punjab police

لاہور پولیس کے حوالے سے شرمناک انکشاف : تھانوں کے ایس ایچ اوز کی اوپر کی کمائی کا سب سے بڑا ذریعہ کیا ؟ خبر نے اعلیٰ حکام کو تشویش میں مبتلا کر دیا

لاہور محکمہ پولیس میں پولیس آرڈر 2002ء پر عملدرآمد نہ ہوسکا، ایس ایچ اوز کی تعیناتی میں بڑے پیمانے پر قانون اور ضابطہ کو پس پشت ڈال دیا گیا، پولیس کلچر میں تبدیلی خواب بن گیا، کرپشن بڑھ گئی ،کرائم میں 60 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔’’روزنامہ پاکستان‘‘ کو محکمہ پولیس کے ذرائع نے بتایا کہ پولیس آرڈر 2002ء پر عملدرآمد اور

پولیس کلچر میں تبدیلی کے حوالے سے خفیہ اداروں نے ایک رپورٹ تیار کی ہے جو ہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو پیش کی گئی ہے، رپورٹ میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ لاہور سمیت پنجاب بھر کے تھانوں میں پولیس ایس ایچ اوز کی تعیناتی میں قواعد و ضوابط کو نظر انداز کیا جارہا ہے، بالخصوص لاہور کے 86 تھانوں میں سے 62 تھانوں میں وزراء، ارکان اسمبلی، اعلیٰ پولیس افسروں اور بیورو کریٹس کے قریبی عزیز و اقارب اور ان سے تعلق رکھنے والے انسپکٹرز اور سب انسپکٹرز کو ایس ایچ اوز تعینات کیا گیا اور پولیس آرڈر 2002ء کی کھلم کھلی خلاف ورزی کی جارہی ہے جس سے پولیس کلچر کی تبدیلی کا عمل نا ممکن بن کر رہ گیا ہے، ا یہی وجہ ہے کہ کرپشن نے جنم لیا ہے، اور اس سے کرائم کی شرح میں 60 سے 65 فیصد اضافہ ہوا ہے جس سے امن و امان کی ناقص صورتحال بالخصوص ڈکیتی اورسٹریٹ کرائم جیسے سنگین واقعات میں حیرت انگیز حد تک اضافہ ہواہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے وزیراعلیٰ پنجاب کے حکم پر خفیہ اداروں کی تیار کردہ رپورٹ میں تھانوں میں تعینات ایس ایچ اوز کو پولیس آرڈر 2002ء پر عمل درآمد اور پولیس کلچر میں تبدیلی کی سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے شہر کے 86 تھانوں میں سے 62 تھانوں میں سفارشی

اور بااثر ایس ایچ اوز کی تعیناتی ہونے کا ذکر کیا ہے، جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان تھانوں میں تعینات ایس ایچ اوز محکمہ پولیس کے کسی قانون اور ضابطہ کو ملحوظ خاطر نہیں رکھتے اور بااثر ہونے کے باعث ان کے سامنے ڈی آئی جی آپریشنز بھی مکمل طور پر بے بس ہیں،متذکرہ تھانوں میں تعینات ہونے والے ایس ایچ اوز کرائم کنٹرول کی بجائے محض ’’کمائی‘‘ کی طرف توجہ دے رہے ہیں ،بالخصوص 32 تھانوں میں بڑے پیمانے پرجرائم نے جنم لے رکھا ہے اور ان تھانوں کی حدود میں پراپرٹی کرائم کے صبح سے رات تک ریٹ طے ہورہے ہیں اور عام آدمی کی ان تھانوں میں رسائی ناممکن ہو کر رہ گئی ہے۔ بادامی باغ، شفیق آباد، شمالی چھاؤنی، فیکٹری ایریا، ساندہ، ہربنس پورہ، غازی آباد، شیراکوٹ، نواں کوٹ، کاہنہ، لیاقت آباد، لوئر مال اور شاہدرہ سمیت 32 تھانوں میں سفارشی ایس ایچ اوز تعینات ہیں اور ان کی تعیناتی میں پولیس آرڈرز 2002ء کو پس پشت ڈال دیاگیا ہے۔پولیس آرڈر 2002ء کے تحت جہاں ایک تھانہ میں تین سال تک تعیناتی رکھ کر اُس کی کارکردگی کو چیک کرنے کا حکم دے رکھا گیا ہے۔ وہاں سفارش کی بجائے میرٹ پر ایس ایچ اوز کی تعیناتی کا بھی حکم واضح طور پر دیا گیا ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ خفیہ رپورٹ پر

لاہور پولیس کے حکام سے رپورٹ طلب کر لی گئی ہے اور بڑے پیمانے پر محکمانہ کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ اس حوالے سے ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر حیدر اشرف کا کہنا ہے کہ ایس ایچ اوز کی تعیناتی کے حوالے سے تین ایس پیز پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ اس کمیٹی کی سفارش پر ایس ایچ اوز کو تعینات کیا جاتا ہے تاہم محکمانہ شکایت پر ایس ایچ او کو تبدیل کیا جاتا ہے جبکہ مبینہ کرپشن اور اختیارات سے تجاوز پر محکمانہ کارروائی بھی کی جاتی ہے، اس میں پولیس آرڈر 2002ء کو مکمل طور پر ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے۔