یہ ہوئی نا بات اپنے محافظوں کو تشدد کا نشانہ بنانے والے چینی انجنیئر زاپنے انجام کو پہنچ گئے

ملتان،سیکیورٹی افسران پر تشدد کرنے والے 5 چینی انجنیئرز کو ملک بدر کردیا گیا ہے۔ انجینئرز نے سیکیورٹی افسران پر تشدد کیا اور جوتوں سمیت پاکستانی پرچم والی گاڑی پر چڑھ گئے۔نجی نیوز کے مطابق سیکیورٹی افسران پر تشدد کرنے والے 5 چینی انجنیئرز کو ملک بدر کردیا گیا ہے،سیکیورٹی افسران کے مطابق فیصل آباد ملتان موٹروے نورپور

سائیٹ پر کام کرنے والے چینی انجنیئرز بغیر سیکیورٹی کیمپ سے باہر جانا چاہتے تھے جس پر ان سے تلخ کلامی ہوگئی جو ہاتھا پائی پر جاپہنچی، انجینئرز نے سیکیورٹی افسران پر تشدد کیا اور جوتوں سمیت پاکستانی پرچم والی گاڑی پر چڑھ گئے۔کمشنر ملتان کی انکوائری رپورٹ کے بعد وزارتِ داخلہ نے انجنیئرز کو ملک بدر کا حکم جاری کیا اور انہیں گاڑیوں کے ذریعے لاہور لایا گیا اور خصوصی طیارے کے ذریعے ملک بدر کردیا گیا۔ ملک بدر کئے جانے والوں میں کنٹری پروجیکٹ منیجر ولبنگ، ایڈمن آفیسر تی آن ویجون، میٹریل انجینیئر مسٹرہوئی لیو، فنانس آفیسر وانگ بیفن اور فیلڈ انجنیئر سٹرتان ینگ شامل ہیں۔دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ منگل کی رات چینیوں نے ضد کی کہ وہ بازار حسن جانا چاہتے ہیں۔ پولیس نے ان کی حفاظت کے پیش نظر منع کیا کہ دیکھو کوئی بیماری لگوا بیٹھو گے پھر پردیس میں ہسپتال میں پڑے رہو گے۔ ادھر بازار حسن میں لفنگے بھی ہوتے ہیں، کوئی مار پیٹ نہ دے۔ اب چینی اس پر خفا ہو گئے۔ انہوں نے نہایت غم و غصے کا اظہار کیا کہ پولیس والے ان کو کام کرنے اور فرائض ادا کرنے سے روک رہے ہیں۔حالانکہ دونوں فریق غور کرتے تو یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں تھا۔ چینی صرف مقامی روایات کے احترام میں جنگل میں منگل منانا چاہتے تھے اور

پولیس والے ان کی صحت کی فکر میں ہلکان ہو رہے تھے اور انہیں روک رہے تھے۔ بہرحال چینی اتنے خفا ہوئے کہ کہنے لگے اگر تم ہماری شام رنگین نہیں ہونے دو گے تو ہماری آہ لگے گی اور تم بھی نہ سو پاؤ گے، رات بھر جاگ کر اختر شماری کرو گے۔ اب اگر رات کو کسی نامعلوم مبینہ شخص نے پولیس کیمپ کی بجلی کاٹ دی تو اس کا الزام چینیوں کو نہیں دینا چاہیے بلکہ ان کی روحانیت کی تعریف کرنی چاہیے کہ انہوں نے کس صحت سے مستقبل کا حال بتایا اور پولیس اہلکاروں کی رات ان کی پیش گوئی کے مطابق جاگتے ہوئے اور مچھر مارتے ہوئے گزری۔ اب صبح سویرے پولیس والے تیار ہونے اٹھے تو پتہ چلا کہ بجلی کے علاوہ پانی بھی نہیں ہے۔ وہ تیار ہونے کے لئے بھاگ دوڑ کرنے لگے۔ دوسری طرف ہوا ایسا کہ کسی وجہ سے رات بھر چینیوں کے پاس بجلی پانی موجود رہے تھے اور وہ صبح سویرے ہی اٹھ کر تیار ہو گئے تھے۔ چینی ہیں اولے درجے کے فرض شناس فرض شناس۔