سلینا گومز کی زندگی کے اہم راز سے پردہ اٹھ گیا۔۔۔ ایسا کیا ہو گیا کہ وہ مرتے مرتے بچیں؟ہالی وڈ سے بڑی خبر آ گئی

نیو یارک : گزشتہ برس کے آخر میں امریکی پاپ گلوکارہ ماڈل و اداکارہ سلینا گومز نے یہ انکشاف کیا تھا کہ ان کے گردے کی سرجری ہوئی ہے اور انہیں ایک قریبی دوست نے کڈنی عطیہ کی ہے۔سلینا گومز نے یہ خبر اگرچہ انسٹاگرام کے ذریعے اپنے مداحوں سے شیئر کی تھی تاہم انہوں نے یہ خبر سرجری کے کافی وقت کے بعد بتائی۔

سلینا گومز نے یہ خبر بتاتے ہوئے ہسپتال میں دوران سرجری کھینچی گئی تصویر شیئر کرتے ہوئے اپنی بیماری کی بھی وضاحت کی تھی۔سلینا گومز کا کہنا تھا کہ انہیں طویل وقت سے لیپس نامی بیماری کا سامنا تھا۔واضح رہے کہ یہ بیماری جلد کا تپ و دق یا لیپس کہلاتی ہے، اس مرض میں انسان کا جسمانی دفاعی نظام غلطی سے صحت مند خلیات کو اپنا دشمن سمجھ کر حملہ آور ہوتا ہے، جس کے باعث جسم کا کوئی بھی حصا متاثر ہوسکتا ہے، جیسے جلد، ہڈی و جوڑ، گردے اور دیگر انسانی اعضاء وغیرہ۔اس بیماری کے باعث سلینا گومز کےگردے فیل ہوگئے تھے اور انہیں ایک گردے کی ضرورت تھی۔اداکارہ کو قریبی دوست فرانسیا راسا نے گردے کا عطیہ کیا تھا۔اب گردے کےعطیے کو5 ماہ گزرنے کے بعد سلینا گومز کی دوست فرانسیا راسا نے اس حوالے سے اہم انکشاف کیا ہے۔امریکی فیشن ’ڈبلیو‘ میگزین کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں سلینا گومز کی 25 سالہ دوست فرانسیا راسا نے انکشاف کیا کہ جب انہوں نے اپنی دوست کو گردہ عطیہ کیا تو دونوں مرتے مرتے بچیں۔فرانسیا راسا نے وضاحت کی کہ سرجری کے چند گھنٹے تک نہ تو وہ کوئی چیز کھانے کے قابل تھیں اور نہ ہی کچھ پی سکتی تھیں۔

ان کے مطابق اس دوران انہیں سلینا گومز کی جانب سے موبائل میسیج ملا کہ وہ اس سرجری کے بعد خوفزدہ ہیں۔فرانسیا راسا کے مطابق اگرچہ وہ کئی گھنٹوں تک کھانے پینے کے قابل نہیں تھیں، تاہم ایسی ہی حالت سلینا گومز کی بھی تھی اور ان کو لگ رہا تھا کہ وہ دنوں مر جائیں گی۔فرانسیا راسا کا کہنا تھا کہ سرجری کے 5 گھنٹے بعد ان کی طبیعت مزید بگڑ گئی تو انہیں ایمرجنسی میں آپریشن تھیٹر میں لے جایا گیا، سلینا گومز کی ایک ٹانگ کی نس بھی لی گئی۔ان کے مطابق سلینا گومزکی ٹانگ کی نس لی گئی جو دل اور گردوں کو خون فراہم کرنے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سلینا گومز کو منتقل کیا گیا ان کا گردہ صحیح کام کر رہا تھا، مگر ان کے جسم سے گردہ نکلنے کے بعد ان میں خون کی کمی ہوگئی، جس وجہ سے سلینا گومز کو منتقل کیے گئے ان کے گردے سے منسلک نس سے خون نکالا گیا۔فرانسیا راسا نے فیشن میگزین کو گردہ عطیہ کرنے سے پہلے اور بعد کی زندگی سے متعلق بھی بتایا اور اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ ان کی وجہ سے ان کی دوست کی زندگی بچ گئی۔ان کا کہنا تھا کہ گردہ عطیہ کرنے سے قبل سلینا گومز پریشان تھیں، کیوں کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ ڈونر ملنے میں 7 سے 10 سال بھی لگ سکتے ہیں۔

فرانسیا راسا نے بتایا کہ اپنی دوست کی پریشانی دیکھ کر انہوں نے سلینا گومز کو گردہ عطیہ کرنے کی پیش کش کی، جس کے بعد دونوں نے کئی ماہ تک ٹیسٹ کروائے، تاکہ یہ دیکھا جائے کہ ان کا گردہ گلوکارہ کو منتقل کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔فرانسیا راسا نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ ان کے ٹیسٹ کامیاب گئے اور انہوں نے اپنی دوست کو گردہ عطیہ کیا۔انہوں نے بتایا کہ گردہ عطیہ کرنے کے 5 ماہ بعد وہ مکمل صحت یاب ہیں اور انہوں نے ڈانس کی کلاسیں لینا شروع کردی ہیں۔فرانسیا راسا کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایک نئے مرد ساتھی کو تلاش کرلیا ہے، جو ان کے پہلے دوست سے بھی زیادہ خوبصورت ہے۔فرانسیا راسا نے اپنے طویل انٹرویو میں اپنے فلمی و ٹی وی کیریئر سے متعلق بھی بات کی۔ نیو یارک : گزشتہ برس کے آخر میں امریکی پاپ گلوکارہ ماڈل و اداکارہ سلینا گومز نے یہ انکشاف کیا تھا کہ ان کے گردے کی سرجری ہوئی ہے اور انہیں ایک قریبی دوست نے کڈنی عطیہ کی ہے۔سلینا گومز نے یہ خبر اگرچہ انسٹاگرام کے ذریعے اپنے مداحوں سے شیئر کی تھی تاہم انہوں نے یہ خبر سرجری کے کافی وقت کے بعد بتائی۔

سلینا گومز نے یہ خبر بتاتے ہوئے ہسپتال میں دوران سرجری کھینچی گئی تصویر شیئر کرتے ہوئے اپنی بیماری کی بھی وضاحت کی تھی۔سلینا گومز کا کہنا تھا کہ انہیں طویل وقت سے لیپس نامی بیماری کا سامنا تھا۔واضح رہے کہ یہ بیماری جلد کا تپ و دق یا لیپس کہلاتی ہے، اس مرض میں انسان کا جسمانی دفاعی نظام غلطی سے صحت مند خلیات کو اپنا دشمن سمجھ کر حملہ آور ہوتا ہے، جس کے باعث جسم کا کوئی بھی حصا متاثر ہوسکتا ہے، جیسے جلد، ہڈی و جوڑ، گردے اور دیگر انسانی اعضاء وغیرہ۔اس بیماری کے باعث سلینا گومز کےگردے فیل ہوگئے تھے اور انہیں ایک گردے کی ضرورت تھی۔اداکارہ کو قریبی دوست فرانسیا راسا نے گردے کا عطیہ کیا تھا۔اب گردے کےعطیے کو5 ماہ گزرنے کے بعد سلینا گومز کی دوست فرانسیا راسا نے اس حوالے سے اہم انکشاف کیا ہے۔امریکی فیشن ’ڈبلیو‘ میگزین کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں سلینا گومز کی 25 سالہ دوست فرانسیا راسا نے انکشاف کیا کہ جب انہوں نے اپنی دوست کو گردہ عطیہ کیا تو دونوں مرتے مرتے بچیں۔فرانسیا راسا نے وضاحت کی کہ سرجری کے چند گھنٹے تک نہ تو وہ کوئی چیز کھانے کے قابل تھیں اور نہ ہی کچھ پی سکتی تھیں۔

ان کے مطابق اس دوران انہیں سلینا گومز کی جانب سے موبائل میسیج ملا کہ وہ اس سرجری کے بعد خوفزدہ ہیں۔فرانسیا راسا کے مطابق اگرچہ وہ کئی گھنٹوں تک کھانے پینے کے قابل نہیں تھیں، تاہم ایسی ہی حالت سلینا گومز کی بھی تھی اور ان کو لگ رہا تھا کہ وہ دنوں مر جائیں گی۔فرانسیا راسا کا کہنا تھا کہ سرجری کے 5 گھنٹے بعد ان کی طبیعت مزید بگڑ گئی تو انہیں ایمرجنسی میں آپریشن تھیٹر میں لے جایا گیا، سلینا گومز کی ایک ٹانگ کی نس بھی لی گئی۔ان کے مطابق سلینا گومزکی ٹانگ کی نس لی گئی جو دل اور گردوں کو خون فراہم کرنے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سلینا گومز کو منتقل کیا گیا ان کا گردہ صحیح کام کر رہا تھا، مگر ان کے جسم سے گردہ نکلنے کے بعد ان میں خون کی کمی ہوگئی، جس وجہ سے سلینا گومز کو منتقل کیے گئے ان کے گردے سے منسلک نس سے خون نکالا گیا۔فرانسیا راسا نے فیشن میگزین کو گردہ عطیہ کرنے سے پہلے اور بعد کی زندگی سے متعلق بھی بتایا اور اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ ان کی وجہ سے ان کی دوست کی زندگی بچ گئی۔ان کا کہنا تھا کہ گردہ عطیہ کرنے سے قبل سلینا گومز پریشان تھیں، کیوں کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ ڈونر ملنے میں 7 سے 10 سال بھی لگ سکتے ہیں۔

فرانسیا راسا نے بتایا کہ اپنی دوست کی پریشانی دیکھ کر انہوں نے سلینا گومز کو گردہ عطیہ کرنے کی پیش کش کی، جس کے بعد دونوں نے کئی ماہ تک ٹیسٹ کروائے، تاکہ یہ دیکھا جائے کہ ان کا گردہ گلوکارہ کو منتقل کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔فرانسیا راسا نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ ان کے ٹیسٹ کامیاب گئے اور انہوں نے اپنی دوست کو گردہ عطیہ کیا۔انہوں نے بتایا کہ گردہ عطیہ کرنے کے 5 ماہ بعد وہ مکمل صحت یاب ہیں اور انہوں نے ڈانس کی کلاسیں لینا شروع کردی ہیں۔فرانسیا راسا کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایک نئے مرد ساتھی کو تلاش کرلیا ہے، جو ان کے پہلے دوست سے بھی زیادہ خوبصورت ہے۔فرانسیا راسا نے اپنے طویل انٹرویو میں اپنے فلمی و ٹی وی کیریئر سے متعلق بھی بات کی۔

I’m very aware some of my fans had noticed I was laying low for part of the summer and questioning why I wasn’t promoting my new music, which I was extremely proud of. So I found out I needed to get a kidney transplant due to my Lupus and was recovering. It was what I needed to do for my overall health. I honestly look forward to sharing with you, soon my journey through these past several months as I have always wanted to do with you. Until then I want to publicly thank my family and incredible team of doctors for everything they have done for me prior to and post-surgery. And finally, there aren’t words to describe how I can possibly thank my beautiful friend Francia Raisa. She gave me the ultimate gift and sacrifice by donating her kidney to me. I am incredibly blessed. I love you so much sis. Lupus continues to be very misunderstood but progress is being made. For more information regarding Lupus please go to the Lupus Research Alliance website: www.lupusresearch.org/ -by grace through faith

A post shared by Selena Gomez (@selenagomez) on