nawaz sharif

اصل کہانی سامنے آگئی: جنوبی پنجاب کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے بغاوت کیوں کی؟ نامور صحافی کے انکشافات

اسلام آباد الیکشن 2018سے قبل سیاسی جماعتوں کے ارکان کی وفاداریاں تبدیل کرنے کا سلسلہ جاری ہے، ایسے میں حکمران ن لیگ کے 6 قومی اور2 صوبائی اسمبلی ارکان کے مستعفی ہونے کا اعلان حیرت انگیز نہیں،سیاسی حلقوں میں ن لیگ کے 40 ارکان کے مستعفی ہونے کی خبریں زبان زدعام ہیں اب تک 10 ارکان کی علیحدگی ہوچکی ہے،

جنوبی پنجاب میں پیدا شدہ محرومیوں کے ازالے کے لئے اگر ٹھوس اور قابل ذکر اقدامات ہوتے تو شاید آج اس علاقے کے حالات بدل چکے ہوتے کراچی میں ایم کیو ایم کے ارکان کی وفاداریاں بدلنے کے لئے پاک سرزمین پارٹی نے مورچہ لگا رکھا ہے جبکہ آصف زرداری بھی مورچہ بند ہیں۔ انہوں نے کے پی کے میں تحریک انصاف، پنجاب او رسندھ میں ن لیگ کو ہدف بنارکھا ہے ، جنوبی پنجاب کے 8 ارکان کی جانب سے صوبہ محاذ کے قیام کے فیصلے سے در حقیقت ایک بڑا پریشر گروپ سیاست میں آگیا۔ انہوں نے جنوبی پنجاب سے پسماندگی، غربت اور محرومیوں کے خاتمے کے لئے جدوجہد شروع کرنے کا اعلان کیا کہ صرف ان لوگوں اور پارٹیوں سے اتحاد کریں گے جو آنے والی منتخب اسمبلی کےپہلے اجلاس میں جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کی آئینی ترمیم منظور کرائیں گی۔ سابق وزیراعظم میر بلخ شیر مزاری محاذ کی سربراہی کریں گے۔اس حقیقت کو بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ جنوبی پنجاب میں جاگیر دارانہ نظام اپنی تمام حشر سامانیوں کے ساتھ آج بھی قائم ہے، کئی گھرانوں میں روحانی سلسلوں کی گدی نشینی بھی چلی آرہی ہے ، ان گھرانوں نے اقتدار میں آنے کے بعد بھی اپنے لوگوں کی حالت زار بدلنے کے لئے کوئی قابل قدر کاوشیں نہیں کیں،

آج 21 ویں صدی میں جنوبی پنجاب کے بہت سے علاقوں سندھ کے صحرائی علاقے تھر میں انسان اور جانور ایک گھاٹ سے پانی پینے پر مجبور ہیں۔ یہ درست ہے کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملکوں میں بڑے شہروں اور قصبوں کا معیار زندگی ایک جیسا نہیں ہوتا لیکن یہ بھی تو کوئی تسلی بخش صورت حال نہیں کہ اس تفریق و امتیاز کو یوں ہی برقرار رکھا جائے کہ ایک طرف تو زندگی کی ساری آسائشیں میسر ہوں اور دوسری جانب ملک کے کروڑوں عوام پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی سہولت سےبھی محروم ہوں حالیہ برسوں میں یہ احساس فزوں تر ہوا ہے کہ پنجاب کے وسائل کا زیادہ حصہ لاہور اور اس کے گردو نواح پرخرچ ہوتا ہے۔