چوہدری نثار (ن) لیگ کے لیے کیوں ضروری ہیں ؟ اگر انہیں ٹکٹ نہ دیا گیاتو مسلم لیگ (ن) کا کیا حشر ہو گا ؟ بڑے کام کا سیاسی تبصرہ سامنے آ گیا

لاہور موقر قومی اخبار کے صفحہ اول پر میرا ایک تجزیہ شائع کیا جس میں ،سابق وزیر اعظم نواز شریف کے درینہ ساتھی چوہدری نثار کی پاکستان تحریک انصاف میں ممکنہ شمولیت کے حوالے سے خبر شامل تھی۔تجزیہ کار جمیل نور لکھتے ہیں کہ ۔۔۔۔۔ ن لیگ سے وابستہ حلقوں نے اس خبر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

تین دن پہلے ملک کے معتبر روزنامہ کی ایک رپورٹ نے بعد ازاں اس خبر کی تصدیق کی ۔ اب ملک کے نامور نجی نیوز چینل کے اسلام آباد کے بیورو چیف کے ذریعے چوہدری نثار کے بہت جلد تحریک انصاف میں شمولیت کے امکان کی خبر نے موقر قومی اخبار ہونے والے تجزیہ کی صداقت کو مزید تقویت پہنچی۔اڑتی اڑتی خبر آ ئی ہے کہ ن لیگ نے آئندہ الیکشن میں چوہدری نثار کو ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر ایساہے تو یہ اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہوگا۔ چوہدری نثار کو پارٹی کو کا ٹکٹ نہ دینا ن لیگ کی سنگین غلطی ہو گی۔ ن لیگ کی یہ حرکت تحریک انصاف کو زیادہ مضبوط ہوم گراونڈ فراہم کرنے کے مترادف ہو گی۔چوہدری نثار کو پارٹی ٹکٹ نہ دینا ن لیگ کی سنگین سیاسی غلطی ہو گی ۔ اگر ن لیگ نے چوہدری نثار کو ٹکٹ نہ دیا تو تحریک انصاف اپنا امیدوار نہیں اتارے گی۔ چوہدری نثار نے عمران خان کو یقین دہانی کروائی کہ اگر مسلم لیگ کو خیر باد کہا تو ان کی اگلی سیاسی منزل تحریک انصاف ہو گی ۔ یہ حالات و واقعات ہیں لیکن میں اپنے تجزیہ پر قائم ہوں ۔ کہ چوہدری نثار کب تحریک انصاف میں شامل ہوں گے ۔ اس کا اصولی فیصلہ کیاجا چکا ہے،۔اگر چاہے ٹحریک انصاف یا ترجمان چوہدری نثار اس خبر کی تردید کریں لیکن ٹرینڈ ہی بتاتا ہے کہ ہلچل ضرور ہوئی ہے۔خان صاحب کی شادی کو ہی لے لیجیے ۔ یہ وہ خبر تھی کہ جس کی ترجمان تحریک انصاف نے تردید کی تھی لیکن ٹھیک ایک ماہ وہی خبر آ گئی۔ الیکشن سے قبل بہت ساری تبدیلیا ں رونما ہوں گی ۔ بس صبر کیجیے اور حالات کو کروٹ لینے دیجیے۔