کیا آپ کی توبہ قبول ہوگئی؟ جانئے وہ 4 نشانیاں جن کے ذریعے اللہ آپ کو قبولیت کا پیغام دیتا ہے

کراچی:انسان ہونے کے ناطے ہم سب سے غلطیاں سرزد ہوتی ہیں اور جب ہم اپنے گناہوں پر نادم ہوتے ہیں تو توبہ کے لئے اپنے خالق کی بارگاہ میں حاضر ہوتے ہیں۔ وہی خالق بہتر جانتا ہے کہ ہماری توبہ قبول ہوئی کہ نہیں البتہ اپنی زندگی میں نظر آنے والی کچھ تبدیلیوں سے ہمیں کسی حد تک اندازہ ضرور ہوسکتا ہے کہ توبہ کے بعد ہم کس قدر فلاح کے راستے کی جانب گامزن ہوئے۔

ویب سائٹ Parhloکی ایک رپورٹ میں قرآن و حدیث کی ہدایت کی روشنی میں کچھ ایسی نشانیوں کے بارے میں بیان کیاگیاہے۔ مثال کے طو رپر ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ جب تمہارے اچھے اعمال سے تمہیں مسرت محسوس ہونے لگے اور برے اعمال سے تکلیف اور غم محسوس ہو تو یہ ایمان کی نشانی ہے۔ اسی طرح جب انسان اپنے گناہوں سے سچے دل کے ساتھ توبہ کرلے اور یہ عہد کرے کہ وہ دوبارہ گناہ کی جانب مائل نہیں ہوگا تو اسے اپنے خالق سے رحم اور مغفرت کی پوری امید رکھنی چاہیے۔ توبہ دراصل اپنے گناہوں پر گہرا دکھ اور ندامت محسوس کرنے کا ہی دوسرا نام ہے۔ جب انسان اپنے طرزعمل کو بدلنے کے لئے بے قرار ہوجاتا ہے تو یہ اس بات کی نشانی ہے کہ پروردگار نے اس پر کرم کردیاہے اور اسے ہدایت کا راستہ دکھادیا ہے۔علماءکہتے ہیں کہ دل کی اس بے قراری کا خاتمہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے حصول سے ممکن ہے۔ اگر احساس ندامت اور توبہ کے بعد آپ کے دل کو قرار نصیب ہوجاتا ہے تو علما کے نزدیک یہ اس بات کی علامت ہے کہ پروردگار نے آپ کی توبہ قبول فرمائی ہے اور آپ کے دل کو اطمینان بخش دیا ہے۔نصیب ہوجاتا ہے تو علما کے نزدیک یہ اس بات کی علامت ہے کہ پروردگار نے آپ کی توبہ قبول فرمائی ہے اور آپ کے دل کو اطمینان بخش دیا ہے۔