imran khan

میں خطرناک ملزم ہوں اور ۔۔۔عمران خان کی احتساب عدالت میں پیشی، حیران کن اعتراف کر لیا

اسلام آباد پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ کا کہنا ہے کہ میں خطرناک ملزم ہوں،ملزم عدالت میں پیش ہوگیاہے، انسان کی ساکھ کو دیکھنا ہو تو اس کے فیصلوں کو دیکھو۔تفصیلات کے مطابق چیئرمین تحریک انصاف عمران خان پارلیمنٹ حملہ سمیت دیگر کیسز میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہوئے،

عمران خان کے وکلا بابر اعوان اور فیصل چوہدری ایڈووکیٹ بھی ان کے ہمراہ تھے۔اس موقع پر پی ٹی آئی چیئرمین سے غیررسمی گفتگو میں صحافی نے سوال کیا خان صاحب اس کیس سےکب بری ہوں گے، جس کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ میں خطرناک ملزم ہوں،ملزم عدالت میں پیش ہوگیاہے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ سیاسی جدوجہد کرنے والے پر دہشتگردی کی دفعات لگائی گئی، بڑے فیصلے کرنے کیلئے انسان کورسک لیناپڑتاہے، انسان کی ساکھ کو دیکھنا ہو تو اس کے فیصلوں کو دیکھو۔انھوں نے مزید کہا کہ احتساب عدالت میں سماعت لائیوٹیلی کاسٹ ضرورہونی چاہیے۔دوسری جانب بابراعوان کا کہنا تھا کہ میرےموکل کانام خان ہےاوروہ دہشت گردنہیں ہے، عدالت کی دوسری طرف قناطیں لگی ہیں، سیکیورٹی والوں نے بتایا مجھےکیوں نکالاوالے اس طرف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں تک کہ قومی اسمبلی کے اسپیکر کشمیر کمیٹی پر اٹھنے والے اخراجات قوم کے سامنے رکھنے پر تیار نہیں،تاہم ہماری جماعت تحریک انصاف اس معاملے پر ایک مکمل سوچ رکھتی ہے اور مشرقی تیمور کی طرح کشمیر کے مسئلے کا حل بھی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں پوشیدہ ہے۔انہوں نے کہا کہ مودی سرکار قوت کے زور پر اہل کشمیر کے حقوق سلب کر رہی اور

مقبوضہ وادی میں انساسی حقوق پامال کررہی لیکن ہم اہل کشمیر کے حق اور بھارتی جبر و تسلط کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے۔انٹرویو کے دوران پاک بھارت تعلقات پر بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کوئی سول یا عسکری رہنما دونوں ممالک کے درمیان اور امن اور بہتر تعلقات کا مخالف نہیں لیکن بندوق کی نوک پر خوشگوار تعلقات ممکن نہیں اور پائیدار امن کے لیے تنازعات کا حل ضروری ہے۔ واضح رہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سمیت دیگر رہنماؤں پر 2014 کے دھرنے کے دوران 4 مقدمات قائم کیے گئے تھے ، جن میں پی ٹی وی کے دفتر، پارلیمنٹ اور ایس ایس پی عصمت اللہ جونیجو پر حملے سمیت لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کا مقدمہ شامل ہے۔