ڈپٹی چیئرمین کا الیکشن ہارنے والے امیدوار عثمان کاکڑ بھی میدان میں آ گئے ، شکست کی کیا وجہ بتادی ؟ جانیے

اسلام آباد : پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ سیاست میں ایک خفیہ ادارہ مسلسل مداخلت کر رہا ہے جو ملک فیڈریشن اور پارلیمان کے لیے نیک شگون نہیں زہر قاتل ہے، پارلیمان کی بالادستی ، جمہوریت کے استحکام ، آئین کی حکمرانی کیلئے
خفیہ اداروں کی سیاست میں مداخلت کو بند کرنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو متحد ہونا چاہیے ۔

عثمان کاکڑ نے کہا کہ خفیہ ادارہ سیاست عوام کے لیے چھوڑ دے اور اپنے کام سے کام رکھے، آئین میں ترمیم اور اضافہ عدلیہ کا نہیں پارلیمان کا کام ہے اور پارلیمان ہی نے کرنا ہے پارلیمان کی بالادستی کے لیے پھانسی بھی قبول کریں گے انہوں نے سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی وجہ سے ایوان کی عزت و وقار میں اضافہ وہا ہے اور جمہوری قوتوں کو اس پر فخر ہے پاکستان میں مارشل لاء کے خلاف لوگوں نے شہادتیں دی ہیں لوگ سن لیں سول مارشل لاء بھی قبول نہیں کریں گے جو درپردہ بھی یہ کام کر رہے ہیں ہماری آنکھیں سب دیکھ رہی ہین پشتون ،بلوچ، سندھی اور پنجابیوں کا فیڈریشن ہے ہمیں غلام نہ سمجھا جائے خدا کے بعد عوام کی طاقت خدا کی طاقت ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاست اور پارلیمان میں ایک خفیہ ادارہ مسلسل مداخلت کر رہا ہے جو ملک، فیڈریشن اور پارلیمان کے لیے نیک شگون نہیں ہے اور یہ زہر قاتل ہے اور یہ لوگ تاریخ کے ذمہ دار ہوں گے یہ لوگ
جمہوریت اور پارلیمان کو شکست دینا چاہتے ہیں سن لو، جمہوریت کو بچانے کے لیے جان کی بھی پرواہ نہیں کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ خفیہ اداروں نے ملک کے اندر محاذ کھولا ہوا ہے

ساری سیاسی جماعتیں اس کے خلاف اکٹھی ہو جائیں پارلیمان کی بالادستی جمہوریت کے استحکام، آئین کی حکمرانی اور خفیہ اداروں کی سیاست میں مداخلت کو بند کرنے کے لیے تمام جماعتوں کو متحد ہونا پڑے گا ۔یاد رہے چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے لئے حکمراں اتحاد کو جتنے ووٹ ملنا تھے اتنے مل نہ سکے جب کہ (ن) لیگ کی خاتون سینیٹر نے پیپلز پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دینے کا اعتراف کرلیا۔بلوچستان سے مسلم لیگ (ن) کی سینیٹر کلثوم پروین نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے اپنی جماعت کے امیدوار کو ووٹ نہیں دیا۔ کلثوم پروین کے مطابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے لیے انہوں نے پیپلز پارٹی کے امیدوار سلیم مانڈوی والا کو ووٹ دیا ہے۔حکمراں اتحاد کے راجا ظفرالحق نے چیئرمین سینیٹ کے لئے 46 ووٹ حاصل کیے جبکہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے انتخاب سے قبل 53 ووٹ حاصل کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے لئے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والے عثمان کاکڑ حکمراں اتحاد کے امیدوار تھے جنہیں 44 ووٹ ملے جب کہ ان کے مقابلے میں اپوزیشن اتحاد کے امیدوار سلیم مانڈوی والا نے 54 ووٹ حاصل کیے۔ امیدوار تھے جنہیں 44 ووٹ ملے جب کہ ان کے مقابلے میں اپوزیشن اتحاد کے امیدوار سلیم مانڈوی والا نے 54 ووٹ حاصل کیے۔