لاہور سے بڑی بریکنگ نیوز : تحریک انصاف کے رہنما علیم خان کی گرفتاری ۔۔۔سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دینے والی خبر آگئی

لاہور:ہائیکورٹ نے نیب کو تحریک انصاف کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر علیم خان کو بغیر وارنٹ گرفتار کرنے سے روک دیا اور علیم خان کو نیب کے ساتھ تعاون کرنے کی ہدایت کی۔ دو رکنی بنچ نے علیم خان کہ درخواست پر سماعت کی جس میںکی جانب سے ایک ہی معاملے پر چوتھی بار چھان بین کو چیلنج کیا گیا ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے نشاندہی کی کہ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے کوآرڈینیٹر مبشر جاوید نے علیم خان کے خلاف بے بنیاد درخواستیں دائر کیں ۔جس پر لاہور ہائیکورٹ نے مبشر جاوید کی شکایات پر عمل درآمد کو معطل کر دیا۔ علیم خان کے وکیل نے بتایا کہ ریور ایج ہاﺅسنگ سوسائٹی سے متعلق نیب تین مرتبہ انکوائری بند کر چکا ہے لیکن اسپیکر قومی اسمبلی کے کہنے پر بے بنیاد درخواستیں دائر کر کے انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جارہا ہے درخواستگزار وکیل نے اعتراض اٹھایا کہ نیب کو چوتھی بار ایک ہی معاملہ کی تحقیقات کرنے کا اختیار نہیں ہے۔نیب کے وکیل نے بتایا کہ علیم خان سے صرف ضروری دستاویزات اور معلومات طلب کی ہیں کوئی قانون کے برعکس احکامات جاری نہیں کئے گئے۔ ہائیکورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ درخواست گزار علیم قانون کے برعکس کسی کارروائی کیخلاف عدالت سے دوبارہ رجوع کر سکتے ہیں۔یاد رہے انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے جج سید کوثر عباس زیدی نے سرکاری ٹی وی اور پارلیمنٹ حملہ کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علیم خان کی عبوری ضمانت ایک لاکھ روپے مچلکوں کے عوض منظور کر لی ۔ جمعرات کو فاضل جج نے مقدمہ کی سماعت

کی تو علیم خان اپنے وکیل بابر اعوان ایڈووکیٹ کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے ۔ عدالت نے علیم خان کی عبوری ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا ہے جبکہ درخواست پر مزید سماعت 25 اپریل کو ہو گی ۔ واضح رہے کہ 25 اپریل کو ہی ہی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی بریت کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنایا جائے گا ۔دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کا کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف پر ہمیشہ یقین رکھتا ہوں لیکن میرے کیس میں یہ قابل اطلاق نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح سے متعلق فیصلہ آنے پر پی ٹی آئی رہنما جہانگیر ترین نے سماجی رابطہ سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا۔بذریعہ ٹوئٹ جہانگیر ترین نے کہا کہ انہوں نے ٹیکس ادائیگی سے متعلق مکمل ٹریل فراہم کی اور اپنی قانونی ٹیم کے مشورے سے نہ صرف اپنی جائیداد بلکہ بچوں کے اثاثے بھی ظاہر کیے۔جہانگیر ترین نے کہا کہ میری نظرثانی اپیل اب بھی التوا میں ہے اور انشاءاللہ انصاف ہوگا۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے جہانگیر ترین کو آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل قرار دیا تھا جب کہ اعلیٰ عدلیہ نے آج مذکورہ آرٹیکل کے تحت نااہلی کی مدت سے متعلق دائر 13 درخواستوں پر فیصلہ سنایا۔