شام کے مہاجرین ملک واپس مت لوٹیں کیونکہ ۔۔۔ اقوام متحدہ نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

نیویارک: اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے کہاہے کہ شام کی صورت حال فی الحال اس قابل نہیں کہ مہاجرین واپس اپنے گھروں کو لوٹ سکیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق عالمی ادارے کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہاگیاکہ،شام میں اب بھی حالات خطرناک اور غیرمحفوظ ہونے کا پتا دے رہے ہیں

اور ایسی صورت حال میں مہاجرین کی واپسی کی بات کرنا، قبل از وقت ہے۔ عالمی ادارہ برائے مہاجرین کے سربراہ فلیپو گرانڈی نے لبنانی دارالحکومت بیروت میں ایک کانفرنس میں کہاکہ ہمارے سروے کے مطابق لبنان میں موجود شامی مہاجرین میں سے قریب89 فیصد وہ ہیں، جو شام واپس جانا چاہتے ہیں، تاہم قریب ان تمام کا کہنا ہے کہ ایسا فوری طور پر ممکن نہیں۔گرانڈی کے مطابق شام کے بعض حصے کسی حد تک پرامن ہو چکے ہیں، تاہم فی الحال مہاجرین کی واپسی کی بات کرنا قبل از وقت ہے۔ ہمیں دیکھنا چاہیے کہ آگے کیا ہونے والا ہے؟ ادلب میں کیا ہونے جا رہا ہے؟ جنوب میں کیا ہونے جا رہا ہے؟ عفرین میں کیا ہونے جا رہا ہے؟ کرد اکثریتی علاقوں میں کیا ہونے جا رہا ہے؟یہ تمام علاقے انتہائی غیریقینی صورت حال کا شکار ہیں اور لوگ ان حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔جبکہ شامی حکومت نے کہا ہے کہ مشرقی غوطہ میں کوئی کیمیائی ہتھیار استعمال نہیں ہوئے۔ غیرملکی میڈیاکے مطابق ترجمان شامی حکومت نے کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ مشرقی غوط میں پھنسے افراد کے انخلاء کے لیے دوسرا متبادل راستہ کھول دیاگیا ہے،
ایسے ہتھیاروں کا کوئی جواز نہیں ہے۔

واضح رہے کہ مشرقی غوطہ میں شامی فوج کے حملوں میں تیز ی اا گئی،شامی فورسز کی پیش قدمی جاری ہے،فوج نے باغیوں کے زیر اثر آدھے علاقے پر قبضہ کر لیا ہے جبکہ حملوں میں جاں بحق افراد کی تعدادایک ہزار سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔واضح رہے کہ شام کے علاقے مشرقی غوطہ میں دو ہفتوں سے جاری حکومتی بمباری میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جب کہ 4 ہزار سے زائد افراد زخمی ہیں۔طبی امداد فراہم کرنے والی تنظیم ایم ایس ایف کے مطابق 18 فروری سے جاری بمباری میں اب تک ایک ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں۔ ان حملوں میں 15 کے قریب طبی یونٹس اور شیلٹرز بھی تباہ ہوگئے ہیں جس کے باعث 4 ہزار سے زائد زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی تعطل کا شکار ہے۔جنگ زدہ علاقوں میں طبی سہولیات فراہم کرنے والی تنظیم ڈاکٹرز ود آئوٹ بارڈرز نے بین الااقوامی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ گزشتہ روز عالمی ادارے ریڈ کراس کے 13 امدادی ٹرک مشرقی غوطہ کے متاثرہ علاقے پہنچے تاہم اس دوران شیلنگ اور بمباری بھی جاری رہی جس کے باعث پناہ گزینوں کو طبی امداد اور کھانے پینے کی اشیا تقسیم نہیں ہو سکی تھی۔مشرقی غوطہ میں جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے عالمی قوتوں نے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا تاہم اس پر عمل در آمد نہیں ہوسکا ہے جب کہ بمباری کے باعث معصوم بچوں کی ہلاکتوں پر اقوام متحدہ کی جانب سے بطور احتجاجاً ’خالی اعلامیہ‘ بھی جاری کیا تھا۔