ہیں اور آج سے پہلے کسی نے بھی ان پر الزامات نہیں لگائے، ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس طرح کے الزامات انہیں بلیک میل کرنے کی کوشش ہے‘۔تاہم جعفر خان مندوخیل کی جانب سے اس بات کو تسلیم کیا گیا صحافی کی ’ بے بنیاد رپورٹس‘ پر ان کے حامیوں اور صحافی کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا تھا جبکہ حامیوں اور اسد خان کے گروپ کے درمیان کشیدگی بھی ہوئی تھی۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابقانٹرنیشل انڈیکس فار پریس فریڈم نے صحافت کے عالمی دن کے موقع پر پاکستان کو دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں شمار کرلیا۔گذشتہ روز 2 نومبر کو دنیا نے صحافت کا عالمی دن منایا، جسے

’صحافت کے خلاف جرائم کے خاتمے کے دن‘ کے طور سے منایا گیا۔میڈیا کے بین الاقوامی وکلالت گروپ ’رپورٹرز ود آؤٹ باڈرز‘ کی جانب سے ترتیب دیئے گئے ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس 2017 کے مطابق سروے رپورٹ میں پاکستان دنیا کے 180 ممالک میں 139ویں نمبر پر ہے جبکہ 2016 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا 146 واں نمبر تھا۔خیال رہے کہ 2017 کی رپورٹ میں بھارت کو 136 ویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔واضح رہے کہ دونوں ممالک میں میڈیا کو دنیا کے دیگر خطوں کے مقابلے میں زیادہ آزادیحاصل ہے تاہم دہشت گرد، مذہبی گروہ اور مافیا ان کی ٹاگٹ کلنگ میں ملوث ہیں۔صحافیوں کے تحفظ کے لیے نیویارک کے تحت کام کرنے والی کمیٹی کے مطابق 1994 سے اب تک پاکستان میں 60 صحافی ہلاک ہوچکے ہیں، تاہم انہوں نے پاکستان کو دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں شامل نہیں کیا۔دوسری جانب مذکورہ فہرست میں شام اور میکسکو کے بعد عراق 9ویں جبکہ افغانستان 7ویں نمبر پر ہے۔رپورٹ کے مطابق چین 176 ویں نمبر پر جبکہ ویتنام 175 ویں نمبر پر دنیا میں بلاگرز اور صحافیوں کو سب سے زیادہ جیل بھیجنے والے ممالک ہیں جبکہ دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں پاکستان 139ویں، فلپائن 127ویں اور بنگلہ دیش 146ویں نمبر پر ہے۔