پاکستان کے کرپٹ ترین 303 افراد اور پولیس کا چھتر : بھٹو دور میں مشہور ہونے والی اصطلاحات تھری ناٹ تھری اور سچ پتر کے حوالے سے ایک شاندار تحریر ملاحظہ کیجیے

لاہورانتخاب : مارے والد صاحب نے ایک نئ رائفل خریدی اور اس کی آزمائش کے لئے استاد بہادر علی کی خدمات حاصل کیں ۔ اس رائفل کی نالی کے دہانے کا قطر اعشاریہ تین صفر تین (303ء) انچ کا ہوتا ہے، چونکہ انگریزی میں تین کے لیے تھری اور صفر کے لیے زیرو یا ناٹ کا لفظ بولا جاتا ہےنامور کالم نگار عدنان خان کاکڑ اپنے ایک خصوصی مضمون میں لکھتے ہیں

اس لیے عرف عام میں اس رائفل کو تھری ناٹ تھری کہتے ہیں۔ ناٹ تھری کی رائفل کی مار دو ہزار گز تک ہو سکتی ہے لیکن عموماَ اسے تین سو گز سے دور تک ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا وزن ساڑھے نو پاؤنڈ ہوتا ہے اور جب اسے لگا تار چلایا جائے تو یہ ایک منٹ میں 15 راؤنڈ تک فائر کر سکتی ہے فائرنگ کی عام رفتار 5 راؤنڈ فی منٹ ہوتی ہے ۔ بھٹو دور میں بھی ایک اصطلاح بہت مشہور ھوئی تھی تھری ناٹ تھری) کیا آپ کو معلوم ھے یہ تھری ناٹ تھری کیا تھا۔ بھٹو کے دور میں کرپشن کے خلاف ایک انتہائی پر اثر آپریشن ہوا اس میں پورے پاکستان سے بدترین کرپشن کرنے والے لوگوں کو انتہائی پکے ثبوتوں کے ساتھ پکڑا گیا اور ان کے عہدوں سے برطرف کیا گیا۔ ان کی تعداد 303 تھی ۔ ان تین سو تین لوگوں کو تھری ناٹ تھری کا لقب ملا۔ یہ تین سو تین کرپٹ افراد معاشرے کے انتہائی ناسور تھے۔ ان تھری ناٹ تھری کے ٹاپ لوگوں میں پاکستان کے ایک موجودہ مقبول ترین سیاستدان کے والد صاحب بھی شامل تھے۔ تھری ناٹ تھری رائفل کو پاکستانی فوج نے پینسٹھ اور اکہتر کی جنگوں میں بھی استعمال کیا تھاتھری ناٹ تھری کا ریکوئل یعنی دھکا گردن کی ھڈی پر اسقدر ھوتا تھاکہ ناتجربہ کار بندوقچی کی بازو کی ھڈی تک ٹوٹ جاتی تھی۔

اب دور ایک گہری نہر نما گڑھے میں والد صاحب نے ایک گھی کا خالی ڈبہ رکھا اور استاد صاحب نے کافی فاصلےسے کنارے پر بیٹھ کر جو نشانہ تاک کر فائر کیا تو گولی آگے نشانے پر اور استاد صاحب شدید دھکے سے پیچھے لڑھک گئے کہ ٹانگیں اٹھ گئیں۔ ٹوپی لڑھکتی ہوئ دور جا گری۔ پہلی مرتبہ ان کو ننگے سر زمین پر پڑے دیکھا۔ خود بھی کھسیانے سے ہو گئے تھے۔ ہمارے لئے یہ بڑا دلچسپ نظارا تھا کہ سپر میں ایسا کڑک اور سخت لونڈا جس سے پولیس والے بھی ڈرتے تھے یوں لڑھک جائے۔۔۔ آجکل کچھ نازک اندام خواتین بھی بضد ہیں کہ ان کو بھی سخت لونڈا سمجھا جائے۔ اب کوئ ان نادانوں کو کیا بتائے کہ جس بنیاد پر لونڈا سخت ہوتا ہے اس گوہر نایاب کی جستجو میں تو خود مرد حضرات اکثر سرگرداں رہتے ہیں اور دیواروں اور اخباروں میں چھپے سنیاسی دوا خانوں کے اشتہارات بڑی حریص نگاہوں اور ٹپکتی رال کے ساتھ پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ لیکن بہرحال استاد صاحب نے اپنی شرمندگی کا مداوا ایسے کیا کہ والد صاحب سے کہا کہ یہ رائفل ٹھیک نہیں ہے اس میں کچھ ٹیکنیکل خرابی ہے ورنہ مجھے اتنا زوردار دھکا نہ لگتا۔ پھر ہمارے والد صاحب نے اس رائفل کی جگہ دوسری چھرے دار کارتوسوں والی شکاری بندوق لی۔

سچ پتر اس وقت ہم پولیس سے بڑے متاثر تھے اور تھانے کے ایس ایچ او کے طمطراق اور رعب داب کے سامنے ساری خدائ ہیچ نظر آتی تھی۔ ہمارے ذہن میں اس وقت یہ خیال پختہ ہو چکا تھا کہ سارے ملک کی باگ ڈور ایس ایچ او صاحب کے ہاتھ میں ہی ہوتی ہےاور ان کے سامنے ْصدر اور وزیر اعظم تک دم نہیں مار سکتے۔ اس وقت اگر کوئ ہم کو آئ جی یا ایس ایس پی بننے کے آفر بھی کرتا تو ہم اس کو ٹھکرا کر تین پھولوں والا ایس ایچ او بننے کو ہی ترجیح دیتے۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ ساڑھے چھ فٹ قد کے لحیم شحیم گورے چٹے موٹے تازے میانوالی کے صوبیدار عبدالکریم کی تھانے میں حکمرانی اور پھر جب وہ گشت پر باہر نکلتے تو اور تو اور ہمارے اسکول کے چند خطرناک ترین اور ہتھ چھٹ استاد صاحبان جن کو دیکھ کر طلبا کا پتہ پانی ہو جاتا تھا وہ بھی صوبیدار صاحب کودیکھ کر ایک عجیب لجاجت اور خوشامدی انداز میں تقریبا”بچھتے ہوئے سلام کرتے سائڈ سے نکل لیتے تھے۔ یہ دیکھ کر ہمیں بڑی طمانیت محسوس ہوتی کہ بیشک اللہ تعالی نے ہر فرعون کے لئے ایک موسی بھی پیدا کیا ہے۔کبھی کبھار والد صاحب سے سننے کو ملتا کہ فلاں کن ٹٹے یا سورما بدمعاش یا چور ڈاکو کی تھانے میں سچ پتر سے تواضع کے بعد اس کے سارے کس بل اور پیچ ڈھیلے ہوگئے ہیں۔

ہم سوچتے کہ یہ سچ پتر کیا بلا ہوتی ہے۔ ایک مرتبہ ہم بھی والد صاحب کے ساتھ تھانے گئے اور بطور خاص فرمائش کر کے “سچ پتر ” دیکھا۔ “سچ پتر” پولیس کی اصطلاح میں اس چھتر کو کہا جاتا ہے جس کی مدد سے ضدی اور خود کو پھنے خان سمجھنے والے ملزمان کی تشریف ، کمر اور پائوں کے تلووں پر یکے بعد دیگرے اور دیگرے بعد یکے ضربیں لگائ جاتی ہیں۔ یہ عمل وطن عزیز میں چھترول کے نام سے مشہور و معروف ہے۔ اس کو غالبا” سچ پتر اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس سے تعارف کے بعد انسان فر فر سچ بولنے لگتا ہے اور بعض اوقات تو اتنا سچ بول جاتا ہے کہ جس کا خود اس پر بھی انکشاف نہیں ہوا ہوتا۔ ایک سپاہی تھانے کے مال خانے سے سچ پتر لا کر ایس ایچ اوصاحب کے سامنے میز پر رکھ گیا۔ جو انہوں نے ہمارے سامنے کردیا کہ لو بیٹا دیکھ لو سچ پتر۔ اب کیا بتائیں کہ اس کی شکل و صورت کیسی تھی۔ یوں سمجھئے اگر کبھی آپ نے اپنے عمران خان صاحب کی پشاور کی ایک خاص دکان سے بنوائ گئ مخصوص پشاوری سینڈل دیکھی ہواور اگر نہیں دیکھی تو ابھی گوگل کر کے دیکھ لیجئے، تو بالکل جیسا اس کا نچلا حصہ یعنی تلا ہوتا ہے اتنا ہی موٹا اور ویسا ہی ڈیزائن لیکن سائز میں تقریبا” تین گنا زیادہ لمبا اور چوڑا چمڑے کا ٹکڑا تھا

جس میں رپٹ بھی ٹھوکے گئے تھے۔ ایک سائڈ پر درمیان میں کوئ آٹھ دس انچ لمبا چمڑے کا ہینڈل نما پٹہ لگا ہوا تھا جس کو تھام کر با سہولت ستھرے انداز سے چھترول کی جاتی ہے۔ اس پر جلی حروف میں آجا مورے بالما تیرا انتظار ہے” بھی لکھا ہوا تھا۔ہم اس کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے کہ جس چیز سے ہم کو مشرف بہ دیدار کیا گیا تھا وہ صرف بڑے بڑے نامی گرامی مجرمان و بستہ بے کے بدمعاش یا پھر پولیس والوں کو ہی دیکھنا نصیب ہوتا ہے۔یہ الگ بات کہ اس کی شکل و صورت اور خوف لاشعور میں کچھ ایسا بیٹھا ہے کہ ہم آج تک خالی اور ویران روڈ تک پر سگنل توڑنے کی ہمت نہیں کرپاتے اور پولیس کو دیکھتے ہی وہ سچ پتر نگاہوں میں گھوم جاتا ہے۔ اگر بچوں کو بچپن میں ہی تین چار مرتبہ یہ سچ پتر دکھا دیا جائے تو قوی امید ہے کہ وطن عزیز سے جرائم کم از کم پچاس فیصد کم ہوجائیں۔اور لوگ ہماری طرح قانون کے پابند اور امن پسند شہری بن جائیں۔جوتا تو پھر بھی ”جوتا“ ہے یہاں تھانوں میں جوتے کی غیر مہذب تعریف”چھتر“ سے جو تواضع پولیس ملزموں سے کرتی ہے۔ وہ منظر اگر شریف شہری دیکھ لیں تو ”پاﺅں میں جوتا پہننا بھول جائیں“ ہاں یہ الگ بات کہ ”پلس“ کی ” چھترول “ سے 2 لاکھ روپے ملتے نہیں بلکہ 2 لاکھ ادا کرنے پڑتے ہیں۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے اخبار میں ایک خبر نظر سے گزری جس کے مطابق کراچی کے تھانہ جمشید کوارٹرز کے ایس ایچ او کے پاس ایک ایسا چھتر ہے جس پر ’ آئی لو کرمنلز ‘ کے الفاظ تحریر کیے گئے ہیں ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ ایس ایچ او جمشید کواٹر نے 16 انچ کا چھتر بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر کے نیچے رکھا ہوا ہے ‘ جس سے تفتیش کے لیے لائے گئے ملزمان کی تواضع کی جاتی ہے۔تصویر کے نیچے چھتر کے ساتھ 20 انچ کا ٹیپ سے لپٹا ہوا ڈنڈا بھی موجود ہے جو کہ ملزمان کی مزاج پرسی کے کام آتا ہے۔ آج اکیسویں صدی میں اب بھی مختلف تھانوں میں چھتر کا دل کھول کر استعمال کیا جاتا ہے ۔