fauzia kasuri

عمران خان نے مجھے لکھ کر کیا دیاتھا؟اگر میری کردار کشی کی کوشش کی گئی تو میں جواب میں کیا کروں گی؟فوزیہ قصوری

لاہور:تحریک انصاف کے کارکنوں نے مجھے ماں کا خطاب دیا اور میرا ضمیر اس بات کی اجازت نہیں دیتاکہ میں خود کو ماں کا خطاب دینے والے بچوں سے جھوٹ بولوں کہ نیا پاکستان بن رہاہے، تحریک انصاف کی اہم رہنما فوزیہ قصوری کھل کر بول پڑیں، فوزیہ قصوری کا کہنا ہے کہ انہیں عمران خان نے لکھ کر دیا تھا کہ وہ سینیٹ کی امیدوار ہوں گی ،وہ خط اب بھی ان کے پاس موجود ہے

اور اگر ان کی کردار کشی کی کوشش کی گئی تو ان کے پاس کہنے کو اور بھی بہت کچھ ہے۔تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کی اہم رہنما فوزیہ قصوری نے کہا ہے کہ کوئی نیا پاکستان نہیں بن رہا، مجھے خود کوئی نیا پاکستان بنتا نظر نہیں آرہا، جو فصلی بٹیرے تحریک انصاف میں شامل ہورہے ہیں ان کو ووٹرز ووٹ نہیں دیں گے کیونکہ یہ پہلے ہی مسترد کئے جانے والے لوگ ہیں دریں اثناء پاکستان تحریک انصاف کی خاتون رہنما فوزیہ قصوری نے اخبار میں اپنے چھپنے والے مضمون میں کہا کہ تحریک انصاف اپنا انقلابی نظریہ بھلا بیٹھی ہے، فوزیہ قصوری نے مضمون میں مزید لکھا کہ تحریک انصاف اب اپنے سیاسی نظریے کے مخالف راستے پر گامزن ہے۔ فوزیہ قصوری نے ایک اخباری مضمون میں لکھا کہ 2011ء میں تحریک انصاف ایک انقلابی نظریے کے ساتھ سڑکوں پر نکلی لیکن کچھ ناقابل بیان واقعات رونما ہوئے اور اپنے سیاسی نظریے کے مخالف راستے پر چل نکلی۔ فوزیہ قصوری نے کہا کہ آج ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے مقابلے میں تحریک انصاف کی بقاء کو زیادہ سنگین خطرات لاحق ہیں کیوں کہ اس کا مستقبل ایک شخص کی قسمت سے جڑا ہوا ہے۔ اپنے مضمون میں فوزیہ قصوری نے لکھا کہ شاید مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی کی قیادت برقرار رہے

کیوں کہ وہاں موروثی سیاست ہے، تحریک انصاف میں جمہوریت یا کوئی نظام نہیں جو اس کے جلد خاتمے کی وجہ بن سکتا ہے۔ فوزیہ قصوری نے لکھا کہ پارٹی کے حامیوں نے اس لیے ہماری حمایت کی کیوںکہ پارٹی چیئرمین نے انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ پی ٹی آئی کو شوکت خانم میموریل کینسر اسپتال کی طرح ادارہ بنائیں گے، جب الیکٹوریٹ نے خیال کیا کہ پی ٹی آئی غریب اور متوسط طبقے کی جماعت ہے تو ہم نے دیگر سیاسی جماعتوں سے مفاد پرستوں کو اپنی پارٹی میں شامل کرنا شروع کردیا۔ تحریک انصاف کی خاتون رہنما فوزیہ قصوری نے کہا کہ قیادت یہ سمجھ بیٹھی تھی کہ 2013ء کے انتخابات میں کامیابی کے لیے یہ سیاست دان ضروری ہیں لیکن اندرونی اختلافات کی وجہ سےپارٹی 2013ء کے انتخابات ہار گئی۔ انہوں نے مزید لکھا کہ تحریک انصاف کو ایک ادارہ بنانے میں ناکامی نے ملک بھر میں کارکنوں کو بد دل کیا، پنجاب میں پیپلز پارٹی اور سندھ میں ایم کیوایم کے خلا کو پر کرنے میں ناکامی نے معاملات مزید خراب کیے۔فوزیہ قصوری نے کہا کہ ستم ظریفی یہ ہے کہ ایک ایسی قیادت جس کی زیادہ تر سیاسی حکمت عملی کا دارومدار عدلیہ پر ہے، اس نے اپنی پارٹی کے آئین کو مکمل نظرانداز کیا۔

پارٹی ٹکٹ کی فراہمی سے پارٹی پوزیشنز تک ہر چیز کا فیصلہ فرد واحد کرتا ہےاور اس کے لیے مرکزی مجلس عاملہ کو ربڑ سٹیمپ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ بنی گالہ کے ان دربانوں کی جانب عمران خان کا جھکاؤ کسی بھی طرح پارٹی کے مفاد میں نہیں۔ عمران خان کو اب سمجھنا ہوگا کہ ان ارب پتی افراد نے فراہمی انصاف کے لیے کھڑی کی گئی ہماری تحریک کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے اپنے مضمون میں مزید لکھا کہ سب سے اہم بات یہ کہ ہم کون ہوتے ہیں کہ ووٹرز کو اس بات پر راضی کریں کہ وہ تحریک انصاف کے ایجنڈے کو اپنائےجب کہ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ بے ہنگم ہجوم کی طرح سیاسی مخالفین کی کردار کشی کریں، ہمیں ایک ادارہ بنانا تھا لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ تحریک انصاف اب ایک شخصیت کے گرد موجود گروہ ہے۔دریں اثناء پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی رہنما و رکن قومی اسمبلی منزہ حسن نے کہا ہے کہ فوزیہ قصوری نے تین سال قبل خیبر پختوانخواہ سے سینیٹر کی ٹکٹ کا مطالبہ کیا تھاتاہم خیبر پختوانخواہ کی رہائشی نہ ہونے پر انہیں ٹکٹ دینے سے معذرت کر لی گئی تھی۔فوزیہ قصوری کے مضمون پر اپنے رد عمل میں منزہ حسن نے کہا کہ 126روز کے دھرنے اور پانامہ کیس میں کرپشن کے خلاف مہم کے کڑے دنوں میں فوزیہ قصوری کہیں دکھائی نہیں دیں۔ تحریک انصاف منصفانہ اور شفافیت پر یقین رکھنے والی جماعت ہے۔ تحریک انصاف اپنے کارکنان اور حمایتیوں کی قدر کرتی ہے اور قابلیت پر ہرگز سمجھوتہ نہیں کرتی۔