فحش فلم کی ریکارڈنگ کے دوران فحش اداکارہ کے ساتھ جنسی زیادتی، لیکن کیسے۔۔جس نے سنا ۔۔وہ چونک اٹھا

لاس اینجلس جنسی زیادتی کا جرم کسی بھی وقت اور کہیں بھی رونما ہو سکتا ہے لیکن فحش فلم کی ریکارڈنگ کرواتی ہوئی اداکارہ کے ساتھ جنسی زیادتی ہونے کا واقعہ پہلی بار سامنے آیا ہے۔ یہ بدقسمت اداکارہ 36 سالہ نکی بینز ہے، جس کے وکیل نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹویٹر پر پوسٹ کی گئی دستاویزات میں بتایا ہے کہ فلم کی ریکارڈنگ کے

دوران ڈائریکٹر نے اداکارہ کی اجازت کے بغیر زبردستی تعلق استوار کر کے اسے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ اس دوران نکی کا ساتھی اداکار ریمن نومار بھی ایسی حرکات کرنے لگا جو سکرپٹ میں طے نہیں کی گئی تھیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ ڈائریکڑ اور ساتھی اداکار نے مل کر اداکارہ کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔ اس کے سر پر مکے مارے گئے اور اسے پانی میں ڈبویا گیا جبکہ وہ مسلسل چیخ چیخ کر کیمرہ بند کرنے کو کہہ رہی تھی۔ڈیلی سٹار کے مطابق کینیڈا سے تعلق رکھنے والی نکی کا کہنا ہے کہ اس کے ساتھ یہ واقعہ 2016ءمیں پیش آیا اور انہوں نے ڈائریکٹر ٹونی ٹی اور ساتھی اداکار ریمن نومار کے خلاف مقدمہ بھی درج کروایا تھا۔ ڈائریکٹر اور ساتھی اداکار نے نکی کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے الٹا اس کے خلاف ہتک عزت کا جوابی مقدمہ درج کروادیا تھا۔ فحش فلموں کی کمپنی بریزرز نے نکی کے الزامات سامنے آنے کے بعد ٹومی ٹی اور نومار ریمن کو برطرف کردیا تھاتاہم گزشتہ ہفتے نکی نے اداکار اور ڈائریکٹر کے ساتھ فلم کمپنی بریزرز کے خلاف بھی مقدمہ درج کروادیا ہے۔ نکی کاکہنا ہے کہ وہ 45 منٹ کی فحش فلم کا حصہ تھی لیکن اس کے ساتھ جو کچھ کیا گیا اس کا سکرپٹ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ دیگر تشدد کے علاوہ اس کے منہ میں انڈرویئر ٹھونس کر اسے پانی میں بھی ڈبویا گیا جس کے باعث وہ مرتے مرتے بچی۔ اداکارہ نے اپنے خلاف ہونے والے مظالم کے عوض 5ملین ڈالر (تقریباً 50 کروڑ پاکستانی روپے) ہرجانے کا دعویٰ کر دیا ہے۔