imran khan

کپتان کی دعائیں رنگ لائیں ، اگلے الیکشن میں تحریک انصاف کی فتح یقینی۔۔۔۔ دل باغ باغ کر دینے والی خبر آگئی

لاہورالیکشن سے پہلے ہوائیں چل رہی ہیں ،سیاسی ہوا تبدیل ہورہی ہے ،پنجاب کی سیاست کے رنگ بدل رہے ہیں ، اب مثبت ہوائوں کا رخ پی ٹی آئی کی جانب ہے جو کہ نظر آرہا ہے ، 8اراکین پارلیمنٹ مسلم لیگ ن کو چھوڑ گئے ہیں ، وہ نئی سیاست کریں گے اورجنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کی تحریک شروع کریں گے ۔

یہ بات میزبان ’’دنیا کامران خان کے ساتھ‘‘نے بتائی ۔ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ الیکشن کے بعد خیال کیا جا رہا ہے کہ پنجاب میں ن لیگ کی حکومت کو الیکشن میں جیتنے کے کم مواقع حاصل ہوں گے ۔سینئر صحافی و تجزیہ کار افتخار احمد نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جنوبی پنجاب کے لوگوں کا احساس محرومی بڑھتا جا رہا ہے ۔1970 کے انتخابات کے بعد کئی بار سرائیکی صوبے کی بات ہوئی ۔بہاولپور کو الگ صوبہ بنانے کے لئے بہت بڑی تحریک چلی تھی۔حکمرانوں کا رویہ یہی رہا تو تلخی مزید بڑھے گی ۔ خسرو بختیار نے آج حقائق بیان کئے ہیں اگر کوئی غلط بات کی ہے تو ن لیگ اس کو چیلنج کرے ۔ابھی وقت ہے کہ ہم ان کی باتوں کو سنیں اور ان کا حق ان کو دیں پنجاب کی تقسیم ہو یا نئے انتظامی یونٹ بنیں ،اس پر بحث ہونی چاہیےاس بحث کے بغیر کچھ نہ کیا جائے ۔ایمنسٹی سکیم پر سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا انڈونیشیا،بھارت ،ارجنٹائن بھی ایمنسٹی سکیم دے چکے ہیں۔اس سے بیرون ملک تمام پاکستانیوں کے اثاثے ڈکلیئرہوجائیں گے ،اوورسیز پاکستانی ایمنسٹی سکیم سے ضرورفائدہ اٹھائیں گے ۔شوکت ترین نے بتایا کہ اس وقت لوگ یہ چاہیں گے کہ ان کو کوئی قانونی تحفظ حاصل ہو ۔صدارتی آرڈیننس کو عدالت کالعدم قرار دے سکتی ہے اور سیاسی جماعتیں کہہ رہی ہیں کہ ان کی حکومت آئی تو وہ اس کو ختم کردیں گے ۔قانونی تحفظ کے بغیر اس کی کامیابی ممکن نہیں ہے ۔