سپریم کورٹ کی ڈیڈ لائن ختم: دوہری شہریت کیس میں رحمان ملک بری طرح پھنس گئے ،عدالت سے تا زہ ترین خبر آ گئی

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے پیپلزپارٹی کے رہنما رحمان ملک کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا۔نجی نیوز کےمطابق سپریم کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ عدالتی حکم کےباوجود رحمان ملک نے دہری شہریت کیس میں مراعات واپس نہیں کیں جب کہ عدالت نے انہیں 15 دن میں مراعات

واپس کرنے کا حکم دیا تھا۔دوران سماعت عدالت نے کہا کہ رحمان ملک کے خلاف آبزرویشن دی، انہوں نے عدالت کے کہنے کے باوجود مراعات واپس نہیں کیں لہٰذا انہیں توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا جاتا ہے۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے عدلیہ مخالتف تقرریر پر مسلم لیگ (ن) کے رہنما نہال ہاشمی کو بھی ایک بار پھر توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا اور ان پر فرد جرم کی تاریخ بھی مقرر کردی گئی ہے۔یاد رہے سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم نوازشریف، شہباز شریف اور کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف توہین عدالت کی درخواست خارج کردی گئی۔مناسب وقت آئے گا تو کیس مقرر کریں گے، چیف جسٹس۔نجی نیوزکے مطابق سپریم کورٹ میں سابق وزیراعظم نوازشریف، وزیراعلی پنجاب شہباز شریف اورکیپٹن (ر) صفدر کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نوازشریف، شہبازشریف، کیپٹن (ر) صفدر کی توہین عدالت کی درخواست کردی۔سماعت کے دوران درخواست گزارنے موقف اختیارکیا تھا کہ معززعدالت کا فیصلہ آیا تو نوازشریف جلوس کی شکل میں روانہ ہوا، ہر جگہ نوازشریف عدالت کے فیصلے پرتقریرکرتے رہے، کہا گیا ہے یہ احتساب نہیں مذاق ہے،

نوازشریف نے جے آئی ٹی پرتنقید کی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جوبیانات آپ بتارہے ہیں وہ جے آئی ٹی سے متعلق ہیں
ہمارے پاس مختلف بیانات موجود ہیں، مناسب وقت آئے گا تو کیس مقرر کریں گے، دیکھنا ہے مستقبل میں اپنی نسل کو کیا دے رہے ہیں.دوسری جانب عدالت نے دانیال عزیز، طلال چوہدری، خواجہ سعد رفیق، نیربخاری، فردوس عاشق اعوان اور یوسف رضا گیلانی کے خلاف بھی توہین عدالت کی درخواست غیرمؤثر قرار دے کرنمٹادیں۔یاد رہے ایک اور خبر کے مطابق توہین عدالت کیس میں وفاقی وزیر دانیال عزیز کے خلاف آج فرد جرم عائد کی جائے گی۔جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 3 رکنی بینچ دانیال عزیز کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کرے گا۔توہین عدالت کیس میں سپریم کورٹ نے دانیال عزیز کی جانب سے جمع کرایا گیا جواب غیرتسلی بخش قرار دیتے ہوئے ان پر فرد جرم عائد کرنے کے لئے آج کی تاریخ مقرر کی تھی۔دانیال عزیز نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ درخواست گزار پاکستان کے آئین کی بالادستی پر یقین رکھتا ہے اور کبھی ریاستی اداروں کی توہین و تضحیک کا سوچ بھی نہیں سکتا۔یاد رہے کہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ٹی وی ٹاک

شوز کے دوراندانیال عزیز کے عدلیہ مخالف بیانات پر 2 فروری کو توہین عدالت کا ازخودنوٹس لیتے ہوئے بنچ تشکیل دیا تھا۔ یاد رہے سپریم کورٹ نے توہین عدالت کیس میں وفاقی وزیر دانیال عزیز پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے 13 مارچ کی تاریخ مقررکی تھی ۔توہین عدالت کیس میں دانیال عزیز کی جانب سے گزشتہ روز جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا تھا کہ رخواست گزار پاکستان کے آئین کی بالادستی پر یقین رکھتا ہے اور کبھی ریاستی اداروں کی توہین و تضحیک کا سوچ بھی نہیں سکتا۔دانیال عزیز نے اپنے جواب میں عدالت سے استدعا کی کہ سپریم کورٹ دیا گیا شو کاز نوٹس واپس لے۔کیس کی سماعت۔سپریم کورٹ میں جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں جسٹس مشیر عالم اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل پر مشتمل تین رکنی بینچ نے وفاقی وزیر نجکاری دانیال عزیز کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کی۔دوران سماعت دانیال عزیز کے وکیل علی رضا ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل کے بیان سے متعلق شائع ہونے والی خبرغلط ہے، اس دن شائع ہونے والی دیگر رپورٹس بھی مختلف ہیں۔علی رضا ایڈووکیٹ نے اپنے دلائل میں کہا کہ ان کے مؤکل عدالت کا انتہائی احترام کرتے ہیں، ان کے کمنٹس جعلی ہیں اور اس حوالے سے خبر اور پریس کانفرنس میں فرق واضح ہے۔